(گزشتہ سے پیوستہ)
جدہ سے اسلام آباد کے لیے سعودی عریبین ائیر لائنز السعودیہ کی ہماری فلائٹ SV722 نے مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجکر پچاس منٹ پر روانہ ہونا تھا۔ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے اس کا اسلام آبادپہنچنے کا وقت تھا۔ ہم بوئنگ 777/300 طیارے جس کا شمار لمبی مسافت) (Longe Range کے چوڑی باڈی (Wide body) کے جدید طیاروں میں ہوتا ہے اور جس میں 400کے لگ بھگ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے میں بیٹھے طیارے کی روانگی کا انتظار کر رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے کی سیٹیں مسافروں سے بھر گئیں۔ ہماری قطار 64 کی بائیں طرف کھڑکی والی تین سیٹوں A،B اور C پر پشتو بولنے والی ایک فیملی ، درمیان کی 4 سیٹوں میں سے DاورE پر مَیں اور اہلیہ محترمہ اورF اورG پر دو مرد حضرات اور ان سے آگے دائیں طرف والی کھڑکی کی3 سیٹوں پر بھی مرد حضرات براجمان تھے۔ یہ پہلی بار تھا کہ مجھے ہوائی سفر میں کھڑکی کے ساتھ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع نہیںملا ورنہ کسی بھی ہوائی سفر میں میری ہمیشہ یہ خواہش اور کوشش ہوتی رہی ہے کہ مجھے کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ وغیرہ ملے تا کہ پرواز کے دوران میں باہر کے مناظر دیکھ سکوں۔ یہاں مجھے ۱۹۸۳ءمیں اپنے حج کے موقع پر PIAکی فلائٹ پر جدہ سے کراچی کا سفر یاد آ رہا ہے کہ کیسے مجھے کھڑکی کے ساتھ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع ہی نہ ملا بلکہ طیارے کے کاک پٹ کے عین اوپر سب سے اگلی سیٹ پر بھی بیٹھ کر سفر کرنے کا موقع نصیب ہوا۔
یہ15کتوبر ۱۹۸۳ءکی بات ہے سعودی عرب میں 45 روزہ قیام کے بعد پاکستان کے لیے جدہ سے کراچی روانگی تھی۔ اُس دور میں پاکستان سے حج فلائٹس صرف کراچی اور جدہ کے درمیان چلا کرتی تھیں اور PIA ایک دن میں کتنی ہی فلائٹس آپریٹ کیا کرتی تھی۔ اِس بنا پر جدہ انٹر نیشنل ائیر پورٹ کے حج ٹرمینل پر عازمین ِ حج کا بہت رَش ہو جایا کرتا تھااور انہیں وہاں چوبیس گھنٹوں کے لیے اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ وقت کے لیے اپنی فلائٹ کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ہم مدینہ منورہ سے جدہ پہنچے تو دن کا وقت تھا۔ اگلی رات بارہ بجے کے بعد ہماری کراچی کے لیے فلائٹ تھی۔ اس طرح ہمیں وہ شام ، اگلا پورا د ن اور پھر رات کا آدھے سے زیادہ وقت حج ٹرمینل پر ہی گزارنا تھا۔ اگلی رات کو فلائٹ کا وقت آیا تو سامان وغیرہ کی بکنگ کے بعد لاﺅنج میں آ کر
بیٹھ گئے۔طیارے میں سوار ہونے لگے تو بورڈنگ کارڈ کے مطابق طیارے میں سیٹوں پربٹھانے کی بجائے کہا گیا کہ جہاں اور جن سیٹوں پر جگہ ملتی ہے، اُن پر جا کر بیٹھ جائیں۔ PIA کا بوئنگ 747 طیارہ تھا جس میں 500 یا اس سے کچھ زیادہ سیٹیںہوتی ہیں۔ والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ میرے ساتھ تھیں، ان کے لیے طیارے میں سوار ہونے کے لیے تیزی سے چل کر جانا مشکل تھا۔ اس طرح ہم طیارے میں سوار ہونے والے آخری مسافروں میں تھے۔ طیارے کے اگلے دروازے سے اُس میں داخل ہوئے تو سامنے آس پاس بلکہ کافی آگے تک کوئی سیٹیں خالی نہیں تھیں۔ بھلا ہو وہاںڈیوٹی پر کھڑے پی آئی اے کے ایک اہلکار کا کہ اُس نے کہاکہ آپ سیڑھیاںچڑھ کر جہاز کے اوپر والے حصے میں چلے جائیں، وہاں سیٹیں خالی ہیں۔بے جی کو ساتھ لے کر میں اوپر پہنچا تو وہاں ہمیں طیارے کے انتہائی اگلے حصے میں کاک پٹ کے عین اوپر جہاں سیٹوں کی پہلی قطار میں دو سیٹیں دائیں طرف کھڑکی کے ساتھ اور دو بائیں طرف کھڑکی کے ساتھ تھیںمیں سے دائیں طرف والی سیٹوں پر بیٹھنے کا موقع مل گیا۔مَیں نے اِسے قدرت کی طرف سے اپنے لیے ایک انعام سمجھا کہ ہم کسی معذوری کی بنا پر طیارے میں سوار ہونے سے پیچھے رہ گئے تھے لیکن ہمیں طیارے میں سب سے آگے کی سیٹوں پر بیٹھنے کا موقع مل گیا ہے۔پی آئی اے کا بوئنگ 747 جیسا دیو ہیکل طیارہ رات کے دو اڑھائی بجے جدہ سے کراچی کے لیے محو پرواز ہوا تو میرے لیے اچھا موقع تھا کہ کاک پٹ کے عین اوپر طیارے کی دائیں بائیں کی کھڑکیوں سے باہر کے مناظر کو دیکھوں ، لیکن رات کا وقت ہونے کی وجہ سے نیچے زمین تک کے یا آس پاس کے مناظر دیکھنا ممکن نہیں تھاسوائے تیز روشنیوں کے، جو دائیں، بائیں ، سامنے اور نیچے دُور دُور تک پھیلی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔
