آذربائیجان میں پاکستانی سفیر قاسم محی الدین صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے تجویز دی کہ مجھے چند جامعات کا دورہ کرنا چاہیے ، طالب علموں اور اساتذہ سے ملنا چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ میں وہاں پاکستانی خواتین کے حوالے سے گفتگو کروں ۔ تاکہ پاکستان کا مثبت چہرہ یہاں کے لوگوں کے سامنے آئے۔ سفیر صاحب کی زبانی یہ سن کر اچھا لگا کہ آذربائیجان ڈائیلر یونیورسٹی میں طالب علم اردو زبان سیکھتے ہیں۔ سفیر صاحب نے تجویز کیا کہ میں پاکستان کلچرل سنٹر کا دورہ ضرور کروں۔ اردو سیکھنے والے طالب علموں سے ملاقا ت کروں ۔ مجھے اردو بولتے جاپانی، چینی اور ترک شہریوںسے ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔ مجھے انہیں سننا نہایت دلچسپ لگتا ہے۔ سو میں نے فوراًہامی بھر لی۔ چند دن کے بعد پاکستانی سفارت خانے کے تھرڈ سیکرٹری حسنین ارشد صاحب کے توسط سے ڈائیلر یونیورسٹی آف لینگویجز سے محمود صاحب نے رابطہ کیااور پاکستان کلچرل سنٹر کے دورے کی دعوت دی۔ ہم نے دن اور وقت طے کیا۔ وقت مقررہ پر گاڑی نے مجھے ہوٹل سے لیا اور یونیورسٹی تک پہنچایا ۔ وہاں محمود صاحب نے خوش آمدید کہا۔یہ ایک سرکاری جامعہ ہے، جو زبانوں ، بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں کے حوالے سے معروف ہے۔ یہاں پاکستان کلچرل سنٹر قائم ہے جہاں آذربائیجانی طالب علم اردو زبان سیکھتے اور پاکستانی ثقافت کے بارے پڑھتے ہیں۔ سنٹر میں آذربائیجانی خاتون استاد نے خوش دلی سے استقبال کیا۔ پندرہ بیس لڑکے لڑکیاں موجود تھے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا۔ اپنی یونیورسٹی کا اور خاص طور پر اپنے ڈیپارٹمنٹ فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ کا۔ فلم کا نام سن کر طالب علموں کے چہرے پر رونق آگئی۔
خاتون ٹیچر نے بتایا کہ وہ انگریزی کی استاد ہیں۔فرداً فرداً سب طالب علموں نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں اپنا تعارف کرایا۔ ایک دو طالب علم نسبتاً روانی میں اردو بول سکتے تھے۔یہ پہلے سمسٹر کے طالب علم تھے۔ ان کی شکلوں سے لاابالی پن جھلک رہا تھا۔ یہ سب مجھ سے کچھ جھجک کر بلکہ شرما کر بات کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کیساتھ سرگوشیاں کر کے ہنس رہے تھے۔ میں نے پاکستان کا تعارف پیش کیا۔ خواتین کے متحرک کردار کی بات کی۔ بتایا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ بے نظیر بھٹو کا ذکر کیا جو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ مجھے خوشی ہوئی جب خاتون استاد نے بے نظیر بھٹو کے باے میں اپنی معلومات پیش کیں۔ بچے تمام گفتگو دلچسپی سے سنتے رہے۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ ہم نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے بارے میں پڑھا ہے جو نہایت خوبصورت ہیں۔ مجھے بہت اچھا لگا جب ان بچوں نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کا تذکرہ کیا۔مجھے حیرت ہوئی جب دو بچیوںنے مریم نواز شریف کا ذکر کیا۔ بچوں نے بتایا کہ ہمیں پاکستان کی ثقافتی سرگرمیاں اور لباس بہت پسند ہیں۔ میں نے ان طالب علموں کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور کہا کہ پنجاب یونیورسٹی آپ کی میزبانی کرے گی۔ یہ سن کر ان نوجوانوں کے چہرے کھل اٹھے۔
ایک بچی نے سوال کیا کہ کیا پاکستا ن ایسا ہی ہے جیسا فلموں میں دکھایا جاتا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ فلم کس نے بنائی ہے۔ مثال کے طور پر آرمینیا کوئی فلم آذربائیجان کے بارے میں بنائے گا تو وہ کیسی ہو گی؟ بچی نے کہا کہ وہ یقینا منفی فلم ہو گی۔ میں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ عام طور پر دنیا بھر کے میڈیا پر جو بھی دکھایا جاتا ہے وہ حقیقت کا عکاس ہوسکتا ہے اور کبھی غیر حقیقی بھی۔ ایک بچی نے بتایا کہ اسے پاکستانی ڈرامے پسند ہیں۔جبکہ پاکستانی ایکٹر فیروز خان اور ثنا جاوید اس کے پسندیدہ ہیں۔ سفیر صاحب نے بھی بتایا تھا کہ صنف آہن ڈرامہ آذربائیجانی ترجمے کیساتھ یہاں کے ٹیلی ویژن چینل پر چلا تھا، جسے عوام نے پسند کیا۔
ان نوجوانوں سے مل کر محسوس ہوا کہ ان کا دھیان پڑھائی لکھائی میں کم کم ہے۔ میرے پوچھنے پر ان کی ٹیچر نے تصدیق کی کہ پڑھائی لکھائی میں ان کی دلچسپی واجبی سی ہے۔ وہ کہنے لگیں کہ یہ ہماری نوجوان نسل کا عمومی رویہ ہے۔ آپ کو بہت کم نوجوان ایسے ملیں گے جو اپنی پڑھائی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ کہنے لگیں کہ نوجوان چاہتے ہیں کہ ہم کسی طرح ڈھیر ساری دولت کما لیں۔ یہ صرف ان کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں جو انہیں دولت مند بنا دے۔
