پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ، چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

12:22 PM, 28 Aug, 2025

لاہور: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ اس سے انصاف کی فراہمی میں بہتری آئے گی، آمدنی میں اضافہ ہوگا اور عوام کو مسائل کے حل میں آسانی ملے گی۔

یونیورسٹی آف لاہور میں نجی جامعات کی تنظیم "ایپ سپ" کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ ہی وہ واحد ادارہ ہے جو عوام کی 90 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے، مگر افسوس ہے کہ پاکستان میں اسے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گلی، محلے، شہر کی صفائی، سڑکیں، سیوریج اور دیگر روزمرہ سہولیات سب مقامی حکومت کی ذمہ داری ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس نظام کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کر دیا گیا۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر پاکستان کا تعلیمی نظام اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے عالمی اداروں کی سفارشات پر عمل کرنا ضروری ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:"ہمیں ایٹم بم سے زیادہ اپنے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ تعلیم اور تربیت کی بہتری ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں صرف چار صوبے رکھنا عملی طور پر درست نہیں۔ اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے تو پنجاب میں 10، سندھ میں 7 اور بلوچستان میں 8 صوبے بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ:"دنیا بھر میں وقت کے ساتھ نئے صوبے بنے ہیں۔ امریکہ کی ابتدا میں 13 ریاستیں تھیں، آج 50 ہیں۔ بھارت کے بھی اب 28 صوبے ہیں۔"
میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ کچھ افراد کے ذاتی مفادات بڑے صوبوں سے جڑے ہیں، اسی وجہ سے ملتان، بہاولپور، ہزارہ اور شہری سندھ جیسے علاقوں کی صوبہ بننے کی خواہش کو دبایا جا رہا ہے۔

چیئرمین پنجاب گروپ نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ لاکھوں مقدمات عدالتوں میں برسوں سے زیر التوا ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کسی شخص کو پھانسی دے دی جاتی ہے اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے گناہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ:"یہ عدلیہ کی نہیں بلکہ نظام کی ناکامی ہے۔ جو شخص ایک بار عدالتوں میں پھنس جائے، اس کی زندگی وہیں گزر جاتی ہے۔"

تقریب کے آغاز پر میاں عامر محمود کا یونیورسٹی آف لاہور آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب گروپ سہیل افضل، چیئرمین یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف، اور چیئرمین سپیریئر گروپ چودھری عبد الرحمان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مزیدخبریں