والد محترم کے سانحہ رحلت نے چند دنوں میں بڑا کر دیا۔ ساٹھ برس کی عمر میں اچانک اگلے دن ہی احساس ہوا کہ یتیمی کیا چیز ہے۔ میرے بچے حیران ہوں گے کہ ہمارے بابا اس عمر میں، اپنی معاشی اور معاشرتی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدہ برا ہونے کے بعد، خود کو یتیم کہہ رہے ہیں۔ پھر یوں ہوا کہ اچانک خانہِ شعور میں نکتہ وا ہونے لگا، دین میں یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا اتنا اجر کیوں رکھا گیا ہے۔ دینِ اسلام دینِ فطرت ہے۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو ایک اچھا بھلا پختہ شعور شخص خود کو بے سہارا محسوس کرنے لگتا ہے، کجا وہ ایک بچہ جس نے ابھی اپنی عملی زندگی میں قدم رکھنا ہے، اس کا احساسِ محرومی کس قدر ہوگا۔ اب معلوم ہوا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے والے کی اس قدر پذیرائی کیونکر ہے، کہ وہ اپنے نبی کے ساتھ جنت میں ہو گا۔ ایک درِ یتیم نے دینِ مبین میں کس کمال سے یتیموں کی سرپرستی تاقیامت فرما دی۔ اب معلوم ہوا کہ از روئے قرآن یتیم کو دھکے دینے والا، خواہ نمازی ہی کیوں نہ ہو، اس کی نمازیں تباہ ہے۔ بے سہارا کو مزید بے سہارا کرنے والے کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ وہ روزِ جزا کا جھٹلانے والا ہے۔ فی الواقع بندوں کے حقوق جھٹلانے والا عملی طور پر جزا سزا کے دن کو جھٹلا رہا ہوتا ہے۔
تدفین کے چار دن کے بعد جب میں واپس اپنے کلینک پہنچا، کرسی پر بیٹھا تو ایک عجب خیال نے میری سوچوں کو اپنے حصار میں لے لیا۔ میں سوچنے لگا:بندہِ خدا! تمہارا اس کرسی تک پہنچنا، اس معاشی اور معاشرتی حیثیت تک پہنچنا فقط ایک فردِ واحد کے وژن، اس کی جہدِ پیہم اور اس کی مہربانیوں کا رہینِ منّت ہے۔ دنیا میں صرف باپ ایک ایسی ہستی ہوتی ہے جس کی تمنا اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا اس سے زیادہ کامیاب اور کامران ٹھہرے۔ یوں باپ اور بیٹے کا رشتہ عجب اخلاص سے عبارت ہے، یہاں کسی قسم کے حسد یا مقابلے کا کوئی پہلو نہیں ہوتا۔ بھائی بہنوں، رشتہ داروں ، حتیٰ کہ استاد اور شاگرد میں بھی بعض اوقات مقابلے کی فضا قائم ہو جاتی
ہے، لیکن باپ ہر حال میں اپنے بیٹے کو اپنے سے زیادہ بلند مقام پر دیکھنا چاہتا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں نے کبھی اپنے والد کا لفظوں میں بھی اس احسان کا شکریہ ادا نہیں کیا کہ انہوں نے مجھے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا اور ایک پروفیشنل ڈگری کا حصول میرے لیے ممکن بنایا۔ ان کے احسانات کو میں اپنا استحقاق ہی تصور کرتا رہا۔ واقعی انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ قرآن کریم میں والدین کے لیے "ربّیانی صغیرا" ....کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ والدین مجازی خالق ہیں ، اور مجازی رب بھی ، یعنی وہ اس دنیا میں ہمیں لانے کا سبب بھی ہیں اور یہاں ہماری ربوبیت کا ذریعہ بھی۔ ایک حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ جس نے بندوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔ مجاز کا احترام اور شکریہ ادا کیے بغیر "اللہ اللہ" کرنا کہیں ایک خود فریبی ہی نہ ہو۔
