مردوں کی جسمانی ساخت میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ تبدیلی کا انکشاف

08:48 PM, 28 Feb, 2025

لندن:ایک اہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پچھلے 100 سالوں میں مردوں کے قد اور وزن میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہوا ہے، تاہم دونوں جنسوں کے قد اور وزن میں مجموعی طور پر اضافہ نظر آیا ہے۔برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی ماہرین نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ (یو این) اور عالمی بینک کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق میں 1900 سے 2022 تک کے مختلف ممالک کے ڈیٹا پر غور کیا گیا، جس میں انسانوں کی اوسط عمر، قد، وزن اور صحت کے دوسرے پہلو شامل تھے۔

ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا کہ ایک صدی میں مردوں کا قد اور وزن زیادہ بڑھا، جبکہ خواتین میں اضافہ کم ہوا۔ 1905 میں خواتین کا اوسط قد 159 سینٹی میٹر تھا، جو 2020 تک بڑھ کر 162 سینٹی میٹر تک پہنچا۔ دوسری طرف، مردوں کا اوسط قد 170 سینٹی میٹر تھا، جو 2022 میں بڑھ کر 177 سینٹی میٹر تک جا پہنچا، اور مردوں کے پٹھوں میں بھی اضافہ ہوا، جس سے ان کا وزن بھی بڑھا۔

ماہرین کے مطابق مردوں کے قد اور وزن میں اضافے کی وجہ مختلف ہو سکتی ہے، تاہم ایک اہم عنصر خواتین کا رجحان ہے کہ وہ دراز قد اور طاقتور مردوں کو شریک حیات کے طور پر منتخب کرتی آئی ہیں۔ اس رجحان نے مردوں کو اپنی جسمانی ساخت بہتر بنانے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں ان کے قد اور وزن میں اضافہ ہوا۔

مزیدخبریں