قیدی ہیرو آزاد’’ زیرو‘‘…؟؟؟

09:05 AM, 28 Aug, 2025

قرآن میں ہے کہ آپ اپنی باطنی کیفیت کو بدلیں گے اس کے لیے محنت کریں گے تو اللہ کی طرف سے بھی آپ کے معاملے میں تبدیلی کر دی جائے گی، مولانا ظفر علی خان نے اس آیت کی ترجمانی ان خوبصورت الفاظ میں کی ہے، خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا،یہ شعر عام طور علامہ اقبال یا الطاف حسین حالی سے منسوب کیا جاتا ہے ،درحقیقت یہ شعر مولانا ظفر علی خان کا ہے اور مولانا کی کتاب بہارستان میں بھی شامل ہے جو کہ 1937ء میں شائع ہوئی ، یہ شعراخبار زمیندار کے ماتھے پہ بھی لکھا جاتا تھا جس کے بانی ایڈیٹر ، شاعر ، مصنف ظفر علی خان خود تھے جب عمران خان اقتدار میں تھے تو ان کے بارے میں مشہور تھا کہ بندے کو بندہ نہیں سمجھتے اس میں سچ کتنا ہے اللہ سوہنا جانتا ہے یا خود بانی پی آئی؟تاہم جب وہ اسلام آباد سے نکلے تو پھر ان پرمقدمات کی ایسی بارش ہو ئی کہ جیسے بے موسمی پھل،اب ایک ایک کرکے مقدمات ایسے ختم ہو رہے ہیں جیسے کہ پت جڑ کے موسم میں درختوں کے پتے گرتے ہیں اس کے باجود سورج دیکھنا ان کے نصیب میں نہیں اور جو کہتے تھے عمران خان ایک دن بھی جیل میں نہیں گزار سکتے کے سینے پر ’’مونگ‘‘ دل رہے ہیں شائد اس لئے بھی کہ ان کے بعد جو شہر اقتدارپر قابض ہوئے نے بھی عوام کیلئے خیالی پلائو پکانے کے سوا کچھ نہیں کیا آج بھی لوگ بے شمار مسائل کا شکارہیں زرعی ملک ہے اور چینی کیلئے لوگ مارے مارے پھررہے ہیں کبھی آٹے کیلئے لائنوں میں لگتے ہیں کبھی دالیں غائب ہو جاتی ہیں تو کبھی گھی نہیں مل رہا ہوتاوزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے غیر ملکی دوروں پرکروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں ،بجلی کی قیمتوں میں کمی کے نام پر عوام سے فراڈ کیا جا رہا ہے،سردیوں میںحکومت گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے عوام پر بوجھ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں کرتی،حکومتی پالیسی میں مہنگائی بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں، روز بروز بڑھتی مہنگائی سے عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا اعلان کرنے والے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیتے چلے آ رہے ہیں، یہ کیسی حکومت ہے معاشی پالیسی دینے کے بجائے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے پٹرول کی قیمتوں کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا، عوام کی جان و مال کو لوٹا جا رہا ہے تاہم کوئی پوچھنے والا نہیں، موجودہ دور حکومت میں بدامنی، مہنگائی اور دیگر مسائل نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے،چور ،ڈاکو اور دیگر جرائم پیشہ افراد گروپس کی شکل میں عوام کی جان و مال کو لوٹ رہے ہیںاور حکومت انھیں کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے،حکومت سمجھتی ہے کہ جعلی پولیس مقابلے کروا کے امن قائم کر لے گی تو پھر بتایا جائے کہ اب تک کتنے لوگوں کو بھونا گیا اور کیا امن قائم ہو گیا؟مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بہتری کے حکومتی دعوے بھی جھوٹ ہیں پوری حکومت جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی ہے، پاکستان بدامنی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، امن و امان کی ذمہ داری حکومت کی ہے، ہمیں اپنی پالیسی کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے، کیا افغانستان کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے؟ بے امنی کے اثرات براہ راست ہماری معیشت پر پڑتے ہیں، بڑے بڑے مسائل پر اکٹھا نہیں بیٹھیں گے تو مسائل حل نہیں ہوں گے،سٹاک ایکسچینج آگے بڑھنے سے عوام کو کیا ریلیف ملتاہے؟ حکومتی نا اہلی سے انڈسٹری بند ہو رہی ہے، ہاں اگر ترقی ہو رہی ہے تو وہ صرف میڈیا کی حد تک، جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے کی بات سے ڈراما کرکے لوگوں کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے ہم صرف دعوے کرتے ہیں عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں ہم دوسروں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں خود کو بدلنے کی کبھی کوشش نہیں کی، اس صورتحال میں موجودہ حکمرانوں کو اپنے اخراجات کم کرنے ہونگے پاکستان میں پروٹوکول اور افسر شاہی پاکستانی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ ہیں جس سے عوام کو ریلیف کی بجائے تکلیف ہورہی ہے، ہر شخص بجلی کا بل اٹھائے اس کی ادائیگی کیلئے قرض اٹھانے پر مجبور ہے، عوام کے حالات بدلنے کے دعوے کرنے والے اپنے حالات بدل رہے ہیں، دوسروں کو بدلنے کی بجائے خود کو بدلیں تو ملک ترقی کرے گا عوام کی حالت بھی بدلے گی ، آج نوجوانوں کے اخلاق و کردار برباد کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اگرچہ ہم پورے معاشرے کے حالات نہیں بدل سکتے، لیکن خود کو بدلنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں جو ہم نہیں کر رہے صرف ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں آج عوام مہنگائی کے ہاتھوں حال وبے حال ہیں یہ کوئی انہونی بات نہیں لیکن اس بارے آزاد لوگوں کوضرورسوچنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟عوام کو سکون چاہیے جو نہیں مل رہا عوام کو سستی اشیاء چاہیے جو نہیں مل رہیں عوام کو انصاف چاہیے جو نہیں مل رہا تو پھرکیوں نہ آزاد لوگوں کی ویلیو کم ہو اور قیدی عوام میں مقبول ہوتا جائے؟؟؟۔

مزیدخبریں