کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم پر سخت الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ وہ "ڈرامے باز" شخص ہیں اور عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عمران فاروق کو اپنے قائد کی سالگرہ کے موقع پر قتل کروایا اور اس کے بعد لاش کے حوالے سے عوام میں ہلچل مچانے کے لیے لاکھوں پاؤنڈ چندہ وصول کیا۔
کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نام نہاد بانی ایم کیو ایم نے لاش کے حوالے سے واویلا کیا، بانی ایم کیو ایم خود قاتل ہے، اس نے نمازجنازہ کے وقت تصویر بنوائی، ڈیڑھ دو سال ہوگئے اس آدمی پر بات کرنا چھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عمران فاروق کو اسی کے قائد کی سالگرہ پر موت کا تحفہ ملا، بانی ایم کیو ایم کی سالگرہ پر عمران فاروق کو مار کر تحفہ دیا گیا، بانی ایم کیو ایم آج تم وہاں کے شہری ہو، تم جاکر کہو مجھے عمران فاروق کے قتل کا انصاف چاہئے، یہ 25سال سے را سے پیسے لے رہے تھے، بانی ایم کیو ایم ڈرامے باز آدمی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے بھارتی ایجنسی "را" سے پیسے لے کر پاکستان میں دہشت گردی کرائی، جس کی وجہ سے عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات روک دی گئیں۔ مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم کو مہاجر قوم کا "مجرم" اور "غدار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی سیاست کے لیے پوری قوم کو تباہ کر دیا۔
"یہ شخص ہمیشہ اپنی سیاست کے لیے لوگوں کی جانوں سے کھیلتا رہا ہے،" مصطفیٰ کمال نے کہا۔ "ہم نے بہت کچھ برداشت کیا، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ اس شخص کی حقیقت سامنے لائی جائے۔"
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے کبھی مہاجر قوم کے لیے کچھ نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ اس کے مفادات کے لیے قوم کو نقصان پہنچایا۔ "اگر وہ چاہتا تو پانچ منٹ میں بلدیاتی آئینی ترمیم منظور ہو سکتی تھی، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔" انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے مہاجر قوم کو کرمنل قائد دیا جس نے اس قوم کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