امریکی جریدے فارن پالیسی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو کامیاب اور بھارت کو نقصان اٹھانے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن میں اعتماد اور رسائی حاصل کی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی ناکامیوں اور تجارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ گزشتہ 11 سال سے نریندرمودی کے اقتدار میں آتے ہی بھارت میں رہنے والے ہندوؤں کو یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ وہ جہاں چاہیں اپنی من مانی کریں اور جس پر چاہئے تشدد کر سکتے ہیں۔ حکومت ہندووں کی ہے اور صرف ہندووں کے لئے ہی ہے۔ بی جے پی حکومت کا یہ انتہاء پسندی کا رویہ ملک کے اندر متنازعہ اور دنیا کے لئے خطرناک ہے۔
انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت ہے جو ملک کے اندرونی معاملات کے ساتھ اسکے سفارتی زوال کی بھی ذمہ دار ہے۔ 2014 میں نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے۔ اور اب تک انہوں نے 78 ممالک میں 92 غیر ملکی دورے کیے ہیں۔ جس میں امریکہ انکا سب سے زیادہ دورہ کرنے والا ملک ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی شاید بیرون ممالک دوروں کو سفارتکاری کی کامیابی کا راز سمجھتے ہیں۔ مگر اب امریکہ نے کافی حد تک انکی آنکھیں کھول دی ہیں۔
ماضی قریب میں بھارت نے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ہندو بنا دیا تھا۔ ٹرمپ کے امریکی انتخابات میں جیت کے لئے بھارت بھر میں ہندو پنڈتوں نے خوب پوجا پاٹ کئے تھے۔ مودی نے تو خود ٹرمپ کے لئے’’اب کے بار ٹرمپ‘‘ کی انتخابی مہم چلائی تھی. اب وہی ٹرمپ بھارت کو پوری دنیا کے سامنے بے عزت کر رہا ہے۔
نریندر مودی کو یہ گمان تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسلم مخالف لیڈر کے طور پر دنیا کے سامنے آئے گا۔ مگر اسی ٹرمپ نے امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتیوں کو ہتھ کڑیاں لگا کر بھارت ڈی پورٹ کر دیا۔ کیونکہ نریندرمودی کی فارن پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ جنگ میں ناکامی پر مودی کی سیز فائر کی درخواست اور ٹرمپ کے آگے سرینڈر/گھٹنے ٹیکنے کے بعد مودی نے پاکستان کے لئے آئی ایم ایف پیکج کو بھی رکوانے کی کوشش کی مگر ہاتھ ملتا رہ گیا اور آئی ایم ایف نے اسی ماہ پاکستان کو 3 بلین ڈالر کا پیکج دیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اگست 2025 چین میں ایس سی او اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ اور اجلاس میں بھارتی جنتا پارٹی کے ووٹرز اور سپورٹرز کو دکھانے کے لئے بڑے بڑے ممالک کے سربراہان سے گلے ملتے رہے۔ ہنستے مسکراتے نظر آئے۔ حالانکہ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ کس بات پر اتنا ہنسا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے ایس سی او اجلاس میں بھارت کو کیا ملا۔ سچ تو یہ ہے ہنسنے مسکرانے سے سفارتی تعلقات استوار نہیں ہوتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔کیونکہ بھارت براہِ راست یا بالواسطہ روسی فیڈریشن کا تیل درآمد کرتا ہے۔ اس اقدام سے امریکہ میں بھارتی اشیاء انتہائی مہنگی ہو جائیں گی۔ امریکی افراد بھارتی اشیاء کم خریدیں گے۔ اور ان اشیاء کی ہر دکان/سٹور میں دستیابی بھی متاثر ہو گی۔ بھارت میں گڈز ایکسپورٹرز کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہو گا۔ وہ کم چیزیں امریکہ ایکسپورٹ کر سکیں گے۔ بھارتی فیکٹریوں میں ملازمتیں کم ہوں، بے روزگاری بڑھے گی اور بھارت میں سٹاک مارکیٹ کو مندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مودی سرکار اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ناراض ہے مگر بھارت کی ناراضگی کی کسی کو پراہ نہیں ہے۔ نریندرمودی نے خود بھارت کے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے جس کے اثرات نمایاں ہیں۔
بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کہیں یا پاکستان کی جنگی جیت اور امریکہ سے بہترین سٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ کہ مئی میں بھارت کو میدان جنگ میں دھول چٹانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس طویل و تاریخی ملاقات میں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان سے محبت کا اظہار بھی کیا۔
بھارت کی سفارت کاری کا زور محض بیرونی دوروں پر ہے۔ اپریل 2025 میں مودی کا مقبوضہ کشمیر میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان پر جھوٹا الزام بھی دنیا نے مسترد کیا جو انکی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی ہنر مند افراد کو امریکہ لانے والے ایچ ون بی ویزا کی فیس ایک لاکھ ڈالر کر دی گئی ہے۔ جس کے براہ راست اثرات بھی بھارت پر پڑیں ہیں کیونکہ بھارتی نوجوان اس ویزہ سے مستفید ہو کر امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کر رہے تھے۔ امریکہ ہر سال 85 ہزار ایچ ون بی ویزے جاری کرتا ہے جس سے سب سے زیادہ 70 فیصد بھارتی افراد ہیں جن کے لئے اب امریکہ کا ویزہ لینا ایک خواب بن جائے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے سے بھارت کی چیخیں نکل گئی ہیںاور نکلنی بھی چاہئے کیونکہ یہ دفاعی معاہدہ خطے کو مستحکم بنانے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ایسا لگتا ہے ٹرمپ نے پوری دنیا کے ممالک کو متحد کر کے ایک ملک کو مذہبی انتہا پسندی، جنگی جنون، انسانی حقوق کی پامالیوں اور کرپشن کے مسائل کی وجہ سے الگ کر دیا ہے۔
پاک بھارت سفارتی پالیسی
09:20 AM, 28 Dec, 2025