اس سے بہتر تو میرا جنگل تھا

08:55 AM, 28 Jul, 2025

بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں زندگی کی قدر کم اور غیرت کا تصور زیادہ قیمتی ہو چکا ہے۔ انسانی تہذیب تاریخ کے اوراق میں جتنی قدیم ہے عورت کی مظلومیت کی داستان بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ وہ کبھی دیوی کہلائی تو کبھی حوا کی بیٹی، کبھی بہن، بیوی اور ماں کا روپ اختیار کیا مگر سماج کے اکثر ضمیر اس کے وجود سے خوفزدہ ہی رہے۔ کہیں اسے زندہ دفن کیا گیا، کہیں ستی بنا کر جلایا گیا تو کہیں غیرت کی آڑ میں موت کا پروانہ جاری کیا گیا۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مذہب، روایت اور سماجی اقدار کا ایک عجیب و غریب امتزاج موجودہے۔ یہاں عزت کے نام پر جو قتل ہوتے ہیں ان کا محرک درحقیقت عزت نہیں، بلکہ تسلط، مردانگی کے کھوکھلے دعوے اور خود ساختہ غیرت کی جھوٹی دیواریں ہوتی ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل ایک ایسا سماجی ناسور ہے جو نہ صرف ہمارے معاشرتی ڈھانچے کوکھوکھلا کر رہا ہے بلکہ اخلاقی، مذہبی اور انسانی سطح پر ہمیں پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل رہا ہے اسلام جو رحم، عدل اور احترام ِ انسانیت کا دین ہے اس میں غیرت کے نام پر قتل جیسا جرم ناقابلِ قبول ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’جس نے ایک جان کو قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا‘۔ (المائدہ:32) مذہب ِ اسلا م تو روزِ اول سے عورت کی عصمت اور عزت کا محافظ ہے نہ کہ اس کے قاتلوں کا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں سے عورت کو اقدار کا بوجھ بنا کر رکھا ہے جہاں غیرت کا پیمانہ اس کی زندگی نہیں بلکہ اس کا خاموش رہنا قرار پایا ہے۔ مگر جب وہ بولتی ہے یا آزادیِ اظہار کرتی ہے تو معاشرہ اسے اذیت کے جنگل میں دھکیل دیتا ہے جہاں ہر سمت انسان نما درندے ہوتے ہیں جو قتل کو وقار اور ظلم کو عزت سمجھتے ہیں۔ جو معاشرہ عورت کو عزت کی دیوی تو بناتا ہے مگر اس کی مرضی کو گناہ سمجھتا ہے وہاں زندگی انسانوں میں نہیں جانوروں میں کٹتی ہے۔ عاصم رضا نے شاید ایسے ہی لمحے کے لیے کہا تھا:
اس سے بہتر تو میرا جنگل تھا
زندگی کٹ رہی ہے کتوں میں
روز اِک خواب دیکھتا ہوں
ایک لڑکی گھری ہے کتوں میں
یہ خواب صرف شاعر کا نہیں، یہ ہر اس معاشرے کا سچ ہے جہاں عورت کی سانس پر بھی مرد کی مرضی کا پہرہ ہے۔ جہاں عورت کے اعتماد، خواہش، آواز، ہنسی اور لباس تک کو تہمت بنا کر اس پر غیرت کا نقاب چڑھا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون موجود ہے۔ 2016 میں پارلیمنٹ نے قانونِ قصاص میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے نا قابلِ معافی جرم قرار دیا۔ مگر زمینی سطح پر اس پرعمل درآمد آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ نظام انصاف آج بھی خاندان، رشتے اور معافی کے بہانے میں الجھا ہوا ہے۔ اکثر قاتل مقتول کے وارث ہونے کے ناتے قانونی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس تسلسل نے ایک مہلک پیغام دیا ہے کہ کوئی عورت اگر تمہاری بہن یا بیٹی ہے تو اس کی جان سستی ہے۔ اس نظام میں وہی محفوظ ہے جو طاقتور ہے اور وہی بے آواز ہے جس کا خون بہایا گیا۔ قبائلی نظام، خاندانی عزت کی جھوٹی تشریحات اور مقامی سیاست ان قاتلوں کے گرد ایک مضبوط دیوار بنا دیتے ہیں اور جب تک یہ دیوار نہیں گرائی جاتی، انصاف کی روشنی اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ یہاں مسئلہ صرف قانون کا نہیں شعور کا بھی ہے۔ جب تک گھر، مدارس، مجلس اور تعلیمی اداروں میں یہ نہیں سکھائیں گے کہ غیرت کسی کی جان لینے کا جواز نہیں، تب تک یہ خونی روایت برقرار رہے گی۔ نئی نسل کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ غیرت ایک باوقار صفت تب ہی ہے جب وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے نا کہ ناحق کسی مظلوم کی سانسیں چھین لے۔ مگر ہم نے غیرت کو صفت نہیں بلکہ جہالت کا جواز بنا لیا۔ اسلام نے غیرت کو کبھی ظلم کی بنیاد نہیں بنایا بلکہ غیرت کو اخلاق، عدل اور عفت سے جوڑا۔ مگر ہمارا معاشرہ آج اس نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے جہاں غیرت ایک تلوار بن چکی ہے مگر اس کی دھار ہمیشہ عورت کی گردن پر ہی چلتی ہے۔ یہ کیسا سماج ہے جہاں عزت دار وہ ہے جو قتل کرے اور بے عزت وہ ہے جو مر جائے۔ پنجاب میںغیرت کے نام پر قتل کی شرح سب سے زیادہ ہے، یہاں قتل کا جواز زیادہ تر خاندانی عزت یا پھر برادری کے طعنوں سے جڑا ہوتا ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا: ’قیامت کے دن سب سے پہلے خونِ نا حق کا حساب لیا جائے گا‘۔ اسلام جو امن، عدل اور حقوقِ نسواں کا علمبردار ہے اسے اکثر غیرت کے نام پر قتل کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ مذہب نے جسے زندہ درگور ہونے سے بچایا اسے مذہب کا نام لے کر آج مار دیا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا جرم ہے۔ غیرت کے نام پر ہونے والے ہر قتل کے بعد ہمارے معاشرے کی خاموشی، لاتعلقی دراصل اس اجتماعی گناہ کا ثبوت ہے جس میں ہم سب شریک ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے نے اس اجتماعی ظلم کو غیرت جیسا پاکیزہ نام دے رکھا ہے۔ جب کوئی عورت اپنے حقِ انتخاب، اپنی مرضی یا اپنی آواز کی قیمت جان دے کر چکاتی ہے تو اس کی لاش پوری قوم کے نظریاتی انحطاط کی علامت بن جاتی ہے۔ ایسے سانحات ہی ہمیں بار بار یاد دلاتے ہیں کہ معاشرے کی جڑیں محض ثقافت، روایت یا خاندانی نظام سے نہیں بلکہ انصاف، تعلیم، قانون اور انسانی وقار سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ کیسی غیرت ہے جو مرد کی ہر لغزش، ہر زیادتی، ہر بُرائی کو خاموشی سے سہتی ہے مگر عورت کے کسی انفرادی فیصلے پر ہتھیار نکال لیتی ہے؟ کیا غیرت کا مفہوم صرف عورت سے وابستہ ہے؟ کیا مرد کا کردار، اس کی بددیانتی، اس کی بے راہ روی غیرت کے دائرے سے باہر ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہیں جن سے ہمارا معاشرہ آج بھی فرار اختیار کرتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کیوں ہوتے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اس خاموشی کا ماتم کریں گے۔
جب ریاست اپنے ہی شہری کی زندگی کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو، جب عدالتیں قانون کی تکنیکی موشگافیوں میں الجھ کر انصاف کو کچل ڈالیں، جب گھر کا معاملہ ہے کہہ کر کیس کو سرد خانے میں ڈال دیا جائے تو پھر غیرت کے نام پر قتل ایک معاشرتی جرم سے زیادہ ریاستی مجرمانہ سہولت بن جاتا ہے۔

مزیدخبریں