غیرت کے نام پر سفاکیت۔۔آخر کب تک؟

08:54 AM, 28 Jul, 2025

بلوچستان سمیت ملک بھر اب صنفی دہشت گردی بھی قابو سے باہر دکھائی دے رہی ہے۔ آئے دن غیرت کے نام پر قتل و غارت کے ہولناک واقعات رونگھٹے کھڑے کر دینے والے ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے میں ایک دلخراش واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آیا۔ یہ واقعہ عید الضحیٰ سے 3 روز 9 قبائلی روایات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ پسند کی شادی جرم بن گیا اور ایک نام نہاد جرگہ نے خود ہی عدالت لگا کر جوڑے کو خوفناک سزا دیدی۔ بانو اور اس کے شوہر احسان کو کاروکاری کے الزام میں سرعام گولیوں سے بھون دیا گیا مگر ریاست کو خبر ہی نہ ہوئی۔ بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کا ثبوت حالیہ سانحہ بلوچستان نے پیش بھی کر دیا۔ موقع پر موجود لوگ قتل کی وڈیوز بناتے رہے۔ شاید ان میں سے کسی نے گذشتہ دنوں یہ وڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی جو فوراً وائرل ہو گئی۔ اگر ویڈیو سامنے نہ آتی تو کئی بانو اور احسان جیسے جوڑوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے کے اس خوفناک کھیل کا پردہ چاک نہ ہوتا۔ ویڈیو میں دکھائی گئی سفاکیت دل دہلا دینے والی ہے۔ بانو نے جس جواں مردی سے موت کو گلے لگایا وہ دل چیر دینے والا منظر ہے۔ شاید اسے معلوم تھا کہ یہاں سب درندے اس کے خون کے پیاسے ہیں اور ان کی پیاس تب تک نہیں بجھے گی جب تک وہ اور اس کا شوہر خون سے لہو لہان زمین پر ڈھیر نہیں ہو جاتے۔ اس نے رحم کی اپیل بھی نہ کی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکومت بلوچستان بھی حرکت میں آ گئی۔ مقدمہ درج ہو گیا اور لرزہ خیز واردات کے تقریباً 14 ملزمان گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔ مگر اتنا کافی نہیں کیونکہ ایسے سفاک لوگ ماضی میں گرفتار ہونے کے بعد رہا بھی ہوتے رہے ہیں۔ قندیل بلوچ کا قاتل بھائی 2019 میں رہا ہو گیا۔ 2016 میں قندیل بلوچ کو جب غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تو اندرون و بیرون ملک اس قتل پر کئی سوالات اٹھائے گئے کہ آخر کب تک وطن عزیز میں غیرت کے نام پر عورتوں سے جینے کا حق چھینا جائے گا۔ قندیل بلوچ کے قتل کے بعد نئی قانون سازی کی گئی۔ غیرت کے نام پر قاتلوں کو 25 سال کی عمر قید کا حکم سنانے کا قانون بنایا گیا چاہے مقتول کے رشتہ دار قاتلوں کو معاف ہی کیوں نہ کر دیں۔ مگر قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ غیرت کے نام پر قتل و غارت میں پاکستان دنیا میں سر فہرست ہے جس کی بڑی وجہ قدیم، فرسودہ روایات اور جرگہ سسٹم ہے۔ 
پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک گھریلو قتل غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے، ہر سال 500 سو سے زائد خواتین صرف غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان ہر صوبہ خواتین کے خلاف جرائم کی ایک لمبی تاریخ رکھتا ہے۔ کاروکاری اور سیاہ کاری جیسی صدیوں پرانی رسمیں ابھی تک اپنی جڑیں مضبوط کیے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ہتھیار ہے جو صدیوں سے خواتین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی مرضی سے جینے کا حق سیکڑوں خواتین کھو چکی ہے۔ اس واقعے کے بعد بلوچستان حکومت کا شادی شدہ جوڑے کے ہولناک قتل میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا دعویٰ تو سامنے آیا ہے لیکن ساتھ میں وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے دونوں افراد کو شادی شدہ نہ قرار دیتے ہوئے قتل کو جواز دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی ان قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچائے گی یا بچ بچا کے طریقے ڈھونڈے جائیں گے۔ اب راولپنڈی جیسے قدیم شہری علاقے میں 19 سالہ نئی نویلی دلہن کو غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا واقعہ بھی منظر عام پر آیا ہے۔ یہاں بھی جرگے کے فیصلے پر قتل کر کے لاش کو خاموشی سے ٹھکانے لگا دیا گیا۔ قانون خاموش تماشائی بنا رہا۔ ابھی جمعہ کے روز بدین گاؤں کے بزرگ نے غیرت کے نام پر اپنی 22 سالہ نواسی فہمیدہ کو قتل کر دیا۔ اب کی بار پنجاب اور بلوچستان حکومتوں کا کڑا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ انسانیت کے ان دشمنوں کو بھیانک سزا دلوا کر کوئی نظیر قائم کی جائے گی یا معاملہ ٹھپ ہو جائے گا۔ بلوچستان اور راولپنڈی واقعات پر پارلیمنٹرینز کی اکثریت خاموش ہے۔ پھر غیرت کے نام پر بہیمانہ قتل عام کے خلاف کون آواز اٹھائے گا؟ کون بنے گا مظلوم کی آواز؟ پاکستان میں 2008 میں نصیبہ بی بی اور اس کے ساتھ تین خواتین کو جعفر آباد میں زندہ دفن کر دیا گیا تھا ان کا جرم بھی اپنی پسند کی شادی کرنا تھا۔ معروف صحافی اور نیو نیوز کے اینکر پرسن رؤف کلاسرا نے جب خبر بریک کی تو قومی اسمبلی میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ مگر تہرے قتل کے 17 سال گزرنے کے بعد بھی قاتلوں کو سزائیں نہ ہوئیں۔ سی طرح سے 2021 میں تربت میں ایک اور نوجوان جوڑے کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے خاندان کی مرضی کے خلاف نکاح کیا تھا۔ وہ واقعہ بھی میڈیا پر رپورٹ ہوا، ایف آئی آر بھی درج ہوئی مگر قاتل آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ رواں برس 14 سالہ امریکی لڑکی حرا کو باپ اور ماموں نے صرف ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ غیرت کے نام پر ناجائز اور ناحق قتل کی ایسی کئی مثالوں سے ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔ 2023 میں دنیا بھر میں 51 ہزار خواتین اور لڑکیوں کو فیملی یا رشتے داروں نے قتل کر دیا۔ اوسطاً 140 لڑکیاں روزانہ اپنے رشتے داروں کے ہاتھوں قتل ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف پُر تشدد واقعات میں ہر سال گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں 2023 میں 324 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 346 ہو گئی۔ یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ جب قانون کا خوف معاشرے سے ختم ہو جائے تو اس کا نتیجہ جرائم میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ملک بھر میں جنسی زیادتی اور غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں سزا کی شرح صرف 0.5 فیصد ہے۔ موجودہ نظام عدل خواتین کو آج تک انصاف نہیں دلا سکا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بھی وہی قوانین رائج ہوں جو ملک کے دیگر علاقوں میں ہے۔ جرگہ سسٹم کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم ایسا ممکن ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیوں کہ جاگیر دارانہ اور سردارانہ نظام اس نظام سے بھرپور استفادہ کیے ہوئے ہیں۔ ریاست کے رسمی قانونی ڈھانچے اور مضبوط قبائلی ڈھانچے کے درمیان تصادم دہائیوں پرانا ہے۔ 1970 کی دہائی میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل کی حمایت سے قبائلی سرداری نظام کو انصاف اور جمہوری طرز حکمرانی سے عدم مطابقت کی وجہ سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ مگر صوبائی اسمبلی کی منظوری کے باوجود اس قرارداد کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں وفاقی حکومت نے خاموشی سے روک لیا۔ اگر اس وقت اس قرارداد کو قومی اسمبلی سے منظور کر لیا جاتا تو بلوچستان کا قبائلی نظام بھی ملک کے رسمی قانون کے عین مطابق ہوتا۔ ڈیگاری میں حالیہ وحشیانہ قتل اس بات کی دلیل ہے کہ قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ انسانی بینادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ قبائلی اتھارٹی اور روایات ریاست کی قانونی بالادستی پر بھاری ہیں۔ اب یہ دونوں واقعات دونوں صوبوں کی حکومتوں کے لیے ٹیسٹ کیس ہیں۔ اگر ان کیسز میں بھی قاتل بچ نکلتے ہیں تو پھر حوا کی بیٹیوں کا ناحق خون یونہی بہتا رہے گا۔ امید کا دیا جلنے سے پہلے ہی بجھ جائے گا۔

مزیدخبریں