نیا سال، پرانے سوال اور ریاستی امتحان

09:18 AM, 28 Dec, 2025

نیا سال قوموں کے لیے محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ ایک اجتماعی احتساب ہوتا ہے۔ دنیا کے سنجیدہ اخبارات جب نئے سال کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ جذباتی خواہشات نہیں بلکہ ریاستی فیصلوں، پالیسیوں کے نتائج اور عوام پر ان کے اثرات کو مرکز بناتے ہیں۔ اسی پیمانے پر اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو نیا سال خوش فہمی نہیں بلکہ سخت سوالات لے کر آتا ہے۔پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں مسائل اب وقتی نہیں رہے۔ معیشت دباؤ میں ہے، سیاست عدم توازن کا شکار ہے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی کمزور ہے اور عام آدمی کی زندگی مسلسل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ریاستی بیانیے اور عوامی تجربے کے درمیان جو خلیج پیدا ہو چکی ہے، وہ محض تقریروں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اس خلیج کو پاٹنے کے لیے فیصلے درکار ہیں، وعدے نہیں کیونکہ وعدوں پر زندگی نہیں گذاری جا سکتی۔
اب دو ہزار 25 اختتام پذیر ہو رہا ہے اور نیا سال ایک ایسے ملک میں شروع ہو رہا ہے جہاں یوٹیلیٹی بلز اب خوف کی علامت بن چکے ہیں۔کاغذوں میں مہنگائی کے گراف کچھ بھی کہیں حقیقت یہ ہے گھریلو بجٹ سکڑ چکا ہے اور متوسط طبقہ مسلسل دباؤ میں ہے۔ عام آدمی کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے مگر پالیسی سازی میں اس انسانی اور زمینی حقائق کو سنجیدگی سے شامل نہیں کیا جاتا۔ ٹیکس نظام وسعت کے دعوؤں کے باوجود اسی طبقے پر بوجھ ڈالتا ہے جو پہلے ہی ریاستی سہولیات سے محروم ہے جبکہ طاقتور طبقہ اب بھی رعایتوں کے حصار میں محفوظ نظر آتا ہے۔ یہ معاشی مسئلہ نہیں، انصاف کا بحران ہے۔ریاستی سطح پر سب سے بڑا المیہ ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ ہم ہر بحران کو ایک فرد، ایک جماعت یا ایک ادارے سے جوڑ کر وقتی سکون حاصل کر لیتے ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ نظام کیوں بار بار ناکام ہو رہا ہے ہمیشہ تشنہ کیوں رہتا ہے۔ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان، اصلاحات کا سیاسی مفاد سے مشروط ہونا اور احتساب کا انتخابی انداز یہ سب وہ عوامل ہیں جو ہر نئے سال کو پچھلے سال کی توسیع بنا دیتے ہیں۔سیاسی عدم استحکام نے جمہوری عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ پارلیمان عوامی مسائل کے حل کی بجائے آپسی محاذ آرائی کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ اختلافِ رائے کو غداری اور سوال کو سازش سمجھنے کا رجحان کسی بھی ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں جب سیاسی نظام ہر اہم معاملہ میں سنجیدہ مکالمے کے بجائے طاقت کے مظاہرے پر انحصار کرنے لگے تو نئے سال بھی عدم یقین کے سائے میں داخل ہوتے ہیں۔
عدالتی نظام کی سست روی اب محض انتظامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک اجتماعی زخم بن چکی ہے۔ انصاف میں تاخیر نے عوام کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقتور کے لیے انصاف قابلِ رسائی اور کمزور کے لیے صبر کا امتحان ہو وہاں قانون اپنی اخلاقی حیثیت کھو بیٹھتا ہے۔ نیا سال اگر کسی ایک بنیادی اصلاح کا متقاضی ہے تو وہ انصاف کو طاقت اور دباؤ سے آزاد کرنا ہے۔تعلیم اور نوجوانوں کے حوالے سے ریاستی رویہ بھی سوالیہ نشان ہے۔ ہم نوجوان آبادی کو قومی اثاثہ کہتے نہیں تھکتے مگر عملی سطح پر انہیں باعزت روزگار، اظہارِ رائے اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان سے ہجرت کا بڑھتا ہوا رجحان اب صرف معاشی فیصلہ نہیں، یہ نظام پر عدم اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روک نہ سکے، وہ مستقبل کے لیے خود کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔
خارجہ محاذ پر پاکستان ایک حساس توازن میں کھڑا ہے۔ عالمی سیاست اور خارجہ پالیسی اب دعووں سے نہیں بلکہ استحکام سے بات کرتی ہے۔ داخلی انتشار اور پالیسیوں کی غیر یقینی کیفیت خارجہ محاذ پر ہماری پوزیشن کو کمزور بناتی ہے۔ کوئی بھی ملک اس ریاست پر طویل المدتی اعتماد نہیں کرتا جس کے اندرونی فیصلے مسلسل بدلتے رہیں۔ نیا سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد داخلی نظم اور واضح سمت ہوتی ہے۔یہ تمام تنقید کسی مایوسی کی تبلیغ نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی دعوت ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہ ملک شدید دباؤ میں بھی خود کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، نیت اور تسلسل کا ہے۔ ہم اصلاحات کی بات عموماً تب کرتے ہیں جب حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں مگر ان میں بہتری آتے ہی پرانی روش پر واپس آ جاتے ہیں۔یہ تمام تنقید مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کا سامنا کرنے کی دعوت ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ ملک شدید دباؤ میں بھی خود کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، نیت اور تسلسل کا ہے۔ ہم اصلاحات کی بات اکثر تب کرتے ہیں جب حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں مگر جیسے ہی معمولی بہتری آتی ہے، ہم پرانی روش پر واپس چلے جاتے ہیں۔
نیا سال ایک موقع ہے کہ ریاست طاقت کے بجائے اعتماد کو بنیاد بنائے، سیاست مفاد کے بجائے خدمت کو ترجیح دے اور معیشت کو "صرف اعداد" کے بجائے انسانی اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ 
یہ موقع ہے میڈیا غیر ضروری تنازعات، سطحی بحثوں اور وقتی سنسنی پر اپنی توجہ کم کرے اور اصل سوالات اٹھائے،جو ریاستی فیصلوں، عوامی مفاد اور قومی ترجیحات سے جڑے ہوں۔ یہ موقع ہے کہ عوام جذباتی ردِعمل کے بجائے شعور، فہم اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کریں۔ نیا سال اس امید کے ساتھ شروع ہونا چاہیے کہ ریاست طاقت کے مظاہرے کے بجائے اعتماد کو اپنی بنیاد بنائے، سیاست ذاتی اور گروہی مفاد کے بجائے خدمتِ عامہ کو ترجیح دے۔ دعا یہ بھی کہ اقتدار کو حق نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری سمجھا جائے اور یہ احساس زندہ رہے کہ فیصلوں کے اثرات محض ایوانوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ عام آدمی کی زندگیوں کو چھوتے ہیں اور دعا یہ کہ آنے والا سال پاکستان کے لیے صرف نیا نہ ہو بلکہ بہتر بھی ہو کیونکہ تاریخ تاریخیں یاد نہیں رکھتی، وہ قوموں کے فیصلے یاد رکھتی ہے۔ اس دعا کے ساتھ نئے سال کی مبارکباد کہ
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

مزیدخبریں