بیرون ملک پاکستانی افرادی قوت میں اضافہ کیسے ہو ؟؟

09:04 AM, 28 Aug, 2025

بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں کمیونٹی ویلفیئر سیکشنز بنیادی طور پر سمندر پار پاکستانیوں کے مفادات کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ یہ حصے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) اور بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے ساتھ مل کر وزارت برائے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی (MOPHRD) کے تحت کام کرتے ہیں۔
کمیونٹی کے معاملات کی دیکھ بھال کے علاوہ حکومت کی جانب یا انکی وزارتوںکی جانب سے ان پر دبائو ہوتا ہے کہ وہ جہاں تعینات ہیںوہاں پاکستانی افرادی قوت اور انکی بیرون ممالک ملازمتوں کے لئے کوشش کریں، یہ خواہش خاص طور پر خلیجی ممالک میں ہوتی ہے لیکن ہمارے قونصیلٹ ، سفارت خانوںیا وہاںتعینات ویلفیئر افسران کیوںخاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتے اس کا ذکر آگے چل کر کرونگا۔ خلیجی ممالک خاص طور پر سعودی عرب میںآباد پاکستانی جو یہاں اچھی ملازمت پر ہوںیا لیبر کلاس ان ممالک میںبیشتر جگہ عربی زبان کو سمجھنے کی مشکل ہوتی ہے اور اسکی وجہ سے وہ قانونی طور پر ایسے معاملات کا شکار ہوجاتے ہیں جو انکے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں ، انکی مدد کیلئے حکومت نے قونصلیٹ اور سفارتخانوںنے ویلفئیر شعبے او ر افسران تعینات کئے ہیں سفارت کاروںکے بعد جنکے ذمہ دونوںممالک کے درمیان اہم سفارتی ذمہ داریاںہوتی ہیں ، اسکے بعد سب سے اہم شعبہ پاکستانیوں کو خدمات فراہم کرانے والا شعبہ ویلفیئر کا ہے اگر واقعی سائل کے مسائل خندہ پیشانی سے سنیں اور حل کئے جائیں تویہ دنیا اور آخرت کے ثواب اور شاباشی حاصل کر سکتے ہیں میرے گزشتہ چالیس سالوںمشاہدے کے مطابق جدہ میں شائد ہی ایک دو کے علاوہ جنکا ذکریہاں ضروری نہیں کوئی بھی افسر شعبہ ویلفیئر میں ایسا آیا ہو جس نے اللہ کی رضا حاصل نہ کی ہو جو خوش آئند ہے انکے کاموں کی نگہداشت قونصل جنرل اور سفیر کررہے ہوتے ہیں ، دیکھاجائے تو شعبہ ویلفیئرکا کام 24/7 ہے اگر وہ گھر جاکر اپنا ٹیلفون بند نہ کرلیں تو ۔ دراصل سائل کو مقامی قوانین اور اپنے مسئلہ کا حل کا پتا نہیں ہوتا اسی لئے وہ قونصلیٹ کے شعبہ ویلفیئر کے افسران سے رجوع کرتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر سائل کو تحمل سے سن لیا جائے تو اسکا آدھا مسئلہ تو وہیں حل ہوجاتا ہے ۔شعبہ ویلفئیرکے معروف کاموں میں : ٭بیرون ملک پاکستانی کارکنوں اور کمیونٹیز کے حقوق اور بہبود کا تحفظ کریں۔٭ملازمت کے معاہدوں، تنخواہوں، پاسپورٹ/ویزہ کے مسائل، اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق مسائل کو حل کریں۔٭پاکستانی تارکین وطن کو تعلیم دیناکہ میزبان ملک کے حکام، اور پاکستان کی حکومت کے درمیان ایک پل کے طور پر کام کریں، ملازمت پر آنے والوںکے معاہدوںکی تصدیق اگر انہیں انکے بیرون ملک آنے سے قبل پاکستانی متعلقہ ادارے آگاہ کردیں ۔ ٭آجروں کے ساتھ تنازعات میں مدد (عدم ادائیگی، بدسلوکی، معاہدے کی خلاف ورزی)۔٭کسی وجہ سے نظر بندی، کام کی جگہ کے حادثات، یا ملک بدری کے معاملات میں قانونی مدد اور حوالہ۔٭لاشوں کی پاکستان واپسی (دستاویزات پر کارروائی، ایئر لائنز اور مقامی حکام کے ساتھ ہم آہنگی)۔ ٭پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو ہنگامی امداد فراہم کرنا۔
