وہ بھی ایک وقت تھا جب ہمارا ایک قدم راولپنڈی اسلام آباد اور دوسرا پھر گاؤں میں ہوتا تھا، دن اگر شہر اقتدار میں گزرتا تو رات کے اندھیروں میں کسی نہ کسی طرح ہم پھر گاؤں پہنچ جایا کرتے تھے۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا، عیاشی اور گھومنے پھرنے والے دن حضرت قائداعظم کے فرمان کے مطابق کام کام اور صرف کام میں بدل گئے۔ چڑیوں اور کبوتروں کی طرح ہوا میں اڑنے کے وہ جو پر ہمیں لگے تھے ناتواں کندھوں پر دنیاوی و گھریلو ذمہ داریاں جب بھاری ہو گئیں تو پھر ہوائوں میں اڑنے والے وہ پر بھی اچانک کٹ گئے اور ہم تلاش معاش کی خاطر گاؤں اور پنڈی کے درمیان چناروں کے شہر ایبٹ آباد میں ایسے پھنس کر رہ گئے کہ آج تک اس سے پھر نکل نہیں سکے۔ اب تو حال یہ ہے کہ نہ آسانی کے ساتھ گاؤں کا چکر لگتا ہے اور نہ پنڈی اسلام آباد کی طرف کبھی قدم بڑھتے ہیں۔ گاؤں کی طرح جڑواں شہروں سے بھی ہماری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ زندگی کے کئی قیمتی اور حسین ماہ و سال ہمارے ان دونوں شہروں میں گزرے ہیں جہاں علم کے سمندر سے بار بار سیراب و فیضیاب ہونے کے ساتھ صحافت کی پرخار وادیوں سے بھی ہمیں ایک نہیں ہزار بار گزرنا پڑا ہے۔ حصول علم میں جس طرح وقت کے بڑے علماء و مشائخ کا فیض ہمیں نصیب ہوا اسی طرح پنڈی اسلام آباد میں صحافت کے نامی گرامی استادوں سے بھی ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے مواقع ملے۔ جس شہر میں سالوں تک ہمارے شب و روز گزرے برسوں بعد اپنے ایک قریبی رشتہ دار اور وقت کے ایک بڑے ولی مولانا علی اکبر کی اچانک جدائی پر ایک بار پھر ہمیں انہی گلیوں اور علم کی وادیوں میں جانا نصیب ہوا۔ مولانا علی اکبر کا تعلق ہمارے آبائی گاؤں جوز سے تھا لیکن ان کی ساری زندگی دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں گائوں سے کوسوں دور شہروں، بیابانوں، ریگستانوں اور وادیوں میں گزری۔ ہمیں یاد ہے جب بیس پچیس سال قبل ہم حصول علم کے لئے شہر اقتدار آئے تو مولانا علی اکبر صاحب اس وقت بھی قال اللہ اور قال رسول اللہﷺ کی صدا بلند کرتے ہوئے مخلوق کا خالق سے رشتہ جوڑنے میں مصروف تھے۔ ملک کا ایسا کوئی کونہ نہیں ہو گا مولانا علی اکبر جہاں لوگوں کو دین کی دعوت دینے نہ گئے ہوں۔ اندرون ملک کے ساتھ وہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں پابندی کے ساتھ سال دو بعد بیرون ممالک بھی جایا کرتے تھے۔ ان کا شمار تبلیغی جماعت کے بزرگوں میں ہوا کرتا تھا۔ مرحوم نے کیا قسمت پائی تھی ساری زندگی اللہ کی راہ میں گزاری اور آخرت کا سفر بھی اسی اللہ کے راستے میں چلتے چلتے طے کیا۔ تبلیغ میں چلہ یعنی چالیس دن اور چار مہینے لگانے کے بعد گھر بار سے دوری کے باعث لوگ پھر جلد سے جلد ملاقات کے لئے اپنے گھروں کو واپس جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مولانا صاحب کی قسمت کو دیکھیں کہ اللہ کی راہ میں آخری چالیس دن لگانے کے بعد جس دن اس کے چالیس دن پورے ہو گئے اگلے دن یہ گھر آنے کے بجائے سیدھا اللہ سے ملاقات کے لئے پہنچ گئے۔ جنازہ کے موقع پر مولانا کے بچے کہہ رہے تھے کہ شب جمعہ کو چالیس دن مکمل ہونے کے بعد مولانا صاحب کی واپسی تھی ابھی مولانا صاحب گھر سے کچھ دور ہی تھے کہ اللہ کی طرف سے بلاوا آگیا اور مولانا راستے میں ہی لمحوں کے اندر اللہ کے حضور پہنچ گئے۔ راولپنڈی کے پرانے تبلیغی مرکز میں نماز جنازہ کے بعد مولانا علی اکبر کو ہزاروں اشکبار آنکھوں کے سامنے نئے تبلیغی مرکز کے احاطے میں سپردخاک کر دیا گیا۔ شب جمعہ کو موت اور جمعہ کے مبارک دن رب سے ملاقات یہ رتبے اور درجے واقعی قسمت والوں کو ملتے ہیں۔ ایسی موت اور قسمت پر اپنے کیا۔؟ غیر بھی رشک کرتے ہیں۔ مولانا تو سرخرو ہو گئے لیکن ہمارے سمیت ایک دنیا کو غمگین چھوڑ گئے۔ اللہ مولانا کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔ مولانا صاحب کے جنازے میں شرکت کے باعث ہمیں ایک دن پنڈی میں گزارنا پڑا جہاں قاری غلام حبیب، قاری خالد اسلم، مفتی ہدایت اللہ، مولانا بخت زادہ، قاری ریاض اللہ، قاری ہدایت الرحمن، مولانا نور الحسن، قاری عطاء اللہ، قاری عبدالنصیر اور مولانا معراج نبی سمیت کئی پرانے دوستوں، رشتہ داروں اور بڑے اللہ والوں کا دیدار نصیب ہوا۔ پنڈی میں گزرے اس ایک دن میں جہاں کئی یار دوست، مولوی اور قاری طبیعت اور مزاج کے بدلے بدلے لگے وہیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کوششوں، محنت اور لگن سے راولپنڈی بھی کچھ بدلا بدلا لگا۔ وہ پنڈی جہاں کسی دور میں روات اے، روات اے اور پیر ودہائی کے نعروں تلے لوکل ٹرانسپورٹ کیلئے کھٹارا گاڑیاں چلاکرتی تھیں اب وہاں مریم نوازکی کوششوں سے عوام اور مسافروں کی سہولت وخدمت کیلئے جدید الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں۔ ہر جگہ موٹروے نما خوبصورت سڑکیں اور شہر میں جگہ جگہ انڈرپاس اور فلائی اوور کی سہولت دیکھ کر پنجاب کے عوام کی قسمت پر رشک آنے لگتا ہے۔ صرف پنڈی نہیں پورے پنجاب میں میاں نواز شریف کی بہادر بیٹی نے ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھا دیئے ہیں۔ جس طرح میاں نواز شریف موٹرویز اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے تھے اسی طرح مریم نواز نے بھی باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا شروع کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں عوام کی خدمت کے لئے جتنا وقت کپتان کے کھلاڑیوں کو ملا اتنا وقت اگر پنجاب میں عوام کی خدمت کے لئے مریم نواز شریف کو مل جائے تو آپ یقین کریں کہ نواز شریف کی یہ بیٹی ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے نہ صرف پنجاب کا نقشہ بلکہ یہ عوام کی تقدیر بھی بدل کے رکھ دے گی۔ پنجاب کی ترقی کو دیکھ کر ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ ملک یا صوبوں کی ترقی کیلئے مسلسل تین بار کی حکومت نہیں بلکہ دل میں عوام کی خدمت اور ترقی کا جذبہ ہونا چاہئے۔ خدمت کا جذبہ اور عوام کا احساس اگر نہ ہو تو پھر تین نہیں تین سو بار بھی حکومت و اقتدار مل جائے تو پھر بھی کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ کچھ کرنے کیلئے مریم نواز جیسا جذبہ، ہمت اور احساس چاہئے جب تک دل میں ملک و قوم کا دکھ، درد، غم اور آگے بڑھنے کا جذبہ نہیں ہو گا تب تک وزیراعلیٰ کیا۔؟ بندہ وزیراعظم ہو کر بھی کچھ نہیں کر سکے گا۔
راولپنڈی میں ایک دن
09:17 AM, 28 Dec, 2025