راولپنڈی/اسلام آباد: سرحد پار سے ہونے والی مسلسل مداخلت اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا جوابی حملہ 'آپریشن غضب للحق' فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور فضائی قوت کا استعمال کرتے ہوئے افغان طالبان رجیم کے جنگی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔حالیہ جھڑپوں اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کے بعد جاری کردہ اعداد و شمار دشمن کی کمر ٹوٹنے کی تصدیق کر رہے ہیں۔
اب تک کی کارروائیوں میں 297 مسلح کارندے جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔ دشمن کی 89 چوکیاں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں، جبکہ 18 اہم ٹھکانوں پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ پاکستانی شاہینوں اور توپ خانے نے دشمن کے 135 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا ہے۔
دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بار بار کی جانے والی اشتعال انگیزی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی نے پاکستان کو اس سخت ردِعمل پر مجبور کیا۔ آپریشن کا نام 'غضب للحق' اس بات کی علامت ہے کہ اب حق کی طاقت سے باطل کے ہر ٹھکانے کو مسمار کیا جائے گا۔ اس آپریشن کے ذریعے پاکستان نے واضح پیغام دیا ہے کہ اس کی سرحدیں ریڈ لائن ہیں، اور جو بھی اسے عبور کرنے کی کوشش کرے گا اسے اسی زبان میں جواب ملے گا۔
پاک فوج کا ’آپریشن غضب للحق‘: افغان سرحد پر دشمن کو عبرتناک شکست، سینکڑوں جنگجو ہلاک، بھاری اسلحہ تباہ
10:12 AM, 28 Feb, 2026