مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف روایتی عسکری برتری پر نہیں بلکہ جدید جنگی حکمت عملی، سفارت کاری، اطلاعاتی محاذ اور قومی یکجہتی پر بھی منحصر ہے۔ اس دوران پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے ردعمل کو ملک کے اندر ایک موثر اور مربوط حکمت عملی کے طور پر دیکھا گیا، جس کی مثال بروقت فیصلوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی صورت میں سامنے آئی۔ اسی طرح عوامی سطح پر ریاستی اداروں کے ساتھ غیر معمولی یکجہتی نے قومی اتحاد کو مزید مضبوط کیا، اور بحران کے دنوں میں سیاسی اختلافات کے باوجود ایک مشترکہ قومی بیانیہ ابھر کر سامنے آیا۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بصیرت انگیز حکمت عملی کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔
پاکستانی مو¿قف کے مطابق اس بحران میں تحمل اور مو¿ثر دفاعی حکمت عملی کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔ محدود ردعمل اور دفاعی تیاری کے امتزاج نے کشیدگی کو بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا۔ اس کے بعد یہ تاثر بھی ابھرا کہ خطے میں بھارت کی غیر متنازع برتری کا تصور پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا، کیونکہ عملی سطح پر پاکستان کی جوابی صلاحیت اور دفاعی تیاری نے توازنِ طاقت کے بیانیے کو چیلنج کیا۔ اگرچہ بھارت اب بھی ایک بڑی علاقائی طاقت ہے، تاہم حالیہ واقعات نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو نظر انداز کرنا آسان نہیں، جس کی مثال سرحدی کشیدگی کے دوران محدود مگر مو¿ثر دفاعی ردعمل ہے۔ اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ اب صرف سرحدی نہیں رہا بلکہ سفارتی، اطلاعاتی اور سائبر محاذ تک پھیل چکا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں بیانیہ سازی، سوشل میڈیا پر منظم مہمات اور سفارتی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوششیں اس نئی جنگ کا حصہ بن چکی ہیں۔ پروپیگنڈا، سفارتی دبا اور ڈیجیٹل مہمات اس نئی کشیدگی کا اہم جزو ہیں، جس کے باعث مستقبل میں تناو¿ کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ ہر بحران کے بعد معلوماتی محاذ مزید اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
پاکستان کے لیے دوسرا بڑا چیلنج مغربی سرحد کی صورتحال ہے، جہاں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ سکیورٹی خدشات کو بڑھا رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے حملے اور سکیورٹی فورسز پر بڑھتا ہوا دبا اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کا مو¿قف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو اس کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے اور سرحد پار شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف مو¿ثر کارروائی ناگزیر ہے، جس کی عملی ضرورت بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس تعاون میں بہتری کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ ساتھ ہی بعض بیرونی عناصر کے کردار سے متعلق الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ان معاملات پر بین الاقوامی سطح پر مختلف آرا اور موقف پائے جاتے ہیں، جس کے باعث یہ مسئلہ مسلسل سفارتی بحث کا حصہ ہے۔ علاقائی سطح پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی تیزی سے غیر مستحکم ہو رہی ہے۔ غزہ کی جنگ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، خلیجی ممالک کے سکیورٹی خدشات اور بحیرہ احمر میں تنا نے پورے خطے کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔ توانائی کی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور عالمی تجارت کے متاثر ہونے کے خدشات نے اس بحران کو عالمی سطح تک پھیلا دیا ہے۔ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا تک بھی پہنچ سکتے ہیں، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ اور تجارتی راستوں کی بندش کی صورت میں۔ان حالات میں پاکستان کے لیے سب سے اہم چیلنج ایک متوازن اور فعال خارجہ پالیسی ہے۔ ایک طرف چین، سعودی عرب، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں، جن کی مثال اقتصادی راہداری منصوبوں اور دفاعی تعاون کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور یورپ کے ساتھ اقتصادی و سفارتی روابط بھی ناگزیر ہیں، جو تجارتی منڈیوں اور مالیاتی تعاون کے لیے اہم ہیں۔ یہی توازن مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا بنیادی معیار ہوگا، کیونکہ کسی ایک بلاک پر حد سے زیادہ انحصار سفارتی گنجائش کو محدود کر سکتا ہے۔
دفاعی میدان میں بھی پاکستان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، کیونکہ مستقبل کی جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہیں گی۔ ڈرونز کے ذریعے نگرانی اور حملے، سائبر حملوں کے ذریعے نظامی خلل اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلہ سازی اب جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہے۔ مئی کے بحران نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا کہ جدید جنگیں زیادہ پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہو چکی ہیں، جہاں ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر تیاری ضروری ہے۔تاہم کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کی معیشت، سیاسی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی اور قومی اتحاد میں ہوتی ہے۔ مضبوط معیشت بیرونی دباو¿ کو کم کرتی ہے، جبکہ سیاسی استحکام پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔ داخلی کمزوریوں کی صورت میں بیرونی کامیابیاں بھی دیرپا نہیں رہتیں، جیسا کہ تاریخ میں کئی ممالک کے تجربات سے واضح ہوتا ہے۔ اسی لیے قومی سلامتی کا تصور صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشی اور سماجی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں اسے بیک وقت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں دانشمندانہ قیادت، قومی اتفاقِ رائے، مضبوط معیشت اور فعال سفارت کاری ہی وہ عوامل ہیں جو ملک کو استحکام اور تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔خطہ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کےلئے ضروری ہے کہ وہ دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، اقتصادی اصلاحات اور مو¿ثر سفارت کاری پر بھی یکساں توجہ دے۔ یہی راستہ اسے نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائے گا بلکہ ایک ذمہ دار اور باوقار علاقائی قوت کے طور پر بھی مستحکم کرے گا۔
بھارت کی ریاستی دہشتگردی اور پاکستان کیلئے نئے چیلنجز
08:29 AM, 29 Jul, 2026