دادا جان، اللہ غریقِ رحمت کرے، پرانے محاوروں کا انسائیکلو پیڈیا تھے، وہ اکثر ایک محاورہ سنایا کرتے: "ماسی! میں پَیراں پیناں آں، ماسی نے کہا، لے فیر، اے ماسی تے اے ماسی دے پَیر"۔( خالہ! میں آپ کے قدموں میں جھکتا ہوں، خالہ نے کہا: لو! یہ خالہ اور یہ خالہ کے قدم“۔بس! یہاں دعویٰ بندگی ٹیسٹ کرنے کے لیے یہی بندہِ حاضر ہی امتحان ہے۔ اللہ بندوں کا امتحان اپنے حاضر و موجود بندوں ہی کی صورت میں لے لیتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف فرمایا کرتے کہ سارا گناہ ثواب بندوں ہی کے ساتھ ہیں۔ نیکی بھی بندے سے کرنی ہے اور برائی بھی کسی بندے کے ساتھ ہی ہوتی ہے، صرف سجدہ ہے، جہاں بندہ اپنے اللہ کے ساتھ اکیلا ہے۔ یعنی اللہ کے حکم پر زکوٰة کسی بندے ہی کو دینی ہے، قرضِ حسنہ کسی بندے کو دینا ہے، احسان کا معاملہ کسی بندے ہی کے ساتھ کرنا ہے، اسی طرح غصہ، ظلم، گلہ، حسد، کینہ، غیبت، جھوٹ یہ سب بندوں ہی کا ساتھ کی جانے والی برائیاں ہیں۔
عالمِ اساب میں جس طرح والد کی ذات ایک وسیلہِ خلق اور ربوبیت ہے، اسی طرح عالمِ حقیقت میں ہم اپنے مرشد کی آغوشِ خیال میں جنم لیتے ہیں، ہمارے خیال کی ربوبیت مرشد کے ذمے ہوتی ہے۔ یہاں بھی ہم بہت سے احسانات کو اپنا استحقاق سمجھ لیتے ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا فرمان ہے: کسی کے احسان کو استحقاق نہ سمجھ لینا۔ روحانی حلقوں میں ہماری رونمائی اور پذیرائی ہمارے مرشد ہی کی وساطت سے ہو رہی ہوتی ہے۔ بعض ناخلف اسے اپنا ذاتی استحقاق اور زورِ بازو کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں۔
کمال بات یہ ہے کہ قرآن میں جہاں "وبالوالدین احسانا" کا حکم آیا ہے ، اس سے فوراً پہلے رب العالمین نے اپنے بارے میں اپنے بندوں کو حکم دیا کہ "وقضیٰ ربک اَلّا تعبدو الّا ایّاہ"....” اور تمہارے رب نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے“.... یہاں اپنی عبادت اور والدین کے احسان ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ آیت مبارکہ کا مکمل ترجمہ یوں ہے: ”اور تمہارے رب نے حکم( فیصلہ) فرما دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ا±ف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا“۔ گویا تعظیم و عبادت کے باب میں یہاں حقیقی رب اور مجازی رب ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد کو احسن طریق سے ادا کیے بغیر کی جانے والی عبادت، عبادت نہیں، عادت ہوتی ہے۔
القصہ آج جب اپنی معاشی اور معاشرتی استحکام کی ضمانت کرسی پر بیٹھ کر یہ خیال وارد ہوا کہ یہ سب میرے والد کا مجھ پر احسان ہے تو "وبالوالدینِ احسانا" کی تفصیر اَزخود صحیفہِ قلب پر ا±ترتی گئی۔ اکثر اوقات نوجوانوں کی طرف سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ والدین کے حقوق کا ذکر ہے ، اولاد کے حقوق کا ذکر کیوں نہیں؟ دراصل احسان غیر مشروط ہوتا ہے۔ والدین نے ہم پر غیر مشروط احسان کیا ہے اور از روئے قرآن "احسان کا بدلہ احسان کے سوا اور کیا ہے...." اس لیے اب ہم پر واجب ہے کہ ہم بھی ا±ن پر غیر مشروط احسان کریں۔ یاد رہے کہ احسان کی ابتدا ا±ن کی طرف سے ہوئی ہے۔ اس سوال کا جواب حضرت واصف علی واصفؒ نے بہت خوبصورت پیرائے میں یوں دیا: ”آج یہ حکم آپ کے لیے ہے، کل یہ آپ کے بچوں کے لیے ہوگا"۔ گویا احسان نسلوں میں چلنے والا ایک صدقہِ جاریہ ہے۔
وبالوالدین احسانا
09:03 AM, 28 Jan, 2026