نئی دہلی/ تہران:ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے کی صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جس میں بھارت کا "دوغلا چہرہ" اور "منافقت" کھل کر دنیا کے سامنے آگئی ہے۔ برسوں سے ایران کا تزویراتی دوست کہلانے والا بھارت اب پسِ پردہ امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا سہولت کار بن چکا ہے۔
انتہائی معتبر ذرائع سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی دفاعی حکام اور سفارت کار خاموشی کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی مکمل تباہی کے نسخے تجویز کر رہے ہیں۔ بھارت کا موقف ہے کہ اگر ایران میں موجودہ نظام کو ختم کرنا اور "رجیم چینج" لانا ہے، تو محض ایک دو حملے کافی نہیں ہوں گے، بلکہ ایران کے چپے چپے پر کئی ہفتوں تک مسلسل بمباری کرنی ہوگی۔
موجودہ بحران میں بھارتی میڈیا کسی غیر جانبدار ادارے کے بجائے اسرائیل کے "ترجمان" کا کردار ادا کر رہا ہے۔ بھارتی ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر دفاعی ماہرین ایران کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے نقشے تیار کر رہے ہیں، جو جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بھارتی میڈیا کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ نئی دہلی کی ہمدردیاں صرف اور صرف تہران کے دشمنوں کے ساتھ ہیں۔
ایران نے ہمیشہ بھارت کو ایک قابلِ اعتماد پارٹنر سمجھا اور چابہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبوں میں ترجیح دی، لیکن آج وہی بھارت ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی اصلیت یہ ہے کہ وہ ایک طرف ایران سے سستی توانائی اور تجارتی راستے مانگتا ہے، اور دوسری طرف اسی ایران کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کو مشورے دیتا ہے۔
بھارت کی اس کھلی دشمنی نے تہران اور نئی دہلی کے تعلقات کو ختم ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے کہ وہ اپنے اس "نام نہاد دوست" کو کیا سبق سکھاتا ہے۔
ایران کے خلاف عالمی سازش میں بھارت کا گھناؤنا کردار بے نقاب
05:23 PM, 28 Feb, 2026