بھلائی، ہمدردی اور خیر خواہی کا حکم

09:13 AM, 29 Mar, 2025

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انجمن طلبہ اسلام کی کوکھ سے جنم لینے والی تنظیمات ہوں یا افراد انہوں نے اپنی بساطِ اور حیثیت سے بڑھ کر معاشرے میں شکوہِ ظلمت شب کے بجائے اپنی حصے کی شمع روشن کرنے کی جہد و جہد جاری رکھی ہے۔ انجمن طلبہ اسلام کی کوکھ سے جنم لینے والی فلاحی تحریک کا نام المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی ہے جو اپنے نام کی طرح معاشرے میں نور بانٹنے میں مصروف عمل ہے، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی نے ملکی تاریخ میں خدمت خلق کی نئی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ اپنی مدد آپ کے تحت کی جانے والی فلاحی سرگرمیاں کسی بھی زندہ معاشرے کی نشانی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کا یہ قاعدہ اور ضابطہ رکھا ہے کہ خدمت، نیکی، بھلائی، ہمدردی اور خیر خواہی کو عام کرنے کا حکم ہے انسانوں کی زندگی میں خدمت، بھلائی، خیر خواہی، ہمدردی عمومی جذبہ اور اسلوب بن جائے تو انسانی معاشرہ جنت نظیر ہو جاتا ہے۔ انسانی معاشرہ میں دولت کی تقسیم ایک جیسی نہیں، انسانوں کی اکثریت وسائل سے محروم اور انسانوں کے اندر ہی محدود طبقات کے پاس وسائل کی بہتاب ہوتی ہے۔ اسی لیے شریعت کا اصول یہی ہے کہ بخل اور تنگ دلی سے بچو اس لیے کہ یہ برائیوں کی جڑ اور بدیوں کی ماں ہے۔ اپنے اخلاق میں اللہ کا رنگ اختیار کرو جو ہر وقت اپنی مخلوق پر بے حد و حساب اپنے فیض و کرم کے دریا بہا رہا ہے۔ اہل ثروت کو حکم دیا گیا ہے کہ راہ خدا میں جو خرچ کر سکتے ہو کرو۔ اپنی ضرورتوں سے جتنا بچا سکتے ہو بچاو¿ اور اس سے خدا کریم کے دوسرے ضرورت مند بندوں کی ضرورتیں پوری کرو۔ رسول ضرورت مندوں اور مستحقین کے لیے سخاوت اور مدد کی بھی اعلیٰ صفات رکھتے تھے۔ آپ ؓ کی عطا و بخشش حد درجہ اعلیٰ مقام کی حامل تھیں۔ رسول اللہﷺ کے پاس حاجت مند آتے، آپ ؓسے مانگتے۔آپ سے اپنی ضرورتوں کا سوال کرتے، سیرت کے اوراق رہنمائی دیتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ نے روایت کیا ہے کہ آپ سے جب کسی چیز کا سوال کیا گیا تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے اس کے جواب میں سائل کو ناں کی ہو۔ آج کل ہر انسان اپنے لئے سوچتا ہے اور فکر معاش میں ارد گرد سے لا تعلق سا نظر آتا ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، فقر وفاقہ، بے چینی، بدامنی اور اضطراب میں بے انتہا اضافہ ہو گیا ہے، اس صورت حال نے بے شمار معاشرتی، اقتصادی، تہذیبی اور ثقافتی وتمدنی مسائل کو جنم دیا۔ اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ انسان کی ضروریات میں صحت، تعلیم، لباس اور طعام و قیام ہے، مگر بیش تر ان سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں قابل تحسین ہیں وہ لوگ جو دوسرے لوگوں کے دکھ درد سمیٹنے اور ان میں آسانیاں بانٹنے کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ دکھی انسانیت کی خدمت اور فلاحی کام میں حصہ لے کر معاشرے کی بہت بڑی خدمت کر رہے ہیں۔آج کے اس پُرفتن دور میں المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی بھی فلاحی کاموں میں کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ دوسروں کے لیے روشنی کی کرن ہیں، جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشاراپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ایسے درد دل رکھنے والے نوجوان معاشرے کی شان ہیں، وہ بے غرض ہو کر خدمت خلق کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اس کٹھن دور میں مثبت اور تعمیری سوچ کا ہونا بھی ایسا ہی ہے جیسے اندھیرے میں چراغ جلانا۔