ہمارے ہاں ہر سطح پر اعتبار اور بھروسے کی کمی پائی جاتی ہے۔ ایک عام شہری اپنے معاملات کے حل کے لئے سرکاری اداروں پر اعتماد نہیں کرتا ہے۔ اسے کسی سطح پر بھی مسئلے کا حل اور انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔ وہ معاملات کے حل کے لئے قانونی اور آئینی ذرائع پر اعتماد نہیں کرتا ہے بلکہ دیگر ذرائع پر اعتماد کرتا ہے اور اسے وہاں سے ”انصاف“ مل بھی جاتا ہے۔ ہمارے ہاں دولت کو ٹھکانے لگانے، سرمایہ کاری کے ذریعے اسے بڑھانے/نفع بخش بنانے اور رہائش کے لئے ہاﺅسنگ سیکٹر میں پیسہ لگانا محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ پلاٹوں کی لین دین ایک اعلیٰ سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد یہ ٹرینڈ شروع ہوا اور نصف صدی کے عرصے کے دوران یہ ٹرینڈ پھل پھول کر اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور اب زوال پذیر نظر آرہا ہے۔ اس شعبے میں چھوٹے بڑے درجنوں سیکڑوں ڈویلپرز، بلڈرز موجود ہیں، جنہوں نے اس شعبے کی کارکردگی میں چار چاند لگائے۔ بے آب و گیاہ زمینوں کو آباد کیا خود بھی امیر بنے اور سرمایہ کاروں کا بھی بھلا کیا۔ کچھ بددیانت لوگوں نے اس شعبے کو بدنام بھی کیا۔ ناجائز ذرائع اختیار کئے، فراڈ کئے، لوگوں کے پیسے ہڑپ کئے لیکن بحیثیت مجموعی معاملات آگے بڑھتے رہے۔ اس شعبے میں ملک ریاض کا نام بڑا ہی نہیں بہت بڑا ہے۔ بحریہ ٹاﺅن رہائشی منصوبوں کے اعتبار سے ایک بہت بڑا اور بااعتماد نام رہا ہے۔ ملک ریاض نے دولت بنانے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے بھی اختیار کئے۔ فائلوں کے کاروبار کے ذریعے اربوں کمائے لیکن انہوں نے بحریہ ٹاﺅن کو ایک زندہ و جاوید حقیقت بنا ڈالا۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے باعث اب وہ زیرعتاب ہیں اور بحریہ ٹاﺅن کے مستقبل کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ اس شعبے کا دوسرا بڑا نام علیم خان ہیں۔ انہوں نے بھی پارک ویو کو ایک برانڈ، بہت اچھا برانڈ بنایا لیکن گزشتہ سال بارشوں کے موسم میں ان کی ایک سوسائٹی میں دریا کا پانی داخل ہو گیا۔ وہاں کشتیاں چلتی دیکھی گئیں۔ لوگوں کا اعتماد پارک ویو پر بھی اٹھنا شروع ہو گیا۔ ہاﺅسنگ سیکٹر میں ڈی ایچ، ایک اعلیٰ ترین برانڈ ہے، یہاں رہائش کسی بھی پاکستانی کا خواب ہوتا ہے۔ اس برانڈ کا آغاز 1973ءمیں سول اینڈ ڈیفنس ہاﺅسنگ سوسائٹی لاہور کے طور پر ہوا۔ 1975ءمیں سے لاہور کینٹونمنٹ کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کا نام دے کر حکومت پنجاب میں رجسٹر کیا گیا۔ 1991ءمیں لاہور ہائیکورٹ نے اس سوسائٹی کے تمام تنظیمی اختیارات کورکمانڈر لاہور کے سپرد کر دیئے۔ 1991ءمیں ایک آرڈیننس کے ذریعے ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی لاہور کا نام دے دیا گیا۔ 2002ءمیں اسے فیڈرل کی سطح تک لے جایا گیا۔ 2004ءمیں اسے پارلیمنٹ کی توثیق حاصل ہو گئی اور اس طرح ڈی ایچ اے ایک وفاق کی سطح پر یعنی ملک گیر ہو گیا۔
