بھارتی سیکیورٹی حصار ٹوٹ گیا: میانمار سرحد پر ناگا باغیوں کا بڑا حملہ، آسام رائفلز کو بھاری جانی نقصان

12:57 PM, 28 Mar, 2026

نئی دہلی/چانگلانگ: بھارت کے شمال مشرقی خطے میں مودی سرکار کی سرحدی پالیسیوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، اروناچل پردیش کے ضلع چانگلانگ میں میانمار سرحد کے قریب ناگا علیحدگی پسندوں نے بھارتی فوج کے دستوں اور باڑ لگانے والی ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد بھارتی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق، یہ حملہ اس وقت ہوا جب بھارتی فوج کی نگرانی میں میانمار بارڈر پر حفاظتی باڑ (Fencing) لگانے کا کام جاری تھا۔ باغیوں نے جدید خودکار ہتھیاروں سے 'آسام رائفلز' کے اس دستے کو نشانہ بنایا جو فینسنگ ٹیم کی حفاظت پر مامور تھا۔ اچانک ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں بھارتی فوج کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اور باغی کامیاب کارروائی کے بعد قریبی جنگلات میں روپوش ہو گئے۔
حملے کے فوری بعد ناگا علیحدگی پسند گروپ نے اس کارروائی کی مکمل ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی بھارتی مداخلت اور سرحدی باڑ کو تسلیم نہیں کرتے۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے اس حملے کو بھارتی انٹیلی جنس کی ایک اور بڑی ناکامی قرار دیا ہے، کیونکہ باغیوں نے انتہائی حساس سیکیورٹی زون میں گھس کر یہ کارروائی انجام دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، اس حملے کے بعد میانمار سرحد پر فینسنگ کا کام غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔ علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور بھارتی فوج نے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم اب تک کسی بھی حملہ آور کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

مزیدخبریں