ایسے لوگ جو حاجت مند ہوں، جو معاشی واقتصادی طور پر بالکل تباہ حال ہوں، جو غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہوں اور جو تعلیم وعلاج سے محروم ہوں ۔ وہ لوگ جو اپنے وسائلِ سفر پر قادر نہ ہوں یا دورانِ سفر اس قابل نہ رہے ہوں، ان سب کے لئے رفاہِ عامہ کے نقطہ نظر سے اسلام نے مستقل نظام وضع کر دیا ہے۔غرض فقر و مسکنت اور غربت و مسافرت جیسی مجبوریوں اور معذوریوں کے انسداد کےلئے عہد رسالت مآب ﷺ دور خلافت راشدہ کی سماجی خدمات بھی تاریخ میں مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔آج جب کہ پوری دنیا، غربت و افلاس اور بدامنی و عدم سکون کا شکار ہے، مادیت کا غلبہ ہے جب کہ روحانیت مفقود ہے، ایسے حالات میں سماجی خدمت اور فاہِ عامہ کی بدولت انسانیت کی فلاح کے لئے کوشش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ابتدائے اسلام میں انسانیت کی بے لوث خدمات انجام دی گئیں حتیٰ کہ معاشرے کی تعمیرو ترقی کے لئے فلاحی سکیمیں اور اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس وقت ضرورت ہے کہ ہم اسلام کے فلاحی معاشرے کا ڈھانچہ انسانیت کے سامنے پیش کریں ،تاکہ ان اصولوں سے فائدہ اٹھا کر دکھی انسانیت کی جہدوجہد کو مزید تیز سے تیز تر کیا جاسکے۔اس سال المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی نے پاکستان بیت المال کے اشتراک سے جنوبی پنجاب کے 22 اضلاع ملتان،بہاولپور،ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف، وہاڑی، بورے والا، راجن پور، رحیم یار خان، پاک پتن شریف، عارف والا، مظفرگڑھ، لودھراں، لیہ، کروڑ لال عیسن، شجاع آباد،بہاول نگر،چشتیاں، خانیوال، جہانیاں، کبیر والا، صادق آباد، خان پور اور دیگر اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر 25 ہزار سے زائد افراد میں افطار باکس کی تقسیم کا سلسلہ یکم رمضان سے لے کر 27 رمضان تک جاری رکھا۔جس میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد افطار باکس تقسیم ہوئے۔ جس کی 
قیادت مصطفائی تحریک پاکستان کے امیر جناب غلام مرتضیٰ سعیدی، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کے صدر شیخ محمد طاہر انجم نے کی جبکہ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی ضلع لاہور کے صدر شیخ محمد گلزار فیصل، جنرل سیکرٹری المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی ضلع لاہور محمد علی خان نے تمام شہروں میں پروجیکٹ کی خود نگرانی کی مزید المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی صرف شہر لاہور میں 13 المصطفیٰ میڈیکل سنٹرز اور مختلف ہسپتال چلا رہی ہے جس میں ہزاروں افراد مستفید ہوتے ہیں، المصطفیٰ جنرل اینڈ گائنی ہسپتال میں گائنی کے آپریٹ بھی کیے جاتے ہیں، المصطفیٰ ہسپتال چوہنگ میں آنکھوں کے اپریشن بھی کیے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں مستحقین میں راشن کی تقسیم اور ایک ہزار سے زائد مستحقین میں عید گفٹ کی تقسیم بھی کی جاتی ہے اور المصطفیٰ کمیونٹی سکول خیرپور میر سندھ جیکب آباد سندھ صحبت پور بلوچستان کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں مصطفائی کمیونٹی سکول بھی چلا رہی ہے۔ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی اس وقت 90 سے زائد مصطفائی ماڈل سکول چلا رہی ہے، خدمت کا یہ سفر جاری و ساری ہے المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی وہ چراغ ہے جو اپنی روشنی سے دوسروں کی زندگیوں کو منور کرتے ہیں۔ خدمتِ خلق کے جذبہ کی نسل در نسل منتقلی اور معاشرے کا بہتر سے بہتری کی طرف گامزن ہونا ہمارا مشن ہے۔

مزیدخبریں