اِن تیز روشنیوں کے دیکھتے ہوئے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ طیارے کی منزل کراچی یہاں جدہ سے مشرق میں ہے۔ مکہ مکرمہ بھی جدہ کے مشرق میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جدہ سے مشرق میں جانے والا یہ طیارہ اپنے روٹ پر مکہ مکرمہ کے نواح سے مگر حدود ِ حرم کے باہر سے گزرنے والا ہو، کیوں نہ میں کوشش کروں کہ دُور فاصلے سے ہی مگر مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کی جگمگاتی ہوئی روشنیوں کو دیکھ سکوں یا ان روشنیوں سے جگمگاتی فضا کا نظارہ کر سکوں۔ میرا یہ خیال کچھ عجیب سا تھا کہ کیسے اتنے فاصلے سے مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کی روشنیاں نظر آ سکتی ہیں اور پھر کیسے یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ واقعی یہ مکہ مکرمہ اورمسجد الحرام کی روشنیاں ہیں۔اس کے باوجود میں اگلے پانچ دس منٹوں یا اس سے کچھ زیادہ وقت کے دوران مکہ مکرمہ کی جگمگاتی نورانی فضا کی تلاش میں سر گرداں رہا۔ اس کوشش میں مجھے شاید اپنے دائیں طرف دور فاصلے پر فضا میں اوپر پھیلے ہوئے روشنی کے ہالے ضرور نظر آئے۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ فضا میں جو روشنی کے ہالے پھیلے ہوئے میں نے دیکھے تھے وہ مکہ مکرمہ اورمسجد الحرام کی تیز روشنیوں کی وجہ سے ابھرے ہوئے تھے یا کسی اور مقام کی روشنیاں تھیں۔ خیر یہ41 برس قبل جدہ سے کراچی کے ہوائی سفر کا کچھ احوال تھا ۔ اب 30 اور 31 جولائی کی رات کو جدہ سے اسلام آباد کے سفر کے دوران جدہ سے مشرق کی طرف محو پرواز طیارے میں بیٹھے اُس طرح کی روشنیوں کے تیز ہالے دیکھنے کا کچھ موقع نہیں تھا کیونکہ میں طیارے کی بائیں طرف والی کھڑکی (یا شیشوں) سے ملحقہ سیٹوں سے ہٹ کر درمیان والی سیٹوں میں سے ایک پر بیٹھا ہوا تھا جہاں سے باہر کے مناظر دیکھنا چنداں آسان نہیں تھا۔
سعودی عریبین ائیر لائنز السعودیہ کی جدہ، اسلام آباد اور اسلام آباد سے جدہ پروازوں کا روٹ میرے خیال میں ایسا روٹ ہے جسے بہت مصروف گردانا جا سکتا ہے اور اس میں مسافروں کا بہت رَش ہوتا ہے اورجہاز سواریوں سے بھرے محو پرواز ہوتے ہیں۔ اس روٹ پر چلنے والے پی آئی اے یا دوسری پاکستانی ائیر لائنز کے طیاروں اور ان میں مسافروں کی تعداد کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں لیکن اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ان کے طیارے بہر کیف اتنے بڑے، کشادہ اور جدید ترین ماڈلز کے نہیں ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ہماری ریاست، حکومت، اربابِ حل و عقد اور پوری پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اپنے اداروں کو اس حال تک پہنچا دیاہے۔ قومی پرچم بردار فضائی کمپنی پی آئی اے جس کو عشروں قبل فضاﺅں میں بر تری حاصل تھی اب گھسٹ گھسٹ کر چل رہی ہے۔ اس کے پاس شاید اتنے طیارے یا بڑے اور لمبی مسافت طے کرنے والے طیارے نہیںہیں کہ انہیں اس طرح کے مصروف ترین روٹس پر چلایاجا سکے اور وہ سعودیہ اور اسی طرح کی دوسری ترقی پذیر ائیر لائینز جن کے پاس درجنوں کی تعداد میں جدید ترین طیاروں کے فضائی بیڑ ے(Flats)موجود ہیں کا مقابلہ کر سکے۔ یقینا یہ ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ اور المناک صورتِ حال ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ (جاری ہے)
جدہ سے اسلام آباد....!
09:12 AM, 29 Mar, 2025