پہلی اذان کے نام

09:14 AM, 29 Mar, 2025

مکہ پہنچتے ہی جب پہلی اذان سنی تو مجھے حضرت بلالؓ ابن رباح کا اذان سے متعلق کہا ہوا تاریخ ساز واقعہ یاد آ گیا جو مجھے چشم تصور اور روحانی طور پر مجھے اس محفل میں لے گیا جہاں یہ تاریخی ساعتیں قیامت تک کے لیے گواہ بن رہی تھیں۔
بقول حضرت بلالؓ بن رباح مدینے میں ہماری مسجد سے بہتر بنی ہوئی کئی عمارتیں تھیں کہ ہم لوگ کون سے فن تعمیر کے ماہر تھے۔ ہمیں تو یہ عمارت ساری دنیا کی عمارتوں سے زیادہ اچھی لگتی تھی۔ کسے معلوم تھا کہ یہی مسجد ایک دن اسلامی تمدن اور ریاست کا سرچشمہ بنے گی۔ مسجد جس دن مکمل ہوئی ہم لوگ تھک ہار کے مسجد کے فرش پر بیٹھ کر آرام کرنے لگے۔ ہلکی ہلکی دھوپ چھپر پر پڑے ہوئے کھجوروں کے پتوں کے درمیان سے چھن چھن کر نیچے آ رہی تھی۔ سبز پتوں کا سایہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہا تھا۔ ہر شخص مسجد کی تعمیر کے مختلف مراحل پر اور ساخت کے مختلف پہلوو¿ں پر تبصرہ کر رہا تھا۔ سب بہت خوش تھے۔ اتنے میں جہاں تک مجھے یاد ہے علیؓ نے کہا: ”میرے خیال میں مسجد میں ایک کمی ہے“۔ سب اُن کی طرف متوجہ ہو گئے۔
انہوں نے اوپر چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”وہاں کچھ ہونا چاہیے۔ کچھ ایسا انتظام جس سے لوگوں کو نماز کے لیے بلایا جا سکے“۔ اس پر عمار ؓبولے:”میرے خیال میں ہم وہاں ایک جھنڈا لگا دیں۔ نماز کے وقت لگا دیا، پھر اُتار لیا“۔ اب سب اٹھ کر بیٹھ گئے اور گفتگو میں شامل ہو گئے۔ رسول کریم یہ سب گفتگو نہایت دلچسپی سے سنتے رہے مگر خود کچھ نہیں بولے۔ ان کا انداز ایسا تھا گویا وہ گفتگو میں شریک ہیں بھی اور نہیں بھی۔ جھنڈے، گھنٹیاں، نقارہ، قرنا کوئی بھی ان تجاویز سے پوری طرح مطمئن نہیں تھا۔ اتنے میں عبداللہ بن زیدؓ آہستہ آہستہ اپنی جگہ سے کھسکتے ہوئے آگے آئے۔ میں حضور اکرم کے پاس بیٹھا تھا۔ جب مجھے لگا کہ عبداللہؓ حضور کو کچھ کہنا چاہ رہے ہیں تو میں نے انہیں اپنی جگہ دے دی تا کہ وہ جو کہنا چاہ رہے ہیں، اطمینان سے کہہ لیں۔ انہوں نے نہایت دھیمی آواز سے کہا: ”یا رسول اللہﷺ میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ سبز کپڑے پہنے ہوئے ایک شخص ہاتھ میں ناقوس لیے جا رہا تھا۔ میں نے اُس سے کہا اے اللہ کے بندے کیا تم مجھے یہ ناقوس بیچ دو گے۔ اُس سبز پوش نے پوچھا کیا کرو گے اس کا....؟ میں نے جواب دیا اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاو¿ں گا۔ اس پر اس نے کہا نماز کے لیے بلانے کا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ بتاتا ہوں۔ تم یہ کہاکرو:
اللہ اکبر اللہ اکبر .... اللہ اکبر اللہ اکبر .... اشھد ان لا الہ الا اللہ .... اشھد ان لا الہ الا اللہ.... اشھد ان محمد رسول اللہ .... اشھد ان محمد رسول اللہ .... حی علی الصلوٰة .... حی علی الصلوٰة .... حی علی الفلاح .... حی علی الفلاح .... اللہ اکبر اللہ اکبر.... لا الہ الا اللہ
میں نے رسول اللہﷺ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس سے ایک دو روز قبل حضرت عمر فاروقؓ نے بھی اسی قسم کا خواب حضور کو سنایا تھا۔ یہ طے ہو گیا، اب سوال یہ تھا کہ یہ الفاظ کس انداز میں، کیسے ادا کیے جائیں گے۔ میٹھے لہجے میں، نرم لہجے میں، اعلانیہ انداز میں، کتنی زور سے، مرد کی آواز میں، عورت کی آواز میں، بچے کی آواز میں، کسی نوجوان کی آواز میں، کسی بزرگ کی آواز میں یا بیک وقت کئی لوگوں کی آواز میں! ”بلال تمہاری آواز میں“۔ حضور نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: ”عبداللہ تم بلال کو یہ الفاظ یاد کرا دو“۔ مسجد میں بیٹھے ہوئے سارے لوگوں کی نگاہیں مجھ پر تھیں۔ مجھ نا چیز سیاہ فام حبشی کے ذمہ یہ خدمت سپرد کی گئی تھی کہ میں مسلمانوں کو نماز کی سعادت کے لیے بلایا کروں۔ یہ خود میرے لیے کتنی بڑی سعادت تھی۔ پھر حضور کی آواز ابھری: ”بلال تمہاری آواز سب سے اچھی ہے۔ اسے اللہ کی راہ میں استعمال کرو“.... انہی باتوں میں نماز کا وقت ہو گیا تو اللہ کے رسول نے مجھے حکم دیا: ”جاو¿ اُس چھت پر چڑھ جاو¿ اور وہاں سے لوگوں کو نماز کے لیے بلاو¿“۔ جس چھت کی طرف انہوں نے اشارہ فرمایا تھا وہ مسجد سے ملحق بنو نجار کی ایک خاتون کے کچے گھر کی کچی چھت تھی۔ میں حسب حکم جوں توں کر کے اُس چھت پر چڑھ گیا۔ سب مجھے دیکھے جا رہے تھے۔ رسالت مآب تیسرے ستون کے پاس کھڑے تھے 
اُن کی نظریں بھی مجھ پر تھیں۔ پھر نبی کریم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور مجھے اس انداز سے اشارہ کیا گویا مجھے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر بلند کرنے کا کہہ رہے ہوں۔ اسی لمحے مجھے اپنی آواز سنائی دی۔ پہلے بہت دور سے اور پھر آہستہ آہستہ قریب آتی ہوئی۔
تمام عالم اسلام میں ہر روز پانچ دفعہ اذان کے یہ الفاظ فضا میں گونجتے ہیں بلکہ مختلف ملکوں میں طلوع و غروب کے اوقات کے فرق کی وجہ سے شاید ہی کوئی لمحہ ایسا ہو جب دنیا کے کسی نہ کسی حصے سے اذان کی آواز بلند نہ ہو رہی ہو۔ مگر یہ ہماری پہلی اذان تھی۔ میں اذان دے کر نیچے اُترا تو حضور نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ کہاں اللہ کا رسول اور کہاں ایک غلام زادہ۔ بلالؓ اپنی خوش قسمتی پر جتنا ناز کرتے کم تھا۔ چاروں طرف لوگ ادھر اُدھر آ جا رہے تھے۔ اذان کی آواز سن کر محلے کے بہت سے بچے اکٹھے ہو گئے تھے جنہوں نے مجھے چھت پر کھڑے دیکھا اور اب میری طرف اشارے کر کر کے ایک دوسرے سے کچھ کہہ رہے تھے۔ اُن کے لیے یہ ایک عجوبہ تھا۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ بہت دیر تک حضور نے کچھ نہیں فرمایا۔ میں بھی ایک عجیب سرور سے سرشار تھا۔ اتنے میں میں اُن کی آواز پر چونکا: ”بلال، تم نے میری مسجد مکمل کر دی“.... ان الفاظ پر میں نے وہیں شکرانے کے دو نفل ادا کیے۔ بلال حبشیؓ نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا تھا۔ لوگ اگر میرے بارے میں سب کچھ فراموش کر دیں، اور ویسے بھی میرے پاس یاد رکھے جانے کی کیا بات ہے مگر پھر بھی میں اسلام کے پہلے مو¿ذن کی حیثیت سے ہمیشہ یاد کیا جاو¿ں گا۔ سبحان اللہ
نوٹ: (مختلف مکاتب فکر کی متفقہ رائے ہے کہ اذان دینے کا اولین مشورہ بار گاہ رسالت مآب میں فاتح عرب و عجم امیر المومنین سیّدنا عمر فاروقؓ نے دیا تھا جسے شرف قبولیت بخشا گیا۔)
دراصل دنیا میں اِس سے پہلے اور اِس کے بعد بڑا انقلاب نہیں آیا جو آقا کریم کی قیادت میں دنیا کی تاریخ بنا۔ حضرت بلالؓ بن رباح سے اذان دلانا ہی بذات خود ایک انقلاب تھا۔ برابری، مساوات، سب انسان برابر اور فوقیت تقویٰ کے سبب کا اعلان تھا۔ حضرت بلالؓ بن رباح جن کے تن پر کپڑے بھی پورے نہ تھے کی آواز، اذان پر دولت مند، قوی، جری، بڑے حسب نسب والے، بے نام، مردِ میدان، غریب امیر سبھی آ رہے ہیں جب تک دنیا رہے گی اذان کی آواز پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں ہر وقت آتی رہے گی۔ جب تک دنیا رہے گی بلالؓ کی اذان رہے گی۔

مزیدخبریں