حافظ کا اللہ حافظ

09:17 AM, 28 Dec, 2025

برکت بھائی ہمارے گھر کے لان اور گارڈن کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔محنتی اور ایماندار ہیں اس لیے نام کی طرح ان کے کام میں بھی برکت ہے اور رزق میں بھی ۔سیاسی سوجھ بوجھ ان کی دلچسپی سے بھی کچھ آگے کی ہے ۔اپنے کام میں طاق ہیں اس کا اندازہ مجھے اس بات سے ہوا کہ ان کو موسم کا حال ہر وقت معلوم ہوتا ہے ۔ہر دوسرے چوتھے مجھے ’’پھرولنے‘‘ کیلئے کچھ وقت نکال کر آبیٹھتے ہیں ۔شروع موسم سے کرتے ہیں اور مجھے بتاتے ہیں کہ بارش کب ہو گی۔ موسم کے بارے جاننے اوریاد رکھنے کے حوالے سے میں کمال کا بھلکڑ ہوں ۔جب ان کے بتائے ہوئے موسم کے حال کے مطابق بارش ہوجاتی ہے تو مجھے فوری برکت بھائی کی پیشگوئی یاد آجاتی ہے۔مجھے وہ موسم کا حال سناتے اس لیے ہیں تاکہ مجھ سے سیاسی موسم کا حال جان سکیں۔سال پہلے تک ان کا سوال عمران خان کی رہائی سے شروع ہوتا تھالیکن اب ان کو بھی یقین سا ہوگیا ہے کہ عمران خان کی رہائی جلد ممکن نہیں ہے اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ئی خلابازوں کے برعکس برکت بھائی حقیقت پسند تو ہیں ہی ساتھ منطق کو بھی سمجھتے اور جانتے ہیں ۔مزاحمت کی بجائے وہ مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں ۔اب مجھے کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ضد کی وجہ سے اس حال کو پہنچا ہے۔اس کو ملک کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہئے ۔
کل برکت بھائی آئے تو پوچھنے لگے کہ عمران خان کی سیاسی کہانی پھر ختم ہے ؟ میں نے کہا انسان جب تک زندہ ہے اس کی کہانی کبھی ختم نہیں ہوسکتی ۔عمرا ن خان جیل میں ہی تو ہیں رہائی مل گئی تو سیاسی کہانی دوبارہ چل پڑے گی ۔کہنے لگے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اللہ بہت زیادہ عزت دے رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا برکت بھائی وہ ملک کیلئے کچھ اچھا کررہے ہوں گے ۔نیتوں کے حال اللہ ہی جانتا ہے لیکن ظاہر تو ہم بھی دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہ سال تو دنیا بھرمیں حافظ صاحب کے ہی نام رہا ہے۔ سال کے اوائل سے لے کر آخر تک سب کچھ فیلڈ مارشل کے حسا ب سے ہی چل رہا ہے۔ سید عاصم منیر پاکستان کیلئے عزت وقار اور برکت کا باعث بن رہے ہیں تو ہمارے ہیروہیں۔کہنے لگے دنیا اگر ہمارے فیلڈ مارشل کو عزت سے دیکھ رہی ہے تو لازمی وہ اچھا کا م ہی کررہے ہوں گے ویسے تو ان کی عزت کیلئے ہندوستان کو جنگ میں شکست دینا ہی کافی ہے۔
میں نے برکت کے خیالات سنے تو میرے سامنے اس سال کے معرکہ حق کی کتاب کھل گئی۔ سال 2025پاکستان کی عزت افزائی کا سال تھا۔پاکستان کی فتح مبین کاسال تھا۔اللہ کی نصرت اور مدد کا سال تھا جس کا ذکر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی علما کے کنونشن سے خطاب میں کیا ۔ ہم بطور مسلمان۔ جنگ میں اللہ کی نصرت پر یقین رکھتے ہیں ۔اور یہ معجزہ ہماری تاریخ سے ثابت ہے ۔ہمارے نبی اکرم ﷺ کے اسوہ سے ثابت ہے اس لیے شک کی گنجائش نہیں کہ اللہ کی مدد ہی تھی کہ ہم نے اپنے سے سات گناہ بڑے دشمن کو شکست دی۔ جس کے پا س پیسے کی کمی نہیں ۔ وہ ہمیں مٹانے کی آرزو لیے ستر سال سے پھر رہا ہے۔ جس کے پا س ہم سے کئی گنازیادہ فوجی طاقت ہے ۔طیارے ہوں یا ٹینک تعداد میں سب کچھ ہم سے زیادہ۔اس کے اچانک حملے کے جواب میں سات جنگی جہاز مارگرانا معجزہ ہی تو تھا۔پھر جواب میں معرکہ حق شروع کرنا اور صرف چار گھنٹے میں ہی جیت لینا کیا تھا؟اس معجزے کے بعد آرمی چیف کی عزت افزائی تو بنتی ہے۔