 ٭ قیدیوں، مصیبت زدہ خواتین، اور انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والوں کے معاملات کو نمٹانا۔٭پاکستانی کمیونٹی کی فلاحی تنظیموں اورافراد سے رابطہ چونکہ یہ تنظیمںاو ر افراد بہت کام کے ہوتے ہے جیلوںمیں پاکستانیوں کے جرمانے ادا کرنے میں وہ شعبہ ویلفئیر کیلئے بہت اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں٭ پاکستانی کارکنوں کا استحصال نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے بھرتی ایجنسیوں اور غیر ملکی آجروں کی نگرانی۔٭میزبان ملک میں پاکستانی لیبر کا ڈیٹا رکھنا۔یہ ڈیٹا پاکستان میںموجود متعلقہ اداروںکے پاس نہیں تو یہ بے چارے افسران کیا ڈیٹا رکھیںگے ۔جب تک کوئی ایسا طریقہ کا نہ ہوکہ بیرون ملک آنے والا پاکستانی خود ہی قونصلیٹ اور سفارت خانوںاپنے کوائف جمع کرائے چونکہ بے شمار لوگوںکی آمد کانہ ہی علم قونصل خانوںکو ہوتا وہ براہ راست خاص طور پر خلیجی ممالک میں مختلف کفیلوں کے براہ راست ویزوں پر آتے ہیں ۔ اتنے بے شمار کاموںمیں وسائل کی کمی پاکستانیوںکی خدمت میں رکائوٹ کا سبب ہوتی ہے مثلاسعودی عرب کے مغربی صوبے میں12 لاکھ سے زائد پاکستانی ہیں جنکی تفصیلات کسی کے پاس نہیں وہ مسائل پیدا ہونے پر قونصلیٹ اور شعبہ ویلفئیر کا رخ کرتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ایک بڑی تعداد میں موجود پاکستانیوںکیلئے سٹاف کی کمی ہوتی ہے اطلاعات کے مطابق اسوقت تو جدہ قونصلیٹ میں تین افسران ہیں پہلے تو ایک ، پھر دو تھے اب تین ہوگئے ہیں وہ تین سال کیلئے آتے ہیں ڈیڑھ سال زبان اور مقامی قانون سے آگاہی حاصل کرتے اوربعد کے ڈیڑھ سال میں انکے پاکستان واپس جانے کا وقت آتاہے گو کہ کمیونٹی ویلفئیر فنڈ ہوتاہے مگر بہت سے فلاحی حصوں میں فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مناسب فنڈز کی کمی ہے۔ ماسوائے رحلت پا جانے پاکستانیوںکے حقوق، حادثے کی صورت میں دید کی رقم کیلئے مقامی عدالتوں، اور آجروںسے قانونی معاملات حل کرنے کیلئے مقامی قانوںدانوںکی مدد لی جاتی ہے جبکہ دیگر کاموں مثال کے طور پر لیبر کورٹس کیلئے بھی کسی قانونی فرم کو بھی موجود ہونا چاہئے ایک وقت سنا تھا کہ کیا جارہے مگر اسکے متعلق مکمل آگاہی نہیں۔ اگر تارکین وطن سے متعلقہ شعبے اور پاکستان کی وزارت سمندر پار پاکستانی لوگوںکو نوازنا بند کردے تو یورپ ، امریکہ اور اسطرح کے ملکو ںمیں جہان گنتی کے پاکستانی ہوتے ہیں وہاں لیبر اتاشیوںکی ضرورت نہیں، یہ فنڈ اور زرمبادلہ ان ملکوں میں استعمال کریں جہاں پاکستانیوںکی بڑی تعداد ہے مثال کے طور پر جدہ ، ریاض ، قطر، ابوظہبی ، دوبئی وغیرہ ۔ لیبر اتاشیوںسے ہر دورہ کرنے والا پہلا استفاریہ کرتا ہے کہ سعودی عرب میں مزید افرادی قوت کیلئے آپ 
کیا کررہے ہیں ۔ یہ مکمل طور پر مارکیٹنگ ہوتی ہے ، جدہ کا مجھے علم ہے کہ شعبہ ویلفئیر کے افسران ، ان اداروںمیں جاتے ہیںجہاں افرادی قوت کی کھپت کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ ادارے چاہے سرکاری ہوںیا نجی بہت خندہ پیشانی سے پاکستانی افسران کو امید دلاتے ہیں پاک سعودی لازوال دوستی کے حوالے سے اور اپنی ضروریات سے آگاہ کرتے ہیں کونسے تجربہ کار، کونسی تعلیم والے چاہئیں، کیا تجربہ ہے ؟ یہ سوالات لیکر ہمارا افسر یہ فہرستیں اسلام آباد روانہ کرتا ہے وہاں بیٹھی نوکر شاہی مہنیوں جواب نہیں دیتی بلکہ بالکل جواب نہیں دیتی ، یہ معاملات سفیر پاکستان اور قونصل جنرل کے مطابق کئی مرتبہ پاکستان کے متعلقہ اداروں کو وزارت سمندر پار پاکستانیوں کو تحریری طور پر درخواست کی ہے مگر وہاں ان معاملات کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہاں کوئی کوائف نہیں ہوتے پھر حکومت کہتی ہے کہ ملکی معیشت کی مضبوط کرنے کیلئے بیرون پاکستانی ملک ریڑھ کی ہڈی ہیں جب منظم انداز میں کام نہیں ہونگے تو اس ریڑھ کی ہڈی کیسے مضبوط ہو گی؟؟؟ خاص طور سعودی عرب میںنئے پراجیکٹس ہیں جہاں بڑی افرادی قوت کی کھپت ممکن ہے، ہر قدم پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کو زرمبادلہ سب سے زیادہ سعودی عرب سے وصول ہوتاہے۔

مزیدخبریں