اگر یہ کہا جائے کہ اختلاف سیاسی عمل کا بنیادی جزو ہے تو غلط نہ ہو گا لیکن ہمارے ملک کی سیاست جس ڈگر پر چل رہی ہے اس میں اکثر ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں جو دل کو دکھ دیتے ہیں۔یہ دکھ اس لیے نہیں ہوتا کہ کوئی اختلاف ہو گیا بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اختلاف کا طریقہ کار انتہائی غیر مناسب تھا۔
گزشتہ روز لاہور کے دورہ پر آئے خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں نے بھی کچھ اسی قسم کا شو لگایا۔ بظاہر یہ ایک سیاسی دورہ تھا، مگر اس میں جو امر نامعقول تھا وہ دورے کا مقصد نہیں بلکہ اس کا انداز تھا۔
پاکستان ایک گھر کی طرح ہے اور اس گھر میں چار صوبے ایسے ہیں جیسے چار بھائی۔ بھائیوں میں ناراضی ہو سکتی ہے، اختلاف ہو سکتا ہے، شکوہ شکایت بھی ہو سکتا ہے مگر بھائیوں کو ایک دوسرے کے گھر میں جا کر بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے، دھمکیاں نہیں دینی چاہیں، اور نہ ہی ایسے انداز میں بات کرنی چاہیے کہ جیسے سامنے والا کوئی دشمن ہو۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لاہور کے اس دورے میں یہی احساس نمایاں رہا کہ مہمان بن کر آنے کے بجائے طاقت دکھانے کی کوشش کی گئی۔
سیاست کا حسن دلیل میں ہوتا ہے، دھمکی میں نہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو بات کرے تو لوگ سنیں، نہ کہ وہ جس سے لوگ ڈر جائیں۔ ایک وزیر اعلیٰ سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے گا، اپنے الفاظ تول کر بولے گا اور یہ یاد رکھے گا کہ وہ صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ ایک پورے صوبے کا نمائندہ ہے۔
اگر سہیل آفریدی واقعی خود کو خیبر پختونخواہ کے عوام کا نمائندہ سمجھتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائی صوبے کے عوام کی بہبود پر لگائیں۔ ہسپتال بہتر بنائیں، سکول ٹھیک کریں، روزگار کے مواقع بڑھائیں، اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے کی کوشش کریں۔ لاہور آ کر جارحانہ رویہ اختیار کرنے سے پختونخواہ کے عوام کی جانے کون سی خدمت ہو گی؟
عمران خان ، سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سیاست کو اگر ضد اور انا کا میدان بنا دیا جائے گا تو پھر جیت کوئی بھی نہیں سکے گا۔ جیت تو تبھی ممکن ہے جب بات نرم لہجے میں، صاف نیت کے ساتھ کی جائے جس کا مقصد عوام کی بہتری ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست خدمت سے زیادہ طاقت دکھانے کا نام بنتی جا رہی ہے۔ جو جتنا زور سے بولے، اسے اتنا ہی بڑا لیڈر سمجھ لیا جاتا ہے، چاہے اس کی بات میں وزن ہو یا نہ ہو۔
خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کا اپنی کابینہ اور اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ لاہور کا یہ دورہ اگر شائستگی، تحمل اور مکالمے کی مثال بنتا تو شاید پورا ملک اس کی تعریف کرتا۔ مگر جب بات دھمکیوں تک پہنچ جائے تو پھر لوگ خاموش نہیں رہتے، وہ سوال اٹھاتے ہیں اور یہی سوال آج ہر عام آدمی کے ذہن میں ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنی چاہے کہ صوبوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنا آسان ہوتا ہے، مگر اسے گرانا بہت مشکل۔ آج اگر ایک صوبہ دوسرے صوبے میں جا کر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرے گا تو کل جواب بھی اسی انداز میں آئے گا اور پھر اس کا جو انجام ہو گا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
