دیگر موضوعات کی طرح ہم پاکستانی مسلمانوں کا ایک محبوب موضوع یہ بھی ہے کہ اِسلام نے عورت کو جو عزت و وقار دِیا ہے وہ مغرب میں نظر نہیں آتا۔ مغرب میں عورت نہایت بے چاری ہے اَور ا±س کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے۔ اِس کے مقابلے میں ہمارےیہاں عورت بحیثیت ماں، بہن، بیٹی اَور بیوی کے نہایت عزت کی حامل ہے۔ ا±س کی تمام تر ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے اَور مرد یہ ذمہ داری نہایت خوبی سے نبھا رہے ہیں۔ اِس کے برعکس مغرب میں عورت خود کماتی ہے، خود کھاتی ہے۔ وہاں ا±سے مرد کے برابر درجہ بھی نہیں دیا جاتا جبکہ ہمارے یہاں ا±سے مرد سے بڑھ کر عزت دی جاتی ہے۔
اِن سب باتوں کو سننے اَور پڑھنے کے بعد جب میں اخبارات پڑھتا ہوں تو مجھے اِس قسم کی خبریں تقریباً روز نظر آتی ہیں۔ اَپنی مرضی کی شادی کرنے پر باپ نے بیٹی کو گولی مار کر قتل کرڈالا، شوہر نے بدچلنی کے شبہ میں بیوی کو کلہاڑیاں مار مار کے قتل کردیا، سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر بھائی نے غیرت میں آکر بہن کو مار ڈالا، ناجائز تعلقات کے شبہ میں بھائی نے بہن کو قتل کردیا، د±وسری شادی کرنے پر بیٹے نے غیرت میں آکر ماں کو مار ڈالا۔ پھر جرگے کاروکاری کی سزا کے طور پر لوگوں کو کسی عورت کی عزت لوٹنے کی سزا بھی سناتے ہیں۔ باپ پیسے لے کر اپنی تیرہ سال کی بیٹی کی شادی ساٹھ سال کے مرد سے بھی کردیتے ہیں۔ ہمارے محلے میں ایک باپ نے اپنی مرضی کی شادی کرنے پر اَپنی بیٹی کو قتل کردیا تھا۔ وہ تو داماد کو بھی قتل کرنا چاہتا تھا لیکن وہ بچ کر بھاگ گیا۔
یہ واقعات یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے یہاں عورت کی حیثیت اب بھی زرخرید لونڈی یا کنیز کی ہے۔ مرد اَپنے آپ کو عورت کا مالک سمجھتا ہے۔ اِس سوچ کو ا±س نے کسی نہ کسی طرح مذہب کا لبادہ ا±ڑھایا اَور ا±س پر معاشرتی اقدار کی پھول بوٹیاں بنائیں اَور ا±سے غیرت کا نام دے دیا۔ اَب غیرت ایک ایسا لفظ ہے جس کا مطلب ہر ایک کی نظر میں وہ ہے جو وہ ا±سے دینا چاہتا ہے۔ چنانچہ غیرت کے نام پر کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی انسان کی جان لی جاسکتی ہے اَور اِس قتل کو برا بھی نہیں سمجھا جاتا۔
پھر یہ کہ بیٹیوں، بہنوں، بیویوں کو جو فکری اَور عملی آزادی ملنی چاہیے تھی وہ بھی کم از کم ہمارے معاشرے میں نہیں ہے۔ سعودی عرب میں بھی آج سے کچھ عرصہ پہلے تک عورت کو کار چلانے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ محرم کے بغیر بازار سے جاکر سودا سلف بھی نہیں خرید سکتی تھی۔ افغانستان میں مردوں نے ہی عورتوں کی تعلیم پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ گویا وہاں بھی عورت مرد کی لونڈی ہے جس کے حال اَور مستقبل کے سارے فیصلے مردوں نے ہی کرنے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی سوچ آج بھی پائی جاتی ہے کہ گھر کی عورتوں کو باہرکے کسی کام میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ ا±نہوں نے کیا پڑھنا ہے، کتنا پڑھنا ہے، پڑھنا بھی ہے یا نہیں، نوکری کرنی ہے یا نہیں، کس سے شادی کرنی ہے اَور کس سے نہیں، یہ سب فیصلے مرد ہی کررہے ہوتے ہیں۔ یہ سوچ بھی عام پائی جاتی ہے کہ عورت دماغی لحاظ سے مر د سے کم تر ہے اِس لیے ا±س کے فیصلے مردوں کو ہی کرنے چاہئیں۔ یہ سوچ اِتنے عرصے سے مسلط ہے کہ اَب واقعی عورتیں اَپنے آپ کو مردوں سے کم تر مخلوق تصور کرتی ہیں۔ ا±نہیں یہ بتایا گیا ہے کہ شوہر کی مرضی کے خلاف وہ نفلی روزہ بھی نہیں رکھ سکتیں۔ شوہر کے لیے مجازی خدا کا لفظ ہمارے یہاں ہی اِیجاد ہوا ہے۔ قرآن اَور حدیث میں کسی جگہ شوہر کو مجازی خدا نہیں کہا گیا۔
