جب دل ٹوٹ جائے تو

08:31 AM, 29 Jul, 2026


دل کہاں ٹوٹتا ہے اور کہاں جڑتا ہے یہ جاننے کے لیے خود کو بھی جاننا ضروری ہے اور اس ماحول کی آگہی بھی ضروری ہے جس میں قدم قدم پر دل پرخراش لگتی ہے۔
وہ دل جو وفا کے لیے مخصوص ہو چکا ہو، اسے جب اس بے وفا دنیا کے بازار میں لایا جائے گا تو ٹوٹ جانا ہی اس کا مقدر ٹھہرے گا۔ وفا کی قدر اہلِ وفا ہی کر سکتے ہیں۔ خلوص کی قیمت اہلِ خلوص ہی ادا کر سکتے ہیں۔ اگر اپنے اور غیر میں فرق جانچ لیا جائے تو اس بے قدری سے کسی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
یہ جان لینا چاہیے کہ دین اور دنیا ایک دوسرے کا غیر ہے۔ ایک دنیا کا ہیرو دوسری دنیا میں ولن قرار پاتا ہے۔ دین دار آدمی اگر دنیا کے بازار میں بے قدری محسوس کرتا ہے تو یہ اس کے لیے گویا ایک سند ہے۔ اسے اگر اہلِ جفا کی طرف سے دشنام طرازی مل رہی ہے تو یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ وہ درست راستے پر ہے۔ دنیا کا بازار کیا ہے؟ دنیا کا بازار وہ ہے جہاں قدر کی بجائے قیمت کی جانچ کی جائے، معیار کی بجائے مقدار کا ساتھ دیا جائے اور جہاں عزت کی جگہ شہرت کو پذیرائی میسر ہو۔
اب جو شخص دین سے وفاداری کا دم بھرتا ہو اور دنیا کے بازار میں اپنی پذیرائی کا خواہاں بھی ہو تو ایسا شخص صداقت کی بجائے منافقت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ دین دار وہ ہے جو دنیا کے بازار میں اپنی پذیرائی کی تمنا سے یکسر بے نیاز ہو جائے۔ یہ ایک درجہ اخلاص ہے۔ اس سے اگلا درجہ ملامت کا درجہ ہے۔ صوفیا کے ہاں ملامت بہت پسندیدہ ہے۔ کشف المحجوب میں درج ہے کہ ملامت ایک ایسا راستہ ہے جس کی خبر پہلی امتوں کے ہاں نہیں تھی، یہ شرف امتِ محمدیہ کے فقرا کے ساتھ مخصوص ہے۔ ملامت درجہ اخلاص تک پہنچنے کا ایک راستہ بھی ہے، مشق بھی اور پھر ایک سند بھی۔ دراصل ملامت کی گلی سے وہی گذر سکتا ہے جو خوگرِ اخلاص ہو گا۔ جس کے ہاں اخلاص میں ذرا سا بھی خلل یا تعطل واقع ہو گا، وہ اپنی بے توقیری پر بھڑک اٹھے گا، اپنی صفائیاں پیش کرنے لگے گا اور اپنی پاکیِ داماں کی حکایت کھول کر بیٹھ جائے گا۔
دین دار اور دنیا دار کا ایک ساتھ اکٹھا ہونا ایسے ہی ہے جیسے آگ اور پانی کا اکٹھا ہونا۔ اگر وہ ایک جگہ نظر آئیں تو سمجھ لیں کہ شعلہ ابھی بھڑکا نہیں، اور پانی ابھی منجمد ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں کے پاو¿ں میں ایک ہی ضرورت کی بیڑی پڑی ہوئی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ اپنی محافلِ گفتگو میں حکایاتِ رومی سے سنایا کرتے کہ ایک شکاری نے دیکھا ایک جگہ کبوتر اور کوا ایک ساتھ دانہ چُگ رہے ہیں۔ وہ حیران ہوا کہ یہ دونوں ایک ساتھ کیسے نظر آ رہے ہیں جنس با ہم جنس پرواز ایسے محاورے کا کیا بنے گا۔ وہ جب کچھ قریب ہوا تو دیکھا کہ دونوں زخمی ہیں۔ وہ سمجھ گیا کہ غیر جنس کب اور کیسے ایک دوسرے کی سنگت اختیار کرتی ہے۔ بس! کوئی مشترکہ تکلیف ہے یا کوئی مشترکہ ضرورت جو دین دار کو دنیا دار کے ساتھ کچھ سمے بِتانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
