میں نے آج جب کالم لکھنے کے لیے قلم ہاتھ میں اٹھایا تو یوں محسوس ہوا جیسے دل و دماغ نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ بھائی کی جدائی کا غم ابھی تازہ ہے اور الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں۔ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ غم تو تادمِ حیات ساتھ رہے گا۔ جو لوگ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، وہ واپس نہیں آتے بلکہ ایک دن ہمیں ہی ان کے پاس جانا ہوتا ہے۔ اس لیے جب تک سانسوں کا یہ سفر جاری ہے، زندگی کے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہی پڑے گا۔ یہ سوچ کر میں نے دل کو مضبوط کیا اور قلم کو پھر سے مضبوطی سے تھام لیا۔ مگر ذہن میں خیالات کا ایک طوفان برپا تھا کہ آج کس موضوع پر قلم اٹھایا جائے۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک اپنے مرحوم بھائی کی ایک بات یاد آ گئی۔ وہ کہا کرتے تھے ”ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اختلاف کرنا ہی بھول گئے ہیں، اختلاف رائے گالی کی بجائے مہذب انداز میں بھی کیا جا سکتا ہے“ سوچا اسی بات کو آگے بڑھایا جائے۔ آپ میں سے کئی افراد اپنے روزمرہ امور کی انجام دہی کے دوران یہ جملہ سنتے ہیں کہ” میں تمہاری رائے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن تمہیں اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے“ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ مہذب معاشروں کی بنیاد ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اب یہ اصول کتابوں تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے اختلافِ رائے کو فکری ارتقا کے بجائے انا کی جنگ بنا دیا ہے۔ کسی کی سوچ ہم سے مختلف ہو تو ہم اس کے دلائل کا جواب دینے کی بجائے اس کی نیت، کردار، وابستگی اور شخصیت پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ گویا اختلاف اب سوچ کا نہیں، وجود کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جو ہماری سوچ سے مختلف بات کرے وہ فوراً مخالف کی صف میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
اختلاف کرنا انسانی فطرت کا حسن ہے۔ اگر دنیا کے تمام انسان ایک ہی طرح سوچتے تو نہ سائنس ترقی کرتی، نہ فلسفہ جنم لیتا، نہ ادب تخلیق ہوتا اور نہ ہی جمہوریت وجود میں آتی۔ تاریخ کی ہر بڑی ایجاد، ہر عظیم نظریہ اور ہر مثبت تبدیلی کسی نہ کسی اختلافِ رائے کا نتیجہ تھی۔ جن معاشروں نے سوال پوچھنے، اختلاف کرنے اور نئی سوچ کو قبول کرنے کی روایت اپنائی، وہ آگے بڑھ گئے اور جنہوں نے اختلاف کو جرم بنا دیا، وہ جمود کا شکار ہو گئے۔ہم اس وقت صرف معاشی یا سیاسی بحرانوں سے نہیں گزر رہے بلکہ ایک اخلاقی اور فکری بحران کا بھی شکار ہےں۔ اس بحران کی سب سے نمایاں علامت یہ ہے کہ ہم نے سننے اور اختلاف کرنے کا سلیقہ کھو دیا ہے۔ ہر فرد خود کو حق کا واحد علمبردار سمجھتا ہے اور مخالف رائے رکھنے والے کو غلط، گمراہ یا دشمن تصور کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں مکالمہ دم توڑ دیتا ہے اور معاشرے تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سیاست میں مخالف جماعت دشمن بن جاتی ہے، مذہبی معاملات میں مختلف نقطہ نظر رکھنے والا قابلِ نفرت قرار پاتا ہے، سوشل میڈیا پر چند سطروں کا اختلاف گالی، تضحیک اور کردار کشی میں تبدیل ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ گھروں میں بھی رائے کا فرق رشتوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔ گھر معاشرے کی پہلی درسگاہ ہے۔ اگر بچے اپنے والدین کو اختلاف کے باوجود احترام سے گفتگو کرتے دیکھیں گے تو وہ بھی برداشت سیکھیں گے۔ لیکن اگر ہر اختلاف چیخ و پکار، الزام تراشی یا تعلقات کی خرابی پر ختم ہو تو یہی رویہ نئی نسل کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ قوموں کی تہذیب پارلیمان سے پہلے گھروں میں تشکیل پاتی ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، آدھی سچی خبر یا ایک جذباتی پوسٹ لاکھوں لوگوں کی رائے بدل دیتی ہے۔ تحقیق اور تحمل کی جگہ جلد بازی نے لے لی ہے۔ اب دلیل کم اور جذبات زیادہ فروخت ہوتے ہیں۔ سچائی کو جانچنے سے پہلے فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ یہی وہ فضا ہے جہاں اختلاف مکالمہ نہیں بنتا بلکہ نفرت کا ایندھن بن جاتا ہے۔ یہاں صحافت کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ صحافت اگر اپنی اصل روح کے مطابق سچ، تحقیق اور توازن کو مقدم رکھے تو وہ معاشرے میں برداشت کو فروغ دے سکتی ہے۔ لیکن اگر صحافت بھی سنسنی، تقسیم اور تعصب کا شکار ہو جائے تو عوام کی سوچ مزید منتشر ہو جاتی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی صرف خبر نہیں دیتا بلکہ معاشرے کو سوچنے کا زاویہ بھی دیتا ہے۔ اس کا قلم آگ بھڑکانے کے لیے نہیں بلکہ اندھیروں میں روشنی پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
اسلامی تاریخ ہمیں اختلاف کے آداب کا بے مثال نمونہ پیش کرتی ہے۔ آئمہ کرام نے ایک دوسرے سے علمی اختلاف کیا مگر احترام کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ کسی نے دوسرے کی نیت پر حملہ نہیں کیا۔ وہ جانتے تھے کہ حق کی تلاش میں اختلاف فطری ہے لیکن احترام ایمان کا تقاضا ہے۔ افسوس کہ ہم نے اختلاف تو اپنا لیا، مگر اس کا اخلاق بھلا دیا۔ تعلیمی اداروں، گھروں اور سماجی حلقوں میں بھی ہمیں نئی سوچ پیدا کرنا ہوگی۔ بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اختلاف کرنا دشمنی نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے۔ اگر نئی نسل نے برداشت، مکالمہ اور دلیل کی ثقافت نہ سیکھی تو آنے والا کل مزید تقسیم، تشدد اور عدم برداشت کا شکار ہوگا۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاںمخالف کی آواز کو دبانے کے بجائے سننے کا حوصلہ ہو۔ ہمیں ایسا میڈیا چاہیے جو معاشرے کو جوڑنے کا کام کرے اور ایسے تعلیمی ادارے چاہئیں جو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ برداشت بھی پیدا کریں۔ ہمیں اپنے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ۔
یاد رکھیں کہ قومیں یکساں سوچ رکھنے سے نہیں بلکہ مختلف سوچ رکھنے والوں کو ساتھ لے کر چلنے سے عظیم بنتی ہیں۔ اختلاف اگر تہذیب، احترام اور دلیل کے ساتھ ہو تو یہ رحمت ہے لیکن اگر انا، تعصب اور نفرت کے ساتھ ہو تو یہی اختلاف معاشروں کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ آئیے ہم اپنے لہجوں میں نرمی، اپنی گفتگو میں دلیل اور اپنے رویوں میں برداشت پیدا کریں۔ اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اختلاف کا سلیقہ سیکھیں۔ کیونکہ زندہ قومیں خاموش ذہنوں سے نہیں بلکہ مہذب مکالموں سے جنم لیتی ہیں۔ شاید پاکستان کو آج کسی نئے نعرے سے زیادہ ایک نئی تہذیبِ گفتگو کی ضرورت ہے۔ ایسی تہذیب جہاں اختلاف جرم نہ ہو اور احترام ہر اختلاف سے بلند ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک باشعور، مضبوط اور متحد قوم بنا سکتا ہے۔ آئیے مل کر اس جانب پہلا قدم اٹھائیں۔
ہم اختلاف کرنا بھول گئے ہیں!
08:34 AM, 29 Jul, 2026