بانی کی موجودگی ضروری ہے

09:11 AM, 29 Mar, 2025

گذشتہ دنوں دہشت گردی کی بڑھتی وارداتوں کے بعد حکومت نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور اس میں شرکت کے لئے تمام جماعتوں کو دعوت دی ۔ معاملہ چونکہ بہت زیادہ حساس تھا اور ملکی سلامتی سے براہ راست تعلق تھا تو کم و بیش تمام ہی جماعتوں نے اس میں شرکت کی لیکن تحریک انصاف نے اجلاس میں شرکت کے لئے شرط رکھی کہ بانی پی ٹی آئی کو پیرول پر رہا کر کے اگر کانفرنس میں شرکت کے لئے لایا جاتا ہے تو وہ اس کانفرنس میں شرکت کرے گی ورنہ نہیں اور پھر یہی ہوا کہ انھوں نے ملکی سلامتی کے اس اہم ترین مسئلہ پر ہونے والے انتہائی اہم اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔ تحریک انصاف نے اس اجلاس میں شرکت کے لئے جو شرط رکھی تھی تو کاش وہ بانی پی ٹی آئی سے بھی ایک بار پوچھ لیتی کہ کیا وہ ملک کی دیگر سیاسی قیادت کے ساتھ اس اجلاس میں بیٹھنے کو تیار ہیں یا نہیں۔ ہمیں اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کبھی اس اجلاس میں شریک نہ ہوتے۔ یہ ہماری ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ بانی پی ٹی آئی کے ماضی کے طرز عمل میں مد نظر رکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنے آپ کو کبھی اس دنیا کی مخلوق نہیں سمجھا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو آسمان سے اتری ہوئی کوئی ایسی مخلوق سمجھتے ہیں کہ جسے سرخاب کے پر لگے ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ جنھیں بانی پی ٹی آئی اور ان کے اقوال زریں کی روشنی میں ان کا فین کلب بھی یہی سمجھتا ہے کہ جو اموردوسروں کے لئے حرام ہیں وہی سب بانی پی ٹی آئی کے لئے حلال ہو جاتے ہیں ۔ جب وہ حکومت میں نہیں آئے تھے تو قرض لینا حرام سمجھتے تھے لیکن پھر اپنے دور حکومت میں انھوں نے تاریخ کا سب سے زیادہ حلال قرض لیا ۔ دوسری جماعتوں کے بندے اگر تحریک انصاف میں شرکت کریں تو وہ خان صاحب وکٹیں گراتے ہیں لیکن اگر ان کی جماعت کے بندے دوسری جماعتوں میں جائیں تو یہ ضمیر فروشی کے زمرے میں آتا ہے ۔ دوسرے اگر سیاسی مقدمات کی وجہ سے بیرون ملک چلے جائیں تو یہ فرار اور بھگوڑے کہلاتے ہیں جبکہ اگر تحریک انصاف کے بندے بیرون ملک فرار ہو جائیں تو یہ حلال مفروری ہجرت کہلائے گی ۔ دوسروں کو اگر جیل میں سہولتیں ملیں تو وہ حرام جبکہ بانی پی ٹی آئی کی سہولتیں عین آئین اور قانون کی بالادستی کا حلال ورژن ہو گا۔ 
خیر بات ہو رہی تھی کہ تحریک انصاف والے ایک بار بانی پی ٹی آئی سے بھی پوچھ لیتے کہ کیا وہ اس اجلاس میںشرکت کرنا پسند کریں گے یا نہیں بلکہ اگر حد ادب میں رہتے ہوئے بات کریں تو پوچھنا چاہئے تھا کہ وہ اس اجلاس میں ” قدم رنجہ فرمانا “ پسند کریں گے یا نہیں ۔ 27دسمبر2007کو محترمہ بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد شہید کر دیا گیا ۔ بی بی شہید کی اس المناک موت پر ہر آنکھ اشک بار تھی اور پاکستان ہی نہیں دنیا بھر سے لوگوں نے آصف علی زرداری سے تعزیت کی لیکن عمران خان وہ اکلوتے فرد تھے کہ جنھوں نے جا کر تعزیت کرنا تو در کنار ٹیلی فون پر بھی تعزیت کرنا پسند نہیں کیا ۔ جنوری 2018میں عوامی تحریک نے لاہور مال روڈ پر ایک جلسہ کیا تھا ۔ الیکشن قریب تھے لہٰذا علامہ طاہر القادری کی کوشش تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں دوریاں ختم ہو جائیں اس کے لئے انھوں نے اس جلسے سے خطاب کے لئے عمران خان کے ساتھ ساتھ زرداری صاحب کو بھی دعوت دی جسے زرداری صاحب نے خوش دلی سے قبول کر لیا لیکن پھر کیا ہوا کہ عمران خان ، زرداری صاحب کی آمد سے پہلے ہی خطاب کر کے چلے گئے اور انھوں نے زرداری صاحب سے ہاتھ ملانا اور بات کرنا تو دور کی بات ہے ان کے ساتھ سٹیج پر بیٹھنا بھی گوارہ نہیں کیا ۔ 2018کے الیکشن پر اس وقت کی حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی ویسے ہی تحفظات تھے کہ جس طرح فروری 2024کے انتخابات پر تحریک انصاف کو ہیں لیکن حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش کی لیکن عمران خان نے اس کو پایہ حقارت سے ٹھکرا دیا ۔ فروری2019میں پلوامہ واقعہ کے بعد سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس میں آرمی چیف بھی موجود تھے ۔ آئین اور قانون کے تحت عمران خان کی اس اجلاس میں بطور وزیر اعظم شرکت کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل تھا لیکن بے حد اصرار کے باوجود بھی خبط عظمت کا شکار بانی پی ٹی آئی اس اجلاس کی جگہ سے چند قدم دور اپنے چیمبر میں بیٹھے رہے لیکن ملک کی دیگر سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر بیٹھنے کی زحمت نہیں کی ۔ 
بانی پی ٹی آئی جن کی پیرول پر رہائی اور انھیں دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس اور میٹنگز میں شرکت پر واویلا کیا جا رہا ہے پہلے یہ تو دیکھ لیں کہ ماضی میں اس حوالے سے ان کا طرز عمل کیا تھا ۔ وہ تو ان کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ یہ تو ان کے مخالف سیاست دان ہیں لیکن جب تحریک انصاف ان کی اپنی جماعت کے بانی رکن انعام الحق کا انتقال ہوا تو کراچی ان کے گھر جا کر تعزیت کرنے کی بجائے ان کے گھر والوں کو ایوان وزیر اعظم بلا کر تعزیت کرنا پسند کیا ۔تحریک انصاف کے دور میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف بھی جیلوں میں رہے لیکن مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی ان کی پیرول پر رہائی کی شرط نہیں رکھی اور اہم قومی امور پر ہونے والے ہر اجلاس میں غیر مشروط شرکت کرتے رہے ۔ تحریک انصاف کا حق بنتا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے لئے آواز بلند کریں لیکن کاش بانی پی ٹی آئی کے لئے جن حقوق کی بات آج کر رہے ہیں گذرے کل میں جب وہ طاقت میں تھے اس وقت وہ اپنے مخالفین کے آئینی و جمہوری حقوق کے لئے بھی آواز بلند کرتے تو آج ان کے لئے حالات مختلف ہوتے اور ان کے مطالبات کو لوگ حق بجانب سمجھتے ۔

مزیدخبریں