ازراہ مذاق میں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ایسی کتابیں بکتی ہیں جن کا عنوان ہوتا ہے کہ’’کروڑ پتی بننے کے 101 طریقے‘‘۔ ٹیچر کہنے لگیں جی ہاں ، یہ بچے بھی ایسی کتابیں پسند کرتے ہیں۔ یہ ایسی مہارتیں سیکھنا چاہتے ہیں کہ جن کی بدولت یہ دنوں میں امیر ہو جائیں۔ میں نے پوچھا کہ آذربائیجانی نوجوان ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ کتنا وقت گزارتے ہیں؟ ٹیچر نے بتایا کہ ہمارے نوجوان ٹک ٹاک بہت پسند کرتے ہیں اور گھنٹوں اس میں مگن رہتے ہیں۔ کہنے لگیں کہ یہ نہایت برا رویہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان زیادہ تر انگریزی مواد دیکھتے ہیں، سو یہ انگریزی سمجھ تو لیتے ہیں ، لیکن روانی سے بول نہیں سکتے۔ کہنے لگیں کہ مجھے لگتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے یہ نوجوان نسل silent یعنی خاموش ہو چلی ہے۔
پتہ یہ چلا کہ زیادہ تر آذربائیجانی نوجوان ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جانا چاہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ یہاں ان کے لئے مواقع کم ہیں۔ دوسرے ملکوں میں جا کر وہ آسانی سے دولت کما سکتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہاں نوجوانوں کیلئے ملازمتیں یا مواقع نہیں ہیں؟ ٹیچر نے بتایا کہ جو نوجوان محنت کرتے ہیں ان کے لئے یہاں قدم قدم پر مواقع موجود ہیں۔ تاہم یہ میڈیا کا اثر ہے کہ نوجوان خیالی دنیا کے اسیر ہیں۔میں نے وہاں موجود طالب علموں سے سوال کیا کہ آپ میں سے کون کون اس ملک سے جانا چاہتا ہے؟ ایک بچی کے سوا سب نے کہا کہ ہم آذربائیجان چھوڑکر کسی دوسرے ملک میں جانا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہمارے اکثر پاکستانی نوجوان بھی سوچتے ہیں کہ اس ملک میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور بیرون ملک جا کر وہ اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ میں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ نوجوان اپنے ملک میں رہیں اور وہیں اپنا مستقبل بنائیں۔ میں نے کہا کہ ہم محنت سے کہیں بھی رہ کر ترقی کر سکتے ہیں۔ میں آپ کو اپنے بیسیوں شاگردوں کی مثال دے سکتی ہوں ، جنہوں نے اپنے ملک میں رہ کر محنت کی اور اچھا مقام حاصل کیا۔
ٹیچر کہنے لگیں کہ اگرچہ آذر بائیجان اسلامی ملک نہیں ہے۔ اس کے باجود ہمارے ہاں خاندان کا نظام موجود ہے۔ والدین اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان کے گھر آنے جانے کے اوقات کار پر نگاہ رکھتے ہیں۔ آذربائیجانی نوجوان اس نگرانی سے بھی نجات چاہتے ہیں۔ یہ آزاد زندگی کے خواہاں ہیں۔ اس لئے کسی آزاد یورپی ملک میں جانا چاہتے ہیں۔ پتہ یہ چلا کہ آذربائیجان میں نائٹ لائف اور کلبوں وغیرہ میں جانے کا کلچر موجود ہے ، تاہم وہ کھلا ڈلا پن نہیں ہے جو مغربی ممالک کا خاصہ ہے۔واقعتا میں نے سڑکوں ، بازاروں ، ریستورانوں اور یونیورسٹیوں میں مشاہدہ کیا کہ یہاں لڑکے لڑکیوں کے درمیان کچھ فاصلہ موجود ہے۔بالکل ایسے جیسے ہمیں جاپان میں کچھ مشرقی پن دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آذربائیجان میں نکاح کا رواج ہے۔ نکاح کے بغیر لڑکے لڑکی کا اکٹھے رہناناپسند کیا جاتا ہے۔ اخلاقی اقدار موجود ہیں ۔ تاہم زوال پذیر ہیں۔ ٹیچر نے بتایا کہ ہماری نوجوان نسل میں جذبہ حب الوطنی موجود ہے۔ آرمینیا کیساتھ جنگ کے دنوں میں ان کا جذبہ عروج پر تھا۔ پتہ یہ چلا کہ آذربائیجانی نوجوان پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ پاک بھارت تنازع کے دنوں میں یہ نوجوان پاکستان کے جھنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آتے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اردو سیکھنے والے ان بچوں کو پاکستان کا قومی ترانہ آتا ہے۔ چودہ اگست کو یہ بچے پاکستانی سفارت خانے میں جا کر ترانہ پڑھتے ہیں۔
ان نوجوان طالب علموں سے مل کر مجھے بہت اچھا لگا۔ واپسی پر میں یہ تاثر لے کر اپنے ہوٹل لوٹی کہ پاکستان اور آذربائیجان کے نوجوانوں میں کافی مماثلت ہے۔ یہ نوجوان جلد از جلد دولت کمانا چاہتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ اپنے ملک سے نکل کر کسی دوسرے ملک میں جا کر بسنا چاہتے ہیں۔ تاہم جب ملک پر جنگ جیسی کوئی افتاد آن پڑے تو ان کا جذبہ حب الوطنی پوری طرح بیدار ہو جاتا ہے۔
آذربائیجانی طالب علموں کے ساتھ!!
08:57 AM, 28 Jul, 2025