پنجاب میں سیلاب کی شدت، لاکھوں لوگ متاثر، زرعی زمین اور سڑکیں تباہ

09:35 AM, 28 Aug, 2025

لاہور : پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی زیادتی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی کے طغیانی کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین پانی میں ڈوب گئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس قدرتی آفت سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

دریائے چناب کے کنارے سیالکوٹ، وزیرآباد، گجرات، منڈی بہاؤالدین، چنیوٹ اور جھنگ کے کئی دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جہاں ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح دریائے ستلج کے کنارے قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، ملتان، وہاڑی، بہاولنگر اور بہاولپور کے 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد شہری سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

محکمہ مواصلات و تعمیرات نے بتایا ہے کہ نارووال، شکرگڑھ اور سیالکوٹ میں کئی اہم سڑکیں اور پل زیرِ آب آ چکے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ سیالکوٹ-پسرور ڈوئل کیرج وے اور کونا ڈرین پل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

دریائے راوی کے سیلابی پانی نے نارووال کے 35 سے 40 دیہات کو پانی میں ڈبو دیا ہے۔ گردوارہ کرتارپور صاحب کمپلیکس کے کچھ حصے بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے، جہاں پھنسے ہوئے سکھ یاتریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

نالہ ڈیک کے حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیالکوٹ کے کئی دیہی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ سیلابی پانی نے شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ اور فیصل آباد کے کئی علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق سیالکوٹ کے بجوات علاقے اور دیگر کئی دیہات کا شہر سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے، اور متاثرہ لوگوں کی فوری امداد جاری ہے۔

مزیدخبریں