واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اب امریکہ کے ساتھ 'ڈیل' کا خواہش مند ہے اور جاری مذاکرات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ 'مڈنائٹ ہیمر آپریشن' (Operation Midnight Hammer) کے بعد بھی ایران نے اپنی ایٹمی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں ترک نہیں کیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسے بلا جھجھک اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران مشرقِ وسطیٰ پر حملہ کر دے گا، لیکن اب اسے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کھولنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے روایتی سخت انداز میں نیٹو (NATO) کو 'کاغذی شیر' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں نے ضرورت کے وقت امریکہ کی مدد نہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کا یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے اور امریکہ اب اپنی سیکیورٹی ترجیحات خود طے کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اب ایران مشرقِ وسطیٰ میں کسی کو ہراساں کرنے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے ایران کو ایک ایسے معاہدے پر مجبور کر رہے ہیں جس کے بعد وہ خطے کے امن کے لیے خطرہ نہیں رہے گا۔
نیٹو 'کاغذی شیر' ، مڈنائٹ ہیمر آپریشن کے باوجود ایران نے ایٹمی کام جاری رکھا: صدر ٹرمپ
09:29 AM, 28 Mar, 2026