دراصل دل ایک ایسا آئینہ ہے جو صاف ہوتے ہی دنیا سے بیزار ہو جاتا ہے اور دنیا اس سے بیزار ہو جاتی ہے۔ آئینے میں خرابی میں یہ سچ بولتا ہے، سچ محسوس کرتا ہے، جو دیکھتا ہے، وہی بیان کرتا ہے۔ آئینہ صاف اور شفاف ہو تو اپنے باطن کا عکس بھی دکھاتا ہے اور دوسروں کے باطن کا بھی۔ ایسے میں آئینہ صفت انسان مجمع سے بھاگ جاتا ہے۔ اسے اپنے اردگرد لوگوں سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں سب مفاد پرست ہیں۔ یہاں سب کو سچ سے زیادہ مفاد عزیز ہے۔ مفاد پرستی اور دین پرستی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ مفاد پرست کی دین پسندی ایک ملمع ہوتی ہے۔ وہ سچے دین سے بھاگتا ہے اور روایات و حکایات میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ سچا دین اپنے پیروکار کو سچا ہونے کی تلقین کرتا ہے۔ دین کو ایسی عبادت درکار نہیں جو عبادت گزار کو حقوق العباد سے غافل کر دے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ سچا دین سچوں کے لیے ہے۔ سچا آدمی اپنے مفاد پر دوسروں کے مفاد کر ترجیح دیتا ہے۔ وہ دوسروں کی عزت ہر حال میں برقرار رکھتا ہے۔ وہ کسی کی عزت کو منصب و دولت سے مشروط نہیں کرتا۔ اسے امیر سے زیادہ غریب کے پاس بیٹھنا زیادہ مرغوب ہوتا ہے۔ وہ طعام المسکین کے آداب جانتا ہے وہ طعام المسکین ایسے کرتا ہے کہ مسکینوں کے ساتھ طعام کرتا ہے۔ وہ ان کا سہارا ہوتا ہے جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ مسکین اور غریب لوگ اسے ہمہ دم اپنا مونس و ہمدم پاتے ہیں۔ وہ ایک کے لیے ہر وقت میسر ہوتا ہے۔
قرآن میں ہے کہ سچوں کے ساتھ ہو جا۔ سچا بالآخر سچوں کے ہمراہ ہو جائے گا اور جھوٹوں کو اِس جھوٹی دنیا میں چھوڑ کر آگے نکل جائے گا۔ کشف المحجوب میں جہاں دنیا کا ذکر ہوتا ہے، اسے کہیں بے وفا کہا جاتا ہے اور کہیں غدار کہا جاتا ہے۔ بسا اوقات حیرت ہوتی ہے کہ اہلِ فقر دنیا کو اس قدر تحقیر آمیز خطاب سے کیوں مخاطب کرتے ہیں۔ دنیا جب دھوکا دیتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سچ واقعی یہی ہے جو سچوں نے بیان کر دیا ہے۔
القصہ! اگر آپ کا دل ایک آئینہ ہے تو پھر اس کے ٹوٹنے کا انتظار کیجئے۔ دل ٹوٹے گا تو آپ اپنے اصل قبیلے کی طرف لوٹ سکیں گے اصل قبیلہ صاف رو اور صاف طینت لوگوں کا قبیلہ انبیا و اولیا کے فکر کا امین قبیلہ! اس ماحول اور اس شخص کو دعا دینی چاہیے جس نے اپنے مفاد او ر مزاج کا پتھر آپ کی جانب پھینکا اور دل ٹوٹ گیا۔ یہ شکستہ، کرچی کرچی ہوا دِل، اسے بہت محبوب ہے جو دلوں کو بنانے والا ہے دراصل دل کا آئینہ اس نے اپنے لیا بنایا تھا اِس میں اسی آئینہ رو کو منعکس ہونا تھا جو کائنات کے ذرے ذرے میں منعکس ہو رہا ہے ہم دل ایسی بیش قیمت سوغات کو دنیا کے بازار میں لے آئے اور اسے مکدر کر دیا۔ مکدر آئینے کو صیقل کرنا مشکل تھا، بہت ریاضت طلب تھا سو! آئینہ ساز نے سوچا کہ کیوں نہ اس مکدر آئینے کو تڑوا دیا جائے اور اِس کے عوض اِسے ایک نیا صاف اور شفاف آئینہ عطا کیا جائے جس میں وہ خود جلوہ گر ہو!!

مزیدخبریں