مشرق وسطیٰ کے امیر حکمران اور ٹرمپ!

08:33 AM, 29 Jul, 2026

ایشیا کے جنوب اور مشرقِ وسطیٰ میں واقع اسلامی ممالک پاکستان، ایران، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، اردن، عمان، شام اور سعودی عرب وغیرہ اپنے بہترین قدرتی وسائل اور فوجی طاقت کے اعتبار سے نمایاں پوزیشن رکھتے ہیں۔ لیکن ان ممالک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سوائے ایران کے تمام ممالک میں امریکی آلہ کاری کا عنصر موجود ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک اور سعودی عرب کی شاہی حکومتیں امریکہ کی باقاعدہ اسیر ہیں۔ اسی پر امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے تنقید کرتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کی ہے کہ ٹرمپ کو بلاوجہ مشرق وسطیٰ کے ڈکٹیٹروں سے محبت نہیں ہے۔ دراصل اس خطے کے حکمران خاندان دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی دولت 336 ارب ڈالر، سعودی حکمران خاندان 214 ارب ڈالر اور قطر کے حکمران خاندان کی دولت کا تخمینہ 200 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ لیکن ان حکمرانوں نے نہ صرف امریکہ کو اپنا محافظ بنا رکھا ہے بلکہ امریکی صیہونی نظام کی بالادستی کو خطے میں غالب پوزیشن دے رکھی ہے۔ امریکہ مسلسل ایران، چین اور روس میں جمہوریت نہ ہونے یا اس کے طریقہ کار پر اعتراض کرتا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا ممالک میں بادشاہی آمریتوں کو خود سپورٹ کرتا ہے۔ یہ دوہرا معیار سمجھنے کے لئے وسیع سیاسی شعور کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے پچھلے تین سو برس سے یورپ اور امریکی استعماری غلبے کے دور میں وسائل کی لوٹ مار کے طریقوں، قوموں کو غلام بنانے کا برطانوی کالونیل کردار، امریکہ کا پوسٹ کالونیل رول سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف ایک مثال کہ برطانیہ کے ہندوستان پر قبضے سے قبل متحدہ ہندوستان دنیا کی جی ڈی پی کا 25 فیصد تھا اور جب برطانوی سامراج کو 150 سالہ مزاحمت کے بعد ہندوستان چھوڑنا پڑا تو یہ معیشت سکڑ کر 2 فیصد سے بھی کم رہ گئی تھی۔ آج بہت سے بزرگ پاکستانی حکمرانوں کی لوٹ مار اور بے ایمانی سے تنگ آکر کہتے ہیں یار اس سے بہتر تو انگریز کا دور تھا۔ یعنی اپنی سادگی میں انھیں انگریزوں سے بھی بدتر قرار دیتے ہیں۔ 
صدر ٹرمپ پر اندرونی دبا¶ موجود ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے اپنے اڈوں اور فوجی اہلکاروں میں تخفیف کرے تاکہ امریکہ کی قومی معیشت پر بوجھ کم ہو سکے۔ البتہ یہاں موجود وسائل کو لوٹنے اور نچوڑنے کا تسلسل قائم رہے۔ اس کے لئے اصل منصوبہ یہ تھا کہ ابراہم اکارڈ جو کہ بظاہر ایک مذہبی کارڈ تھا لیکن اس کے اصل مقاصد سیاسی ہیں۔ اس اکارڈ کے ذریعے علاقے کی چوکیداری اسرائیل کو دی جائے۔ جو امریکی خوفناک سمارٹ ہتھیاروں کے ذریعے کسی قسم کی چوں چراں کرنے والے کو بٹن دباتے ہی ملیامیٹ کر دے گا۔ مشرق وسطیٰ کے ڈرے ہوئے حکمرانوں کی چودھراہٹ برقرار رکھنے کے عوض امریکی سامراجی نظام ہتھیار بیچنے اور تیل کے وسائل کا رخ امریکی معیشت کی جانب رکھے گا۔ تیسرا اور اہم رخ چین اور روس کو اس خطے کے وسائل سے دور رکھنے اور سیاسی مداخلت سے روکنے کی حتی الامکان کوشش جاری رکھے گا۔ اب اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران تھا جو اپنے انقلابی فکر اور قومی شناخت کی بنا پر امریکی غلبے کو قبول کرنے سے منکر تھا۔ لہٰذا طاقت کے نشے میں بدمست ابرہہ کے ہاتھیوں کی مانند امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ تو کر دیا لیکن ایران کی چھوٹی چھوٹی ابابیلوں (ڈرونز و میزائل سسٹم) نے امریکی سمارٹ ہتھیاروں، میزائل ڈیفنس سسٹم، سٹیلتھ طیارے وغیرہ کا سارا بھرم توڑ دیا ہے۔
