نئے بحران کی طرف بڑھتا امریکہ

08:53 AM, 28 Jul, 2025

نظام مملکت جب تک دیدئہ بینا رکھنے والوں، صاحبان عقل و فہم کے ہاتھوں میں ہو کامیابی سے چلتا رہتا ہے۔ برطانوی حکومت کا سورج اس کی حدود میں غروب ہوتا نظر نہیں آتا۔ برصغیر پر اکبر اعظم نصف صدی تک حکومت کرتا نظر آتا ہے۔ معاملات سیاسی بونوں کے ہاتھوں میں آجائیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو نوزائیدہ پاکستان میں بانی پاکستان قائداعظم کی رحلت کے بعد ہوتا نظر آیا جس مافیا سے آزادی حاصل کی تھی اس کے بغل بچے نے کہا میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا پاکستان جتنے وزیراعظم بدلتا ہے۔ سلطنت برطانیہ کے سکڑنے کے اسباب پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے نظام جب تک بادشاہ کے ہاتھ میں رہا کامیابی سے چلتا رہا، جب نالائق اور نااہل سازشی مشیروں کے ہاتھ آیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی بن گئی پھر فیصلے اس کی مرضی سے ہونے لگے۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا زوال اس لئے شروع ہوا کہ اس نے مملکت کے کاموں پر توجہ دینے کے بجائے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے ٹوپیاں سینا شروع کر دیں اور خطاطی کو وقت دینے لگا۔ بہادر شاہ ظفر اپنے زمانے میں اتنا غریب نہ ہوا تھا کہ اس کے پاس بجلی کا بل دینے، گیس کا سلنڈر خریدنے یا موبائل فون میں بیلنس ڈلوانے کیلئے پیسے نہ رہے تھے۔ معاملہ حسین و جمیل کنیزوں سے شروع ہوا انہیں خوش رکھنے کیلئے افیون شروع کر دی ان سے فارغ ہو کر نیند کے مزے لیتا جب دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں کچھ دیر کیلئے ہوش میں آتا تو نیک نامی کمانے کیلئے دو ایک ٹوپیاں سیتا یا کچھ خطاطی کرتا، اس کی تیار کردہ ٹوپی یا خطاطی خوشامدی درباری خود خرید لیتے یا شہر کے کسی متمول ’’بلڈر‘‘ کو پکڑ لاتے۔ ٹوپی اچھے داموں بک جاتی، خطاطی بھی بہترین قیمت پاتی۔ مبارک سلامت کی آوازیں بلند ہوتیں۔ بادشاہ یہ سب دیکھ کر خوب خوش ہوتا کہ اس کی قدر و منزلت بڑھ رہی ہے۔ خوشامدی درباری بھی خوش ہوتے کہ انہوں نے بادشاہ کو مملکت کے کاموں سے دور کر دیا ہے اور نظام ان کے قبضے میں ہے۔ قبضہ مافیا ہر زمانے میں اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس دور کا ’’شہزادہ سلیم‘‘ بھی ایسے ہی اللے تللوں میں الجھا رہے۔ وقت اور زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ دربار اور درباریوں کی شکل قدرے بدل گئی ہے مگر کام وہی ہو رہے ہیں جو صدیوں قبل کئے جا رہے تھے۔ مملکتوں کی تباہی اور زوال کی وجہ بھی یہی لوگ ہیں۔ آج بادشاہ سلامت کی ایک کچن کیبنٹ ہوتی ہے۔ ان میں چار مردوں کے شانہ بشانہ ایک عورت ضرور ہوتی ہے۔ وہ خوش خلق ، خوش مزاح اور خوش لباس ہوتی ہے۔ بادشاہ تھکا ہارا جب اپنی کچن کیبنٹ میں آتا ہے تو اس ایک چہرے کو دیکھ کر ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔ درباریوں کے مبارک سلامت کے نعرے اس کی باقی تھکن دور کر دیتے ہیں پھر ایک بھدے جثے والا شخص ایک فائل لیکر مودبانہ سلام عرض کرتا ہے اور بادشاہ کو رپورٹ پیش کرتا ہے کہ آج ملک میں کیا کیا ہوا اور بادشاہ کو کیا کیا کرنا ہے۔ اس کی رخصتی کے بعد اسی قماش کا ایک اور شخص حاضری دیتا ہے۔ اس کی بغل میں موجود فائل میں اس کی حمایت میں چھپنے والے مضامین اور خبروں کے تراشے ہوتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ اس ملک کا بادشاہ اس ملک کے باسیوں کیلئے اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور اہل وطن اس انعام کو پاکر بے حد خوش و مطمئن ہیں۔ کچن کیبنٹ کے اجلاس کے بعد چند گھنٹوں کا وقفہ ہوتا ہے پھر رات گئے ایک اہم اجلاس ہوتا ہے جس میں راحت کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ اس اجلاس میں ملک کی پالیسی بنتی ہے۔ اہم منصوبوں اور ٹھیکوں کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ خزانے میں اضافے کے طور طریقوں پر غور ہوتا ہے۔ یہ نظام اسی انداز میں دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں چل رہا ہے اور اب ترقی یافتہ ملک تک پہنچ گیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے اور ترقی یافتہ ملک اس کی لسٹ میں آگے ہیں۔ ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کا نعرہ کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس تیزی سے نظام بدلنے کا دعویٰ کیا تھا وہ اسی تیزی سے پسپا ہوتا نظر آتا ہے۔ غیر ملکیوں کو امریکہ بدر کرنے کا محدود ڈرامہ شروع کیا گیا۔ 
بھارت کو اوقات میں لانا مقصود تھا لہٰذا سب سے زیادہ بھارتی امریکہ بدر کئے گئے۔ اب تمام غیر قانونی امریکہ مقیم افراد پر ایک ہزار ڈالر سالانہ کا ٹیکس عائد کر کے انہیں وہاں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ وہ امریکی معیشت کو سہارا دے سکیں۔ ٹیرف کے نام پر چین کو کمزور کرنا مقصود تھا اور امیر ملکوں کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کا منصوبہ تھا۔ ساڑھے تین سو فیصد تک کی دھمکی اب نصف کے نصف تک آگئی ہے۔ چین کو دھمکانے والا ٹرمپ اب چین کے دورے کی دعوت کیلئے بے چین ہے۔ دنیا میں غیر ضروری جنگیں ختم کرانے کا نعرہ ڈھونگ ثابت ہوا۔ اسرائیل کی مالی اور فوجی امداد جاری رکھی گئی ۔ اسے ایران پر حملے کیلئے اکسایا اور فلسطین پر یلغار تیز کرنے کا کہا۔ منصوبہ یہ تھا کہ جنگ کو بہرحال ایک روز ختم ہونا ہے لیکن اس کے ختم ہونے سے قبل زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو دنیا سے رخصت کر کے اپنا قبضہ مستحکم کر لو۔ بھارت کا پاکستان پر حملہ اور امریکہ کا ایران پر حملہ ایک ٹیسٹ تھا۔ مقصد ان کی قوت مدافعت کا اندازہ کرنا تھا۔ امریکہ کو اپنی دال روٹی کے لالے پڑتے نظر آرہے ہیں کیونکہ اسے یوکرین میں بڑی شکست ہو چکی ہے۔ امریک، چین پر ٹیرف عائد کر کے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ امریکہ میں مہنگائی کی ناقابل برداشت لہر ہے جس پر عوام کا ردعمل بڑھ رہا ہے۔ اخلاقیات کے حوالے سے ایک بڑا معاملہ سامنے آرہا ہے جو صدر ٹرمپ کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھنے والے ملک قطر کی دولت پر سب کی آنکھ ہے۔ امریکی اشارے پر قطر پر اس کی فروخت کی جانے والی گیس پر کچھ نئے ٹیکس لگانے کی فرمائش کی گئی ہے جسے قطر نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے گیس سپلائی منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ اور یورپ، روس سے گیس نہیں خریدتے لہٰذا روس اس دھمکی پر بہت خوش ہے، اس کی کوششیں ہوں گی کہ معاملہ کچھ بگڑے، زیادہ نہیں تو کچھ دیر کیلئے سہی یورپ کو گیس کی سپلائی رک جائے۔  موسم سرما میں اگر یورپ میں گیس ضرورت کے مطابق نہ پہنچی تو یورپ برف میں جم جانے سے بچنے کیلئے مہنگی ترین گیس خریدنے پر مجبور ہو گا۔ یہ تنازع خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی اور یورپی معیشت پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مزیدخبریں