اگر کوئی سیاستدان واقعی محب وطن ہے تو اسے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس وقت پاکستان اور پاکستانیوں کو تصادم کی نہیں بلکہ امن اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو ٹھنڈے دل سے بات کریں، اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، اور عوام کے دکھ کو سمجھیں۔ جو لیڈر یہ سمجھ لے کہ اصل طاقت شور میں نہیں بلکہ برداشت میں ہے، وہی اصل لیڈر ہے۔
بات تو بس اتنی سی ہے کہ مہمان اگر مہمان بن کر آئے تو اس کے لیے جان بھی حاظر ہے لیکن اگر وہ حملہ آور بن کر آئے تو پھر نہ صرف حکومت کو بلکہ عوام کو بھی اس کی ٹھیک طرح سے ’تواضح‘ کرنی چاہیے۔
امید یہی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت موقع کی نزاکت کو سمجھے گی، اور آئندہ جب بھی کوئی وزیر اعلیٰ کسی دوسرے صوبے کا رخ کرے گا تو وہ محبت، احترام اور شائستگی کے ساتھ جائے گا، تاکہ ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو ایک پیغام ملے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر سہیل آفریدی اس قسم کا نامعقول دورہ نہ ہی کرتے کیونکہ ان کے اس دورے نے جو تاثر چھوڑا وہ کسی مہمان کا نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کا تھا جو جان بوجھ کر ماحول خراب کرنے آیا ہے۔
سچ پوچھیں تو سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ وہ کس انداز میں لاہور آئے۔ مہمان بن کر آنا اور بات ہے اور یلغار کے انداز میں آنا بالکل دوسری۔ لاہور کوئی دشمن کا شہر نہیں، کوئی فتح کرنے کی جگہ نہیں، یہ بھی اسی پاکستان کا شہر ہے جس کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی خود ہیں۔ پھر آخر یہ غصہ، یہ تلخی اور یہ دھمکیوں بھرا لہجہ کیوں؟
لاہور ہمیشہ سے مہمان نواز شہر رہا ہے۔ یہاں لوگ غصے کا جواب بھی تحمل سے دیتے ہیں۔ مگر اس شہر کی شرافت کو کمزوری سمجھ لینا بہت بڑی غلطی ہے۔ سہیل آفریدی نے شاید یہ سمجھ لیا کہ زور سے بولنے والا ہی سچا ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زور سے بولنے والا اکثر اپنی کمزوری چھپا رہا ہوتا ہے۔
ایک وزیر اعلیٰ کا مقام بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے صوبے کی آواز سمجھے جاتے ہیں۔ جب وہ شخص غیر ذمہ دارانہ بات کرے تو بدنامی صرف اس کی نہیں بلکہ پورے صوبے کی ہوتی ہے۔ خیبر پختونخواہ کے عوام مہذب ہیں، سلجھے ہوئے ہیں، اور وہ اس صورتحال کے مستحق نہیں کہ ان کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جا کر بدتمیزی کی علامت بن جائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست میں عزت زبردستی نہیں لی جاسکتی یہ تو کمانی پڑتی ہے اس کے علاوہ عزت کبھی بدتمیزی کے جواب میں نہیں مل سکتی۔ سہیل آفریدی کا یہ دورہ عزت بڑھانے کے بجائے ان کے قد کو چھوٹا کر گیاہے اور لوگ ان کی بات سننے کے بجائے ان کے انداز پر بات کرنے لگے، یہی بات کسی بھی لیڈر کے لیے سب سے بڑی ناکامی ہوتی ہے۔
بات بالکل سیدھی ہے۔ اگر آپ کسی کے گھر جائیں اور وہاں جا کر شور مچائیں اور بدتمیزی کریں تو آپ کو مہمان تو کسی صورت نہیں تصور کیا جائے گا۔ لاہور میں بھی یہی ہوا۔ لوگوں نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ کے طور پر نہیں بلکہ ایک بدتمیز مہمان کے طور پر دیکھا اور یہی تاثر سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔
بدتمیزی کو ایک معیار سمجھنے والوں کی خدمت میں اتنا ہی عرض کرنا کافی ہے کہ اگر ہمارے لیڈر اپنی زبان اور رویے پر قابو نہیں رکھ سکتے تو وہ کسی بھی طور بڑے بڑے عہدوں کے اہل نہیں۔ طاقت کا اصل ثبوت خاموشی، برداشت اور شائستگی ہے۔ امید ہے کہ آئندہ کیلئے سہیل آفریدی سمیت تمام سیاسی رہنما اس بات کو پلے باندھ کر رکھیںگے ورنہ یاد رکھیں کہ تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے، وہ سب کچھ لکھ کر رکھ لیتی ہے۔
مہمان یا حملہ آور؟
09:17 AM, 28 Dec, 2025