سگریٹ نوشی کے نتیجے میں فالج کے خطرات میں اضافہ: نئی تحقیق

07:20 PM, 28 Feb, 2025

لاہور: حالیہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور ان افراد میں فالج کے اسباب کا پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

طبی جریدے ’نیورولوجی‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق خاص طور پر 45 سے 49 سال کی عمر کے سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ جتنی زیادہ تمباکو نوشی کی جائے گی، اتنا ہی زیادہ فالج کا خطرہ ہوگا۔

برطانیہ کی کیل یونیورسٹی کے محقق فلپ فرڈینینڈ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق خاص طور پر نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے اہم نتائج فراہم کرتی ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے چیف کلینیکل سائنس آفیسر مچل ایس وی ایلکانڈ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ تمباکو نوشی ’کرپٹوجینک اسٹروکس‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ کرپٹوجینک فالج وہ فالج ہے جس میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ آتی ہے لیکن اس کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوتی۔

محققین نے 18 سے 49 سال کی عمر کے 546 افراد کا مطالعہ کیا جنہیں کرپٹو جینک فالج ہوا تھا اور ان کا موازنہ ان افراد سے کیا جنہیں فالج نہیں ہوا تھا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ فالج کے شکار 33 فیصد افراد تمباکو نوشی کے عادی تھے۔

محققین کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والوں میں کرپٹوجینک فالج کا خطرہ دوگنا ہوتا ہے، اور 45 سے 49 سال کے افراد میں یہ خطرہ چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اگر سالانہ 20 ڈبے سگریٹ پیے جائیں تو 45 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں فالج کا خطرہ پانچ گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔

یہ تحقیق زیادہ تر سفید فام یورپی باشندوں پر مشتمل تھی، اس لیے اس کے نتائج کو عمومی طور پر نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن سگریٹ نوشی اور فالج کے خطرے کے درمیان تعلق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

کیلیفورنیا کے میموریل کیئر اورنج کوسٹ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹر کرسٹوفر یی کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق خاص طور پر نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے فالج کے خطرات کو اجاگر کرتی ہے، اور اس کے نتائج تشویش کا باعث ہیں۔

نیورولوجسٹ جوس مورالس نے کہا کہ یہ تحقیق سگریٹ نوشی کے صحت پر سنگین اثرات کو واضح کرتی ہے، اور اس سے فالج کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پرشانت کرشن موہن نے کہا کہ یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ تمباکو نوشی خاص طور پر نوجوانوں میں فالج کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، خصوصاً اگر وہ دیگر بیماریوں سے محفوظ ہوں جیسے ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس۔

مزیدخبریں