گذشتہ جمعرات 21اگست کو شائع ہونے والے کالم ’’ مفاہمت اور معافی ‘‘ میں عرض کیا تھا کہ ’’ کچھ لوگ ہماری اس رائے سے شدید اختلاف کریں گے لیکن ہم یہ بات ہوا میں نہیں کر رہے بلکہ پاکستانی سیاست کے جو حالات و حقائق ہیں انھیں دیکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں اس لئے کہ تحریک انصاف کے اپنے اندر نا اہل ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی نشستوں پر جو ضمنی انتخابات ہونے ہیں اس پر بھی اختلافات ہیں ۔ خان صاحب نے اپنے غیر سیاسی مزاج کے عین مطابق کہا ہے کہ ان سیٹوں پر الیکشن نہیں لڑا جائے گا لیکن ان کے اس فیصلے پر کوٹ لکھپت جیل سے شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی کے نام اپنے ایک پیغام میں ان سے اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے لئے میدان کھلانہ چھوڑا جائے ۔ اسی طرح ایک ٹی وی ٹاک شو میں تحریک انصاف کے رہنما علی احمد خان نے بھی یہی کہا ہے کہ ضمنی الیکشن کا میدان خالی نہ چھوڑا جائے ۔ یہ سوچ صرف ان دونوں رہنمائوں کی نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف کی اکثریت کی یہی رائے ہے اور ہر سیاسی سوچ رکھنے والے کی یہی رائے ہو گی ۔ اب اگر بانی پی ٹی آئی اسی طرح کے غیر سیاسی غیر دانشمندانہ فیصلے کرتے رہے تو اس وقت میری بات سے بہت سے لوگ اختلاف کریں گے لیکن بہت جلد بانی پی ٹی آئی تحریک انصاف کے اندر فیصلہ سازی کا جو فورم ہے اس سےIrrelevantہوتے چلے جائیں گے بالکل ایسے ہی کہ جیسے ان کی مرضی کے بغیر خیبر پختون خوا کا بجٹ پاس ہو گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر منطقی ، غیر سیاسی اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کا ایک حد تک ہی فالو اپ کیا جاتا ہے اور جب مسلسل اسی طرح کے فیصلے کئے جائیں کہ جس سے صرف اور صرف نقصان ہی ہو تو ان سے کنارہ کشی اختیار کرنا ایک فطری امر ہوتا ہے لیکن یہ سب کچھ یہ کہتے ہوئے کیا جائے گا کہ تحریک انصاف کا ہر فیصلہ بانی کی مرضی سے ہو گا ۔ ‘‘ ہم نے یہ بات کسی ذرائع یا خبر کی بنیاد پر نہیں کہی تھی بلکہ جو زمینی حقائق نظر آ رہے تھے انھیں دیکھتے ہوئے کہہ دی تھی اور خدائے بزرگ و برتر کا بڑا کرم ہے کہ وہ عزت رکھ لیتا ہے ۔
2اگست کو علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ نا اہل ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی نشستوں پر انتخابات نہیں لڑیں گے ۔ اس کے بعد 6اگست کو دوبارہ یہی پیغام دیا ۔ پھر کہا گیا کہ عمران خان نے یہ معاملہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے ذمہ لگایا ہے ۔ اس سے پہلے کہ سیاسی کمیٹی کے فیصلے پر بات کریں ضروری ہے کہ ماضی کے تناظر میں یہ بات واضح کر دی جائے کہ خان صاحب کے کسی فیصلے کی مخالفت کرنا تو دور کی بات ہے ان کے فیصلے کی زیر زبر کو بدلنے کی بھی کسی سیاسی کمیٹی کے کسی رکن کی جرات نہیں تھی لیکن اب کیا ہوا کہ بانی کے بار بار واضح پیغام کے باوجود بھی سیاسی کمیٹی کی اکثریت نے 9/13کی اکثریت سے خان صاحب کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی ۔ سیاسی کمیٹی نے جب یہ فیصلہ کیا تو علیمہ خان نے سیاسی کمیٹی کے اس فیصلے کو ہی چیلنج کر دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے واضح فیصلے کے بعد سیاسی کمیٹی کو کسی فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا ۔ علیمہ خان کے اس بیان کے بعد کچھ سوال ذہن میں آتے ہیں کہ کیا یہ اس تحریک انصاف کا بیان ہے کہ جو ہر لمحہ دوسری سیاسی جماعتوں میں جمہوری فیصلے نہ ہونے کا واویلا کرتی ہے اور دوسرا سوال ہے کہ جب عدلیہ کی جانب سے میاں نواز شریف کو دس سال سزا کے کے بعد نا اہل قرار دیا گیا تھا تو مسلم لیگ نواز کی قیادت جب ان سے کسی معاملہ پر مشورہ کرنے کے لئے ان سے لندن میں ملاقات کرتی تھی تو یہی تحریک انصاف اور اس کا سوشل میڈیا نواز لیگ کے لتے لیتا تھا کہ ایک نا اہل شخص کیسے فیصلے کر سکتا ہے لیکن آج اسی صورت حال کا سامنا خود تحریک انصاف کر رہی ہے تو ہر مسئلہ پر کہتے ہیں کہ بانی سے ملاقات کے بعد فیصلہ ہو گا ۔
لیکن اب بانی پی ٹی آئی کے مسلسل غیر سیاسی ، غیر منطقی اور عقل و سمجھ اور فہم و شعور سے عاری پارٹی کے لئے نقصان دہ فیصلوں کے بعد پارٹی کے اندر ان سے اختلاف کرنے کا رجحان پیدا ہوتا جا رہا ہے جن کی دو واضح مثالیں سامنے آ چکی ہیں ۔ ایک بانی نے کہا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر خیبر پخون خوا کا بجٹ پاس نہیں ہو گا ۔دوسرا موجودہ فیصلہ کہ نا اہل ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پارٹی حصہ نہیں لے گی لیکن ان دونوں فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا گیا اور ان کے بر عکس حکمت عملی اپنائی گئی ۔ سیاسی کمیٹی نے بالکل درست فیصلہ کیا اور سیاسی سوچ رکھنے والے ہر شخص کا یہی فیصلہ ہو گا اس لئے کہ تحریک انصاف حکومت میں نہیں بلکہ وہ حزب اختلاف میں ہے اور اس کے لئے تو صورت حال فیض کے اس شعر جیسی ہے کہ
گر جیت گئے تو کیا کہنا
ہارے بھی تو بازی مات نہیں
اور بانی ٹی آئی کے فیصلوں کے حوالے سے Irrelevantہونے سے یاد آیا کہ انھوں نے آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کے خطاب کے بعد از خود نوٹس لیتے ہوئے اپنے آپ کو پیٹرن ان چیف بنا لیا تھا تو ہماری بات کو رہنے دیں کیا کسی تحریک انصاف والے کو بھی عمران خان کے لئے یہ خطاب کہتے ہوئے سنا ہے ۔
بانی کے فیصلوں سے انحراف
09:04 AM, 28 Aug, 2025