امریکہ وایران لڑائی میں توقف کی وجہ صدرٹرمپ کامزیدحملوں کی اجازت نہ دینا ہے جواب میں ایران نے بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روک دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے خطے کی ضرورت جنگ نہیں امن ہے لہٰذا لڑائی میں چاہے عارضی وقفہ سہی لیکن امن قائم ہونے کے قوی آثار ہیں اگرخطے میں مستقل امن ہوتا ہے تونہ صرف معاشی تباہی کے منڈلاتے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرات کم ہوجائیں گے۔ خلیجی لڑائی روکنے کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ اقوامِ عالم متحرک ہیں یو این او کے سفیرنے امریکہ و ایران جاری امن مذاکرات کی تصدیق کردی ہے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشواپوپ لیو قیامِ امن پرزوردے رہے ہےں مگر بات تب ہی بنے گی جب مستقل امن قائم کرنے کے لیے امریکہ و ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے امن سے توانائی کی بڑھتی قیمتیں کم ہوںگی اِس وقت عالمی منڈی میں تیل کے نرخ سوڈالر کے لگ بھگ ہیں آبنائے ہُرمزکی بندش سے تیل کی فراہمی میں رکاوٹ آئی جو توانائی کے بحران کاباعث ہے اِس سے مہنگائی کی نئی طاقتورلہرجنم لے سکتی ہے جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی خلیجی خطے میں لڑائی کاختم ہونا عالمی مفاد میں ہے ۔ ایران پرامریکی حملے رُکنے کی جو بھی وجہ ہو خطے اور اقوامِ عالم کے لیے اطمینان کاباعث ہے وجہ پیٹریاٹ میزائلوںکے ذخیر ے میں ہونے والی کمی یاپھر خطے میں امریکی اتحادیوں کی دوری ہو لڑائی کے وقفے میں متحارب فریقین امن کی جانب بڑھ سکتے ہیں تنازعات کو طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کی بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنا ہی دانشمندی ہے حملوں کے دوران دونوں کو یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ مزیدلڑنا کسی کے مفادمیں نہیں جنگیں مسائل بڑھاتی ہیں ۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پائیدارامن کی بنیادبن سکتی تھی اگر فریقین سنجیدہ ہوتے مگر طاقت کے مظاہرے پر یقین کرنے سے امن کوششوں کونقصان پہنچا ایران نے مفاہمتی یادداشت کی پاسداری نہ کی اور سعودی عرب اور قطرکے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے امریکہ کو دوبارہ حملے کرنے کا جوازملا اور اُس نے ایرانی دفاعی تنصیبات کے ساتھ انفراسٹرکچر کوتباہ کرنا شروع کردیا جواب میں ایران بھی خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے لگا یمنی حوثیوں نے طیش میں آکر آبنائے ہُرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمرکو بند کرنے کا عندیہ دیدیا ہے یہ بندش بظاہرسعودی عرب کی حد تک ہے مگر چنگاری کب شعلہ بن جائے کچھ کہانہیں جا سکتا تیل کی دو گزرگاہوں کی بندش جیسے سنگین خطرے کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی یہ بات امریکہ اور ایران سمجھ جائیں تو اچھی بات ہے اگر نہیں سمجھتے تو یاد رکھیں عالمی امن کوداﺅپر لگانے کے معاشی اثرات سے خودبھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں پر ابتدا میں دنیانے سخت ناپسندیدگی ظاہرکی یورپ سمیت ایشیا سے کئی امریکی اتحادیوں نے بھی حمایت کرنے کی بجائے حملے روکنے کامطالبہ کیا وجہ یہ تھی کہ دنیانے ایران کو مظلوم سمجھا لیکن ایران نے کچھ ایسے اقدامات کیے کہ مظلوم سے بلیک میلر محسوس ہونے لگا۔ بار بار آبنائے ہُرمز بندکرنے کی دھمکیاں دنیا کو ناگوار گزریں مگر ایرانی قیادت دنیا کی سوچ میں آنے والی تبدیلی سمجھ نہ سکی یوں جسے امریکہ نے غنیمت جانا اور حالات سازگار سمجھ کر فائدہ اُٹھا نے کی کوشش کی مگر امریکی شہ دماغ بھول گئے کہ انہوں نے چین کا مقابلہ کرنا ہے اسلحہ ذخائر ختم ہو نے سے تومقابلہ نہیں ہو سکتا جے ڈی وینس اور سینٹکام جنرل کی طرف سے مزیدحملوں سے اختلاف کرنے کی وجہ بھی یہی پہلو ہے بہتر ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی طرف آئیں پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں پر اعتماد کریں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن ہو سکے۔ خلیجی لڑائی میں حصہ بن کر امریکہ نے بہت کچھ کھودیاہے اپنی ساکھ تک داﺅ پر لگادی ہے۔
اسرائیل نے درج ذیل اہداف کے لیے ایران پر حملہ کیااول۔عرب ممالک سے تسلیم کرانا دوم۔ عربوں کو ایران سے لڑانا سوم۔ ایران کو پراکسی سے باز رہنے پر مجبورکرناتاکہ گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار ہو سکے لیکن تمام اندازے غلط ثابت ہوئے نہ صرف عرب ممالک تسلیم کرنے سے بازبلکہ جنگ میں بھی غیرجانبدار رہے میزائل حملوں سے ایران کے کمزورہونے کی نفی ہوئی عارضی فائر بندی کے بعداسرائیل تو لڑائی سے الگ ہوگیا لیکن امریکہ نے وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے عرب ممالک پرامریکی اڈوں کے جواز میں ایران حملے کرتا ہے لیکن جنگ کے اصل موجب اسرائیل کی طرف دیکھتاتک نہیں عراق جہاں سے امریکی طیارے ایران پر حملے کرتے ہیں کے حوالے سے بھی خاموش رہتاہے لیکن قطر، کویت، اُردن، بحرین، عمان اور یواے ای پر غصہ نکالتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ ابھی تک عرب و عجم چپقلش ایران کے ذہن میں ہے۔ ایرانی ہمسایہ آذربائیجان جو اسرائیل کو تیل فراہم کرتا ہے پرحملہ نہ کرنے سے بھی اِس خیال کی تائید ہوتی ہے۔
امریکہ اور ایران دونوں کا ماضی مداخلت سے بھرپورہے 1971 میں متحدہ عرب امارات تشکیل پانے سے صرف دودن قبل ایران نے شارجہ اور راس الخیمہ کے ملکیتی تین جزائرپربزورقبضہ کرلیا 1973 میں عمان حکومت کی فوجی مدد کی عراقی کردوں کوحکومت کے خلاف اسلحہ اور مالی مدد دی امریکی صدارتی انتخابات میں سرمائے کی فراہمی کاخود رضا شاہ پہلوی اعتراف کرچکے بات تب زیادہ بگڑی جب 23 دسمبر 1973 کو ایک پریس کانفرنس میں مغربی ممالک کوپاﺅں کے مطابق چادرپھیلانے کا مشورہ دے ڈالاجس پر فرانس نے امام خمینی پر سرمایہ کاری کے ذریعے انقلاب ایران کی راہ کلیدی ہموارکی کرنل قذافی سے تو شاہ کی نفرت عیاں تھی 1974میں یہ کہہ کر اسلامی کانفرنس میں شریک نہ ہوئے کہ میزبان پاکستان نے عرب ممالک کو مدعوکیا ہے اب بھی غزہ کی حماس قیادت نے ایرانی شہ پر اسرائیل کو نشانہ بنایاور غزہ کو ملیامیٹ کرنے کا جواز فراہم کیالبنان کی حزب اللہ کی صورت میں ایران ہے بشارالاسد کی حمایت میں ایران نے شامی شہریوں کا خون بہایا اور اب یمنی حوثیوں کی صورت میںسعودی عرب کے لیے مسائل کاموجب ہے امریکہ نے تو ساری دنیا میں مداخلت کاٹھیکہ لے رکھاہے مگر جنگیں وسائل کا خاتمہ کرتی ہیں اور ترقی کے لیے امن ضروری ہے جس کا جتنی جلدی ادراک کر لیا جائے بہتر ہے۔
جنگ نہیں امن سے ترقی
08:35 AM, 29 Jul, 2026