 حالت یہ ہے کہ اب امریکہ کو خطے میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو بچانا مشکل ہو چکا ہے۔ اب تک امریکہ 113 ارب ڈالر سے زائد اس جنگ میں پھونک چکا ہے اور اس کا تقریباً 6 ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان ایرانی حملوں میں تباہ ہو چکا ہے۔ اب ایسے میں ٹرمپ جو کبھی جعلی امن معاہدوں کا ڈول ڈالتا ہے تو کبھی جنگ کی دہشت سے ڈرانے کے تمام حربے آزماتا ہے۔ ایران ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ جس رجیم کو امریکہ گرانے آیا تھا وہ پہلے سے زیادہ مضبوط، بااثر اور عوامی حمایت یافتہ ہو چکا ہے۔ اس سارے عمل نے ٹرمپ کو بھونچکا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کمیٹیوں میں اپوزیشن کی جانب سے اس جنگ اور ٹرمپ کے بیانات کو لے کر معاملہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ کیونکہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے امریکی عوام لاعلم رکھا جاتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں یہ سب پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں، ڈیجیٹل میڈیا نے ہر شے کی قلعی کھول دی ہے۔ اب دنیا کو امریکی کلاسیفائیڈ پیپرز کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس جنگ کا سب سے شرمناک پہلو امریکی صدر ٹرمپ کے خاندان کا انسانی قتل و غارت گری پر سٹہ کھیلنا ہے۔ اس نے تو رومن ایمپائر کی ہولناکیوں کو بھی شرما دیا ہے۔ کیا یہ حقائق صدر ٹرمپ سے بغل گیر ہونے والے مسلم حکمرانوں کے علم میں نہیں ہیں۔ یقینی طور پر سب بہت اچھے طریقے سے باخبر ہیں بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی جانتے ہوں گے۔ لیکن جن ریاستوں کا وجود ہی برطانوی سازشوں کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو توڑ کر آیا ہو تو وہ اپنے خمیر سے کیونکر ہٹ سکیں گے؟ اپنے عوام کو کسی درجہ معاشی اور مذہبی اعتبار سے مطمئن کر کے یہود و نصاریٰ کے عالمی معاشی و سیاسی غلبے کو قبول کرنا کیا دین سے متصادم عمل نہیں ہے؟ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تاریخ کو درست انداز میں پڑھنے، سمجھنے اور سمجھانے کا عمل موقوف کر دیا گیا ہے۔ رسمی اور جعلی علوم کے ذریعے قوم کو سرمایہ داری کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ ہمارے نوجوان طبقہ کو درست علم نہ دے کر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ ریاستوں کی جعلی علاقائی، گروہی، لسانی و فرقہ وارانہ عصبیتوں کی عینک سے تمام واقعات کو دیکھیں اور مزید تقسیم در تقسیم کے عمل سے دوچار ہو کر عالمی سرمایہ داری کا آلہ کار بنے رہیں۔ جب تک مسلم نوجوان خاص طور پر پاکستان کے باہمت اور باشعور طلبا حقیقی مزاحمتی تاریخ، درست مذہب (انسانیت دوست) اور خاص طور پر سیرت مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں قرآن کو نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک ان کی ہر تحریک اور جدوجہد، بالواسطہ یا بلاواسطہ عالمی سامراج کے آلہ کار نظاموں کی جھولی میں گرتی رہے گی۔

مزیدخبریں