چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بات چیت کے ذریعے پی ٹی آئی کو منانے اور انہیں قومی معاملات میں مشاورت کے لئے سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لئے ثالثی کرنے کی پیشکش کی ہے۔ حکومت نے اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کرنے کی ذمہ داری بلاول بھٹو کو سونپ دی ہے اور کہا ہے کہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی سے شرکت کی یقین دہانی حاصل کر لیں تو سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا یہ قدم بہت خوبصورت اور بروقت ہے۔ پاکستان اس وقت جن مسائل کا شکار ہے وہ قومی مفاہمت کے ساتھ، قومی اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ ہم طالبان کے حوالے سے جن خوش فہمیوں کا شکار تھے وہ ہمارے سامنے الٹ پلٹ ہو چکی ہیں۔ امریکی اتحادی افواج کے بعد طالبان کی کابل پر حکومت کے قیام کو ہم نے اپنی فتح تصور کیا تھا۔ ہمیں یقین واثق تھا کہ طالبان کی کابل پر حکومت قائم ہونے کے بعد افغانستان، پاکستان کا دوست ملک بن جائیگا۔ ہماری شمال مغربی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں۔ امریکی اتحادی افواج کے 2021ءمیں افغانستان سے نکلنے اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی خونی دہشت گردی کا شکار ہو گیا ہے۔ ٹی ٹی پی، القاعدہ، مجید بریگیڈ، بی ایل اے اور نجانے کتنے دیگر دہشت گرد گروپ پاکستان پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور ان سب کی جڑیں اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں۔ ہمارے ریاستی و حکومتی ادارے ہی نہیں، سویلین تنصیبات، تھانے، بسیں، ریلیں اور ان میں سفر کرنے والے عام شہری، بچے، عورتیں سب بلاتفریق دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ ان دہشت گردوں کے پاس افغانستان میں چھوڑے گئے جدید ترین امریکی ہتھیار، نیویگیشن کے آلات اور دیگر اسلحہ موجود ہے۔ انہیں سیٹلائٹ کمیونی کیشن کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ وہ آگے بڑھ بڑھ کر پاکستان پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ انہیں انڈین، RAW، افغان NDSکے علاوہ دیگر پاکستان دشمن ایجنسیوں کی مالی و تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں فکری یکجہتی پائی جائے۔ ہمارا ایک قومی موقف ہو، ہماری سیاست، صحافت اور معاشرت یک جان ہو کر اپنی مسلح افواج و دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ ملک دشمنوں کو ضرب کاری لگائی جا سکے لیکن پاکستان اس وقت ایک قسم کے سیاسی بحران کا شکار نظر آ رہا ہے۔ اتحادی حکومت، شہبازشریف کی قیادت اور جنرل عاصم منیر کی سرپرستی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بین الاقوامی مالی و زری ادارے ہوں یا دوست ممالک، سب کے ساتھ بہتر تعلقات بھی قائم کئے جا رہے ہیں اور قومی معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ جن کے نتائج بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو مجموعی طور پر 203ارب ڈالر کی رقم مل جائے گی۔ جاری حالات میں یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کے ہماری معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ دیگر معاملات میں بھی حکومت کی کارکردگی قابل تعریف ہے لیکن سیاسی عدم استحکام کا ایک تاثر موجود ہے جسے پی ٹی آئی بڑی تکرار کے ساتھ دھراتی رہتی ہے۔ الیکشن 2024ءکے انعقاد اور نتائج کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی منفی خیالات کا پرچار کرتی رہتی ہے۔ پی ٹی آئی کا آفیشل سوشل میڈیا ہو یا عمران خان کا ٹوئٹر ہینڈل سب پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مصروف رہتا ہے۔ ہر وقت سیاسی انارکی پھیلانے کی کاوشیں کرتا رہتا ہے۔ پی ٹی آئی کو پاکستان اور اس کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف اور صرف عمران خان کی جادوئی انداز میں رہائی چاہتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ عمران خان کے بیانات پاکستان دشمن قوتوں کے لئے تقویت کا باعث بن رہے ہیں، انہیں ریاست پاکستان کے مخالفوں کی حمایت کرکے زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں بشمول ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے حد درجے کا بیر ہے وہ ان جماعتوں کی قیادت کو گالی گلوچ دیتے رہتے ہیں۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں آصف علی زرداری کے خطاب کے دوران انہیں جس طرح زچ کیا گیا وہ قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ ویسے تو آصف علی زرداری نے جو مفاہمت کے بادشاہ کہلاتے ہیں۔ 2024ءکے انتخابات کے فوراً بعد پی ٹی آئی کو حکومت سازی کے لئے اپنی حمایت کی پیشکش کی تھی جسے عمران خان نے پایہ حقارت سے ٹھکرا دیا تھا کیونکہ عمران خان کا بیانیہ ن لیگ و پی پی دشمنی اور الیکشن 2024ءکے نتائج پر قائم اتحادی حکومت کو نہ ماننے پر قائم ہے اس لئے کوئی بھی ایسا اقدام جس سے ان کے ان خیالات کی نفی ہو، انہیں قابل قبول نہیں ہوگا۔
اب دیکھتے ہیں بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی کا ممکنہ نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔ ویسے تو ثالثی اس لئے کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی مان جائے اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہو تاکہ مکمل یکجہتی کے ساتھ اعلامیہ جاری ہو اور ملک دشمنوں کو پیغام جائے کہ پاکستان ان کے لئے ہارڈ سٹیٹ بن گیا ہے۔ ایسا ہونے سے فائدہ کس کو ہو گا؟ بلے بلے کس کی ہو گی؟ اتحادی حکومت کی جے جے ہوگی، ان کی کامیابی کا تاثر پیدا ہوگا اور پھر یہ بھی تاثر پیدا ہوگا کہ پی ٹی آئی نے بالواسطہ فارم 47 پر کھڑی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی ایسا ہرگز نہیں چاہتی۔ وہ ایک حکومت دشمن اور پاکستان دشمن پارٹی کا روپ دھار چکی ہے۔ وہ ہر اس بات کی حمایت کرتی ہے جس سے ملک میں جاری انتشار کو ہوا ملے۔ انارکی پھیلے، عمران خان دھڑلے سے ایسا کچھ کہتے ہیں جس سے انتشار کو ہوا ملتی ہو۔ حکومتی کمزوری کا تاثر پیدا ہو، ریاست کی کمزوری ظاہر ہو، اس لئے بلاول بھٹو زرداری کی خواہشات کتنی ہی نیک کیوں نہ ہوں، ان کا مفاہمتی بیانیہ کتنا ہی دلربا کیوں نہ ہو، ان کی کاوشوں سے کیونکہ سیاسی استحکام اور ملکی مفاد کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت میں کمی ہو سکتی ہے، اس لئے پی ٹی آئی ان کی بات ہرگز ہرگز ماننے والی نہیں ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی کا انجام اظہر من الشمس ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی اور پی ٹی آئی
09:09 AM, 29 Mar, 2025