برمنگھم:برطانیہ کے شہر بلین ہیم پیلس سے 60 لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ٹوائلٹ چوری کرنے کے الزام میں تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
"سی این این" کی رپورٹ کے مطابق، 18 قیراط سونے کا یہ ٹوائلٹ 14 ستمبر 2019 کی علی الصبح صرف پانچ منٹ میں چوری کر لیا گیا تھا۔ بلین ہیم پیلس وہ تاریخی محل ہے جہاں سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل پیدا ہوئے تھے، اور جہاں سونے کا یہ ٹوائلٹ نمائش کے طور پر رکھا گیا تھا، جسے علامتی طور پر استعمال بھی کیا جا سکتا تھا۔
مقدمے کے اٹارنی، جولین کرسٹوفر نے آکسفورڈ کراؤن کورٹ میں بتایا کہ یہ چوری ایک "جرات مندانہ چھاپہ" تھی۔ چوری کے مقدمے میں ملوث تین افراد میں سے ایک شخص نے ٹوائلٹ چوری کیا، جبکہ دیگر دو نے اسے فروخت کرنے میں مدد کی۔ ٹوائلٹ کا سراغ نہیں لگایا جا سکا، تاہم یہ اندازہ ہے کہ اسے توڑ کر بیچ دیا گیا ہے۔
کرسٹوفر نے بتایا کہ ملزم مائیکل جونز نے چوری سے قبل دو بار محل کا دورہ کیا تھا اور اس دوران اس نے کھڑکیاں اور ٹوائلٹ کے اندر کی تصاویر بھی لیں، جن میں دروازے پر لگے تالے کی تصویر بھی شامل تھی۔ ان تصاویر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جونز چوری کی جاسوسی کر رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جونز ممکنہ طور پر ان پانچ افراد کے گروہ کا حصہ تھا، جنہوں نے اگلی صبح چوری شدہ گاڑیوں میں محل کے لکڑی کے دروازوں سے ٹکرا کر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
اٹارنی نے عدالت کو بتایا کہ چوروں نے صرف سونے کے ٹوائلٹ کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ تاریخی عمارت کو بھی کافی نقصان پہنچایا۔ اس میں موجود قیمتی آرٹ اور فرنیچر کو بھی نقصان پہنچا، کیونکہ محل یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔
یہ مقدمہ اب عدالت میں چل رہا ہے، اور اگر ان افراد پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