محترمہ مریم نواز صاحبہ،وزیر اعلیٰ پنجاب:
یہ خط کسی رسمی آداب کے ساتھ نہیں بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کی پکارکے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ لاہور کی پی آئی اے ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک باپ، محمد عظیم، اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لئے ایک پیزا لایا۔ کون سا باپ ہے جو اپنے بچوں کی فرمائش پر پیزا، شوارما یا برگر نہ لے کر آئے؟ ہم سب جانتے ہیں یہ کھانے صحت مند نہیں، لیکن بچوں کی محبت، ان کی ضد اور ان کی مسکراہٹ ہمیں مجبور کر دیتی ہے کہ ہم ان کے سامنے ہار مان لیں۔ مگر اس بار یہ ہار بچوں کی زندگیاں نگل گئی۔سولہ اگست کی رات وہ معصوم بچے پیزا کھا کر سوئے تھے۔ صبح کا سورج طلوع ہوا تو تینوں بچے الٹیاں کرتے ہوئے بیدار ہوئے۔ ایک بیٹا سات برس کا، ایک بیٹی چھ برس کی اور سب سے چھوٹی محض چار برس کی۔ ہسپتال کی دوڑ، والدین کی دعائیں، ڈاکٹروں کی کوششیں… سب بیکار گئیں۔ دونوں بیٹیاں اٹھارہ اور انیس اگست کو دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ بیٹا اب تک اثرات بھگت رہا ہے۔ ذرا سوچیے مریم بی بی، ایک باپ کی آنکھوں کے سامنے دو بیٹیاں کفن میں لپٹ گئیں اور وہ معصوم بیٹا، اس زہر سے بچ گیا لیکن صدمے سے لڑ رہا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں بچے محبت سے کھانے کی چیز مانگتے ہیں اور ماں باپ بے بسی سے ان کے جنازے اٹھاتے ہیں۔
ریسٹورنٹ سیل ہوگیا۔ستو کتلہ پولیس نے کاغذی کارروائی کر لی۔ اخبارات میں چند کالم چھپ گئے۔ فوڈ اتھارٹی نے ایک پریس ریلیز جاری کر دی۔ چند دن بعد وہی ریسٹورنٹ جرمانہ دے کر دوبارہ کھل جائے گا، پھر کسی اور کے آنگن کے چراغ بجھیں گے، پھر کسی اور ماں کی گود اجڑ جائے گی۔ ہم سب کے سامنے ایک بھیانک کھیل بار بار کھیلا جاتا ہے اور ہر بار اصل قاتل بچ نکلتے ہیں۔ اصل قاتل وہ ہیں جو ملاوٹ کے نام پر زہر بیچتے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے ہمارے بازاروں کو زہر خانہ بنا دیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کبھی مذہب کی آڑ لیتے ہیں، کبھی کسی سماجی شناخت کا سہارا لیتے ہیں اور کبھی کسی افسر یا سیاست دان کی پناہ میں چھپ جاتے ہیں۔ یہ وہ چہرے ہیں جنہیں ہر شہری پہچانتا ہے مگر قانون کی آنکھ ان کی جانب سے بند رہتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ضمانتوں پر ضمانتیں لیتے ہیں اور عدالتوں سے ہنستے ہوئے باہر نکلتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی ہمت ہے کہ اگر حکومت انہیں پکڑے تو یہ ہڑتال کر کے پورے شہر کو باندھ دیتے ہیں۔
یہاں ایک سوال فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے اٹھتا ہے۔کسی سانحے کے بعد دیکھا گیا ہے کہ معائنہ کے نام پر اس کے عملے کے دام بڑھ جاتے ہیں، یوں بسا اوقات ایمانداری سے کام کرنے والے بھی اس سختی اور عملے کے بڑھے ہوئے مطالبات کی زد میں آ جاتے ہیں۔ایک بار مولانا شوکت علی روڈ کے ایک معروف ریسٹورنٹ سے کھانا کھا رہا تھا، حسب عادت ہر لقمہ آرام سے لیتا ہوں، کھیر لی تو منہ میں کوئی چیز چبھ گئی، باہر نکالی تو شیشے کا ٹکڑا تھا، میرے شکایت کرنے پر مالک نے اپنے ڈپٹی کمشنر دوست کو بلا لیا۔اتفاق سے وہ میرا بھی واقف تھا، اس نے معاملہ رفع کرنے کی درخواست کی۔اسی طرح ایک اور بڑے ریسٹورنٹ سے کھانا کھانے کے بعد ہیضہ ہو گیا۔ بڑی مشکل سے صحتیاب ہوا۔ ایسی جگہوں کی نگرانی اور وہاں سختی کی ضرورت ہے ۔باقی جو ٹھیک کام کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔سرکاری عملے کو دیہاڑیاں لگانے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے آپ نے تجاوزات کے خلاف، صفائی کے نظام کے حوالے سے اور امن و امان کے معاملات میں کچھ حوصلہ افزا اقدامات کئے ہیں۔ لیکن آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا ان اقدامات سے زیادہ ضروری یہ نہیں کہ ان قاتلوں کو لگام دی جائے جو خوراک کے نام پر نسل کشی کر رہے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان میں اوسط عمر محض ساٹھ برس ہے جبکہ دنیا کے مہذب ممالک میں یہ اسی برس سے اوپر ہے؟ کیا یہ کڑوی حقیقت ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ہماری زندگیاں بیس پچیس برس پہلے ختم ہو رہی ہیں اور اس کا اصل سبب یہی ملاوٹ ہے؟۔
شاہ عالمی کے بازار کا کوئی ایک چکر لگا لیجیے۔ آپ کو ہر چیز کی دو نمبر، تین نمبر اور چار نمبر نقل ملے گی۔ نمک سے لے کر مرچ اور ہلدی تک ہر چیز میں زہر گھلا ہے۔ دودھ سفید زہر بن چکا ہے، گھی میں چربی اور مٹی کا تیل، مصالحوں میں اینٹوں کا برادہ اور رنگ، ادویات میں چاک اور پاؤڈر، بسکٹ اور ٹافیاں تک خالص کیمسٹری کی لیبارٹری لگتی ہیں۔ یہ سب کھا کھا کر ہماری نسلیں سکڑ رہی ہیں، ہڈیاں کمزور ہو رہی ہیں، دماغ کی شریانیں بند ہو رہی ہیں، کینسر کے وارڈ بھر رہے ہیں اور ہمارے قبرستان آباد ہو رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ایک ریسٹورنٹ کیوں کھلا رہا، بلکہ یہ ہے کہ فوڈ انسپکٹروں نے رشوت لے کر کیوں آنکھیں بند رکھیں؟ فوڈ اتھارٹی کے افسران نے عوام کو بچانے کے بجائے قاتلوں کو تحفظ کیوں دیا؟ حکومت نے ایک محکمے پر دوسرے محکمے کی عمارت کھڑی کی لیکن عوام کی زندگی پھر بھی محفوظ نہ ہوئی۔ اگر فوڈ اتھارٹی صرف ریٹ بڑھانے اور چھاپوں کی خبر لگوانے تک محدود ہے تو یہ ادارہ عوام کی جان کے ساتھ مذاق ہے۔
یہ معاملہ محض خوراک کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے۔ یہ وہ جرم ہے جس کی سزا کسی عدالت یا جیل میں نہیں بلکہ ضمیر کی عدالت میں ہے۔ وہ عدالت جو آج خاموش ہے لیکن کل گرجے گی۔ اگر ایک بار حکومت نے واقعی تہیہ کر لیا کہ ملاوٹ خوروں کو بخشا نہیں جائے گا تو یہ ایک نئی صبح ہو سکتی ہے۔ ورنہ آپ کے نام کے ساتھ بھی وہی سوال جڑا رہے گا جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے: کیا یہ حکومت صرف تقریروں اور بیانات تک محدود ہے یا اس کے پاس بچوں کی زندگیاں بچانے کا کوئی حقیقی منصوبہ بھی ہے؟۔ یہ قاتل اگر آج بھی آزاد پھر رہے ہیں تو کل کوئی اور محمد عظیم ہوگا، کوئی اور باپ اپنی بیٹیوں کو دفنائے گا، کوئی اور ماں اپنے بچوںکی موت پر نوحہ کرے گی۔ اور یہ سب ہم سب کے سامنے ہوگا، بالکل ایسے ہی جیسے ہم پچھلے کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔
آپ کے نام یہ کھلا خط محض شکایت نہیں بلکہ مطالبہ ہے۔ ان ملاوٹ خوروں کو جکڑیں، ان کے کارخانے بند کریں، ان کی ضمانتوں کو رد کریں، ان کے پیچھے کھڑی سیاسی یا مذہبی ڈھالیں توڑیں۔ یہ ہڑتال کریں تو کرنے دیں، یہ احتجاج کریں تو کرنے دیں، لیکن ایک بار انہیں قانون کے شکنجے میں کس کر دکھائیں۔ یہ سچ ہے کہ لاہور کے کچرے اور تجاوزات سے زیادہ خطرناک وہ زہر ہے جو ہم روز کھا رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو بچے آج مر گئے، ان کی موت کے اصل مجرم وہ ہیں جو کرسیوں پر بیٹھ کر رشوت لیتے ہیں اور وہ ہیں جو زہر بیچ کر دولت کماتے ہیں۔
یہاں لاشیں دو بیٹیوں کی ہیں، اور سینکڑوں خاندانوں کی دعائیں آسمان پر ہیں۔ یہ خط اسی درد سے لکھا جا رہا ہے۔ اگر آپ نے واقعی پنجاب کی ماں بننے کا فیصلہ کیا ہے تو سب سے پہلے ان قاتلوں کا گلا دبائیے۔ ورنہ کل جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ بھی لکھا جائے گا کہ معصوم بچوں کی موت پر بھی حکومت خاموش رہی، کہ اصل قاتل پھر بھی بچ گئے۔
کھلا خط مریم نواز کے نام: اصل قاتل پکڑیں
09:04 AM, 28 Aug, 2025