آج دنیا بھر کے اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں فیلڈ مارشل پر آرٹیکل لکھے جارہے ہیں۔دنیا کی سپر پاور کا کوئی خطاب عاصم منیر کے تذکرے کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔واشنگٹن ٹائمز نے تو معرکہ حق کو امریکا اور پاکستان کے گہرے تعلقات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی ڈپلومیسی کی بدولت اب امریکا کیلئے ’’ انڈیا فرسٹ ‘‘کی پالیسی میں کوئی جان نہیں رہی۔ پاکستان نے امریکا سے بہترین تعلقات اور صدر ٹرمپ کا بھروسہ اور اعتماد جیتنے کیلئے اپنے پتے بہترین طریقے سے کھیلے ہیں اس لیے آج کی گھڑی میں پاکستان نے چین کیساتھ ساتھ امریکا اورروس تینوں کیساتھ تعلقات کا توازن قائم کرکے مثال قائم کرلی ہے۔
سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد محمد بن سلمان کی طرف سے عاصم منیر کو اعلیٰ اعزاز سے نوازنا بھی اپنی مثال آپ ہے اور جس طرح اس ہفتے لیبیا میں ہمارا شیر دھاڑا ہے ا سکی تو مثال ہی نہیں ملتی۔سید عاصم منیر کا ایک دورہ اور لیبیا کے ساتھ پھر سے مثالی تعلقات کا آغاز۔ پاکستان نے چار ارب ڈالر کے جنگی ہتھیا ر فروخت کرنے کا معاہدہ کرلیا ہے یہ ملٹری سفارتکاری کا عروج ہے جس کو سید عاصم منیر فرنٹ سے لیڈ کررہے ہیں۔آپریشن سندور میں ناکامی ہندوستان کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے ۔دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔اس کی سفارتکاری زمین بوس ہے۔دنیا آج تک اس خطے کو بھارت کے لنز سے دیکھتی آئی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا خطے میں پاکستان کا ذمہ دارانہ وجود تسلیم کررہی ہے ۔ افغانستان کے معاملے پر بھی دنیا پاکستان کے ساتھ ہے۔ کل ہی متحدہ عرب امارات کا صدر اہم ترین دورہ کرکے گیا ہے۔وسط ایشیائی ریاستیں تو پاکستان پر بھائیوں جیسا بھروسہ کرنے لگی ہیں۔
میں واشنگٹن پوسٹ سے فناشل ٹائمز تک دنیا کے میڈیا کو کھنگال کر اس کا نچوڑ برکت بھائی کے سامنے رکھتا جارہا تھا۔ برکت یہ خبریں متاثر کن تاثرات کے ساتھ سن رہا تھا جیسے اس کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہوکہ فیلڈ مارشل کی جو عزت افزائی دنیا میں ہورہی ہے اس کی کوئی بنیاد تو موجودہی ہے اور یہ سب حقیقی بھی ہے۔ اس نے کہا کہ سر جی دنیا کا موسم ہمارے لیے بدل گیا ہے لیکن ہمارے سیاسی موسم کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ دنیا کا موسم تو بدلتے دیر نہیں لگتی ہمیں اپنا موسم پائیدار بنانا چاہئے۔یہاں سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔عمران خان کی فوج مخالف مہم ناجائز اور خواہ مخوا ہے۔ اس کو نومئی پر معافی مانگ لینی چاہئے تاکہ پاکستان جس کو اس وقت دنیا ایک ذمہ دار ملک مان چکی ہے اس کو اس کا فائدہ ہو۔
برکت نے آخری بات ذرا جھجکتے ہوکہی کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہر روز پاکستان کا نام لیتا ہے ۔اب اس کو ہمارے مسائل کا بھی علم ہوگا تو کیوں نہ ان سے کہا جائے کہ بھائی ہمارا تذکرہ بھلے کم کردے لیکن پاکستان کو جس معاشی استحکام کی ضرورت ہے اس کے حصول میں مدد کرے۔برکت بھائی کی بات بالکل درست ہے میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ممالک کے تعلقات شخصیات یا ذاتی نوعیت کے رشتوں پر نہیں بلکہ مفادات پر استوار ہوتے ہیں ۔اس کی زندہ مثال عمران خان صاحب کا کیس ہے کہ ٹرمپ کے آنے سے پہلے پی ٹی آئی کو یقین تھا کہ ٹرمپ جدوں آوے گا لگ پتہ جاوے گا لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ کا تعلق پاکستان ، شہبازشریف اور عاصم منیر سے بن گیا۔ آج دنیا عاصم منیر کی تعریف کررہی ہے تواللہ کرے عاصم بھی پاکستان کا ہمیشہ محافظ ہی رہے۔۔ورنہ ایک باجوہ بھی تھا۔

مزیدخبریں