چوپال میں چاچا شیر محمد (فرضی نام) نے آتے ہی باآواز بلند سلام کیا۔سب نے گرمجوشی سے جواب دیا۔ چاچا شیرمحمد کو نتھو اور پھتو نے پانی دیا، چاچا شیر محمد نے پانی پینے کے بعدڈھیروں دعائیں دیں۔ کچھ دیر کے بعد پوچھا بچو چپ سائیں جی آج کدھر رہ گئے ہیں۔ نتھو اور پھتو فوراً بولے۔۔ چاچا جی وہ بس آتے ہی ہوں گے۔ ان کے گھر میں کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں، بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ چپ سائیں جی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آگئے اورسب کی خیریت دریافت کی۔ چپ سائیں نے گرمجوشی سے چاچاشیرمحمد کو گلے لگایا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
توقف کے بعد چپ سائیں نے کہاکہ دیر سے آنے کی معذرت۔۔۔دراصل میرے گھر میں میرے دور کے کچھ رشتے دار آگئے تھے۔۔ ان کی خاطر مدارت کی اور پھر یہاں آگیا۔۔۔ وہ دراصل فیصل آباد سے آئے تھے۔۔ وہ کپڑے کے تاجر تھے۔۔ چپ سائیں نے یہ کہ کر رخ چاچاشیر محمدکی طرف کیااور کہا کہ ۔۔۔بھئی آپ بھی تو کپڑے کی تجارت کرتے ہیں۔۔۔ چاچا شیر محمد نے کہاکہ۔۔بھئی دوستو اللہ کاشکر ہے حالات بہت اچھے تھے۔۔ اس کی نعمتوں کا شمار نہیں کیا ،آج کل کچھ مندا ہے لیکن۔۔۔ فیصل آباد کے ساتھ ساتھ یہ صنعت پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں بھی ہے۔۔سنا ہے کہ اب دونوں ممالک دوستانہ تعلقات پروان چڑھا رہے ہیں۔سائیں جی آپ ہی اس بارے میں کچھ بتائیں۔۔
چپ سائیں نے کہا کہ بھئی دوستو میرے عزیز بھی یہی بتا رہے تھے کہ کچھ مندا تھا لیکن اب امکان ظاہر کیاجارہا ہے کہ بنگلہ دیش سے تجارت ہوگی اور پاکستان میں ہماری یہ صنعت دوبارہ فروغ پائے گی۔دوستوپاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات 1971 کی جنگ کے بعد سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں کچھ علامات ظاہر ہوئی ہیں کہ دونوں ممالک تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں چاہے وہ تجارتی روابط ہوں، سفارتی ملاقاتیں، یا علاقائی تعاون۔ہمارا پڑوسی بھارت کی مشرقی سرحد پر بنگلہ دیش ایک اہم
اتحادی رہا ہے۔ اگر پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات بہتر بناتا ہے تو بھارت کو مشرقی سرحد پر جیو سٹرٹیجک توازن میں چیلنجز درپیش آ سکتے ہیں۔اگر پاکستان، ترکی، ایران، اور دیگر ممالک کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات بڑھتے ہیں، تو یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے نیا چیلنج ہو سکتا ہے۔
دوستو!پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں چین کے قریبی شراکت دار بنتے جا رہے ہیں۔ اگر ان تینوں کے درمیان کوئی عملی اتحاد بنتا ہے تو بھارت کے لیے معاشی خطرہ ہوسکتا ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش سے قربت پاکستان کو خطے میں تنہائی سے نکالنے میں مدد دے سکتی ہے۔جنوبی ایشیاء کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے، جہاں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی باہمی تعلقات نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت بھارت کے لیے ایک غیر متوقع اور سٹرٹیجک دھچکے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ بھئی دوستو !بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان نے حال ہی میں کچھ اہم معاہدے کئے ہیں اس سے مستقبل کے حالات مزید مستحکم ہونے کے امکانات ہیں، ایسا تاریخ میں بہت عرصے کے بعد ہونے جا رہا ہے۔ میں نے تو ٹی وی پر دیکھا ہے کہ ہمارے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی وہاں گئے تھے اور دونوں ممالک کے لیے اچھی خبریں سننے کو ملی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ معاشی، تجارتی، اور سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کی کوششیں کی ہیں، جو بظاہر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
صاحبو !پاکستان نے بنگلہ دیش کو تجارت بڑھانے کی پیشکش کی ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل، دواسازی اور زراعت کے شعبوں میں۔ بنگلہ دیش کی معیشت دوبارہ ابھررہی ہے اور پاکستان اسے ایک اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان طلبا کے تبادلے، ثقافتی پروگراموں، اور اردو و بنگلہ ادب کے ذریعے قریبی تعلقات کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کو اپنی سٹرٹیجک پوزیشن میں ایک قریبی اتحادی تصور کرتا ہے۔ اگر بنگلہ دیش پاکستان کے قریب ہوتا ہے تو بھارت کی ایک دوست ہمسایہ ریاست کی پوزیشن خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی یا انٹیلی جنس تعاون بڑھا، تو یہ بھارت کی مشرقی سرحد کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور سرحدی مسائل پر کشیدگی رہی ہے۔ پاکستان کی شمولیت ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جیسے انفراسٹرکچر منصوبے، ویزا پالیسی میں نرمی، اور مشترکہ اقتصادی زونز کی پیشکش۔ تاہم، بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں توازن کی کوشش بھارت کے لیے پریشان کن ہے، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش مکمل طور پر اس کے سٹرٹیجک حلقے میں رہے۔
دوستو !پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان قربت بھارت کے لیے ایک واضح سٹرٹیجک دھچکہ ہے، جو نہ صرف خطے کی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک نئی جغرافیائی صف بندی کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن بھارت، چین، اور امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
چوپال کے دوستو!قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ تاریخی مسائل کو پس پشت ڈال کر مستقل اور پائیدار تعلقات استوار کرے۔بنگلہ دیش کو توازن کی خارجہ پالیسی اپناتے ہوئے اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔بھارت کو بنگلہ دیش کے اندرونی و خارجہ معاملات پر اثر انداز ہونے کی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعتماد سازی ممکن ہو سکے۔سچ تو یہ ہے کہ دوستو اب وقت جنگ نہیں بلکہ کاروبار سے آگے بڑھنے کا ہے۔ ممالک کے سربراہان کو جنگی عزائم کوبھلا کر دوستی کو فروغ دے کر کاروبار کو مستحکم کرنے اور عام آدمی کے حالات سنوارنے اور کاروبار کو فروغ دینے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس طرح سے سرحدوں کے آرپار بھی لوگوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوگی۔ باقی رہے نام اللہ کا۔
پاک بنگلہ تعلقات اور جیو سٹرٹیجک توازن
09:05 AM, 28 Aug, 2025