اِن تمام چیزوں اَور فیصلوں کے پیچھے جب اِسلام کا نام لیا جاتا ہے تو عام کم پڑھا لکھا مسلمان تو سن کر چپ ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ واقعی اَیسا ہی ہوگا کہ عورت کم تر مخلوق ہے اَور دراصل مرد کی باندی ہے۔ غیر مسلم اِس پر ہمارے دین کا مذاق ا±ڑاتے ہیں۔ ا±نہیں یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اِسلام عورت کو مرد کے تابع دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ عورت کو مرد کے برابر ایک الگ مخلوق کے طور پر نہیں دیکھتا۔ یہ دراصل اِسلام ہے جس نے عورت کو دبا کر رکھا ہوا ہے۔ جن آیات یا احادیث کو مسلمان اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اِستعمال کرتے ہیں، ا±نہی کو غیرمسلم بھی اَپنی بات ثابت کرنے کے لیے اِستعمال کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو کسی اَور مرد کے ساتھ عین زنا کی حالت میں بھی دیکھ لے تو ا±سے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے اَور ا±س کے لیے لعان کا ایک پورا قانون مرتب کردیا گیا ہے۔ یہ قانون س±ورة النور کی آیات نمبر 6 سے 10 تک میں دے دیا گیا ہے۔ اِس میں شوہر کو بیوی اَور ا±س مرد کو وہیں پر قتل کردینے کی اِجازت نہیں دی گئی۔ ہمارے یہاں یہ قتل غیرت کے نام پر کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ نہ کرے اَور معاملہ عدالت میں لے جائے تو ا±س کے دوست احباب اَور رِشتے دار ا±س پر بے غیرت ہونے کا اِلزام لگا کر ا±س کا جینا محال کردیں گے۔ اِسی طرح عورتوں پر بدچلنی کا اِلزام لگانے اَور چار گواہ نہ لانے کی سزا اسی کوڑے مقرر کی گئی ہے۔ یہ بھی اِسی س±ورة النور میں آیا ہے (آیت نمبر 4)۔لیکن ہم جانتے ہیں ہمارے یہاں پاک دامن عورتوں پر بدچلنی کے اِلزامات عام لگائے جاتے ہیں۔ اِن کی بدترین شکل میں ا±س عورت کو قتل بھی کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر قتل نہ بھی ہو تو بھی ا±سے معاشرے میں بدنام ضرور کردیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ تو ہمارے محلے میں ہوا کہ چھوٹے بھائی نے بڑی بہن کو اِس لیے مارا کہ وہ گھر میں کھڑکی کھول کر ا±س کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ پھر ا±س نے بڑی بہن پر یہ اِلزام لگایا کہ وہ سکول میں اَپنے کلاس فیلو لڑکوں کے ساتھ دوستیاں کرتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ سب اِلزامات غلط تھے لیکن ا±س بھائی نے تو غیرت کا مظاہرہ کردیا اَور بڑی بہن پر ہاتھ بھی ا±ٹھا لیا۔ اِس طرح کے واقعات ہمارے یہاں ہر سطح پر، ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔
یہ سب یہ بتاتے ہیں کہ ہماری یہ سوچ کہ ہمارےیہاں عورت کی بہت عزت ہے، محض جھوٹ ہے۔ دراصل ہمارے ہاں عورت کی عزت ا±س وقت تک ہے جب تک وہ مرد کے ہر حکم پر بلا چون و چرا عمل کیے جائے۔ جہاں وہ اَپنی سوچ، اَپنی فکر، اَپنی پسند اَور ناپسند کا اِظہار کرے اَور ا±س پر زور دے، وہیں سے ا±س کی عزت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ پھر وہ پوری طرح سے لونڈی یا کنیز بن جاتی ہے۔ مرد کو پورا حق مل جاتا ہے کہ وہ ا±س سے جیسا چاہے سلوک کرے۔ ہمارے دینی علمائ، دانشور، اساتذہ اِس چیز پر مجرمانہ خاموشی اِختیار کیے ہوئے ہیں۔ اِس پر اگر بات ہوتی ہے تو میڈیا میں۔ لیکن میڈیا کو ہماری آدھی آبادی یوں بھی حرام سمجھتی ہے اَور ا±س کے خیال میں میڈیامیں کی جانے والی باتیں درخورِ اعتناءنہیں ہوتیں۔ لوگ منبر پر کی جانے والی باتوں کو توجہ سے سنتے ہیں۔ سکولوں میں اساتذہ کی بات کو بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اِن دونوں جگہوں پر یہ بات نہیں بتائی جاتی کہ عورت بھی مرد کی طرح ایک الگ مخلوق ہے۔ وہ پیدائشی طور پر مرد کی لونڈی نہیں ہے۔ اگر یہ بات بتائی جاتی تو ہمارے معاشرے کا یہ حال نہ ہوتا۔
اگر ہم نے واقعی د±نیاوی اَور ا±خروی ترقی کرنی ہے تو ہمیں اَپنی سوچ کو ایک بڑی سی آٹومیٹک واشنگ مشین میں ڈال کر اچھی طرح دھونے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے دِماغ بری طرح گندے ہوچکے ہیں۔ اِس گند کے ساتھ ہم کہیں نہیں پہنچ سکیں گے۔
لونڈیاں اَور کنیزیں
09:16 AM, 29 Mar, 2025