ڈی ایچ اے لاہور 1973ءمیں شروع کیا جانے والا ہاﺅسنگ پراجیکٹ 34ہزار کنال پر مشتمل تھا جو آج تین لاکھ 12ہزار کینال پر مشتمل عالمی سطح کا پراجیکٹ بن چکا ہے جو شہر لاہور کے 25فیصد کے برابر بنتا ہے۔ بیان کردہ اعداد و شمار ادارے کی ویب سائٹ سے اخذ کردہ ہیں اور یہ 2014ءتک کے ہیں۔ اگلے بارہ سالوں کے دوران اس میں کس قدر بڑھوتی آئی ہے وہ ہم صرف تصور کر سکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔ پورے شہر میں ندیاں نالے بہنے لگے۔ اسے ماہرین اربن فلڈنگ کہتے ہیں، پورا شہر پانی کی لپیٹ میں آگیا۔ واسا اور پنجاب کے دیگر محکموں کے اہلکار نکاسی آب کے لئے متحرک اور فعال دکھائی دئے۔ پانی کا جمع ہونا قدرتی امر ہے لیکن اس کا جوں کا توں رہنا سرکاری محکموں کی نالائقی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پانی برستا ہے، ندی نالے کی شکل میں بہتا ہے، جمع بھی ہوتا ہے لیکن اس کی نکاسی کا بندوبست نہ کرنا
مجرمانہ فعل ہے۔ پنجاب میں محکمے فعال نظر آئے۔ اسی قسم کا مظاہرہ عید قرباں پر بھی دیکھنے کو ملا ، نہ قربانی کی آلائشیں جمع ہوتی رہیں لیکن متعلقہ محکمے انہیں بروقت ٹھکانے لگاتے نظر آئے۔ شہر میں تعفن نہیں پھیلا۔ آلائشیں آتی رہیں۔ متعلقہ محکموں کے اہلکار آلائشیں اٹھاتے اور صفائی ستھرائی کرتے دکھائی دیئے۔ ایسے ہی بارشوں کے دوران بھی ہوتا نظر آیا لیکن کینٹونمنٹ بورڈ کے زیرانتظام علاقوں میں کئی مقامات پر ابھی تک بارشی پانی کھڑا ہے۔ تعفن پھیل رہا ہے لیکن کوئی والی وارث نہیں ہے۔ ایسا صدر بازار میں ہو رہا ہے۔ پوری پوری سڑک/لین پانی نے بند کر رکھی ہے۔ کوئی اہلکار یا ذمہ دار بارشی پانی کے نکاس کا انتظام کرتا نظر نہیں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈی ایچ اے کے کئی سیکٹر بھی اربن فلڈنگ کا شکار ہو گئے۔ گھر بارشی پانی کے عدم نکاس کے باعث ڈوب گئے۔ سیوریج و نکاسی آب کے نظام کے ناکام ہونے کے باعث پانی نے تباہی مچائی۔ وہاں بھی مناسب حفاظتی انتظامات کی عدم دستیابی کے باعث رہائشیوں کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر یہاں کشتیاں چلتی نظر آئیں۔ اعلیٰ رہائش کا خواب چکناچور ہوتا نظر آنے لگا ہے۔ اب لاہور یا پورے پاکستان میں ڈی ایچ اے سے بہتر اور شاندار رہائشی سکیم کوئی اور نہیں ہے۔ ڈی ایچ اے پاکستان کی شان اور پہچان ہے۔ گزشتہ سال ڈی ایچ اے کراچی میں بھی اس قسم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ لوگوں کو کراچی ڈی ایچ اے میں اس قسم کے واقعات سے حیرانگی نہیں ہوئی کیونکہ پورا شہر ہی کچراکنڈی میں تبدیل ہو چکا ہے، اس لئے ڈی ایچ اے میں بھی اگر کچھ اس قسم کا ہوتا ہے تو تعجب کی بات نہیں ہے لیکن لاہور تو ایسا نہیں ہے۔ لاہور کو تو پاکستان کا پیرس کہا جاتا ہے، یہاں لوگ بہتر معاملات کی توقع رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ڈی ایچ اے لاہور میںاگر نکاسی آب کے معاملات میں گڑبڑ کے باعث پانی نے شہری آبادی کو نقصان پہنچایا تو معاملات ابھر کر سامنے آنے لگے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈی ایچ اے کو بھی بحریہ ٹاﺅن اور پارک ویو کی طرح ”نظر لگ گئی“ ہے، اسی لئے یہاں کے منفی معاملات منظرعام پر آنے لگے ہیں۔
اربن فلڈنگ حکومت پنجاب اور لاہور کینٹ بورڈ
08:35 AM, 29 Jul, 2026