اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنی وسائل اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ بات انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان ریان زنکے اور مائیکل بامگارٹنر پر مشتمل وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
وزیراعظم نے وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے دورے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، رابطوں اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کے موقع پر امریکی عوام اور وفد کو مبارکباد پیش کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مداخلت سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جس سے خطے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ میں مدد ملی۔
امریکی قانون سازوں نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان خوشگوار روابط دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے علاقائی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دونوں جانب سے وفود کے تبادلوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
بعد ازاں وزیراعظم نے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی کاروباری وفد کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ وفد میں آئی ٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، کان کنی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اقتصادی شراکت داری دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم ستون ہے۔
انہوں نے امریکی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کا آغاز کریں۔
وزیراعظم نے پاکستانی نژاد امریکی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ میں اہم کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیونٹی پاکستان اور امریکا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