خالد عباس ڈار کا عزیزی اور نورجہاں کا نواسہ

08:40 AM, 29 Apr, 2026

سوشل میڈیا دور حاضر کی ایک ایسی دریافت و ایجاد ہے جس نے انسانی معاشرت ہی نہیں، معیشت، سیاست اور صحافت کو انقلابی تبدیلیوں سے روشناس کرا دیا ہے۔ حالات و واقعات کا تسلسل بتاتا ہے کہ اس پورے نظام کے پس پردہ ایک انتہائی اعلیٰ درجے کا شیطانی دماغ کام کر رہا ہے، وہ اس نظام کو منفی سمت میں لے جانے اور لے جاتے رہنے کے لئے تسلسل کے ساتھ کام کر رہا ہے اور وہ دماغ یقینا یہودی ہے جو غیر یہودی نسل انسانی کی تباہی و بربادی کے لئے کوشاں ہے، ایسے یہودی منصوبے کا انکشاف ”زعماءصہیون کی دستاویزات“ العروف پروٹوکولز کے افشا کے ذریعے گزری صدی کے ابتدا میں ہوا۔ سب سے پہلے پروٹوکولز کا انکشاف 1903ءمیں ”امپیریل رشیا“ نے کیا۔ اس کے بعد اس کے کئی زبانوں میں تراجم شائع ہوئے اور دنیا کو یہودیوں کے عالمی غلبے کے منصوبوں کے بارے میں پتہ چلا۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز نے 1921ءمیں اسے سیاہ پروپیگنڈے کے طور پر شائع کیا۔ 1924ءمیں اس کی جرمن اخبار فرینک فرٹر زیتونگ نے اسے شائع کیا۔ آج پوری دنیا یہودیوں کی عالمی حکومت اور حکمرانی کے بارے میں جانتی ہے۔ ریاست اسرائیل کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہودیوں نے یورپ پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد ریاست برطانیہ کے ذریعے صہیونی ریاست کی تخلیق کو یقینی بنایا اور پھر امریکہ کی سرپرتی کے ذریعے اس کی بقا کی ضمانت حاصل کی۔29کروڑ عرب اگر ایک کروڑ آبادی پر مشتمل ریاست اسرائیل کے ہاتھوں مجبور ہیں تو اس کی وجہ برطانوی امریکی سرپرستی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ایران نے تھوڑی سی جرا¿ت کا مظاہرہ کیا ہے تو اسرائیلی بقا پر ہی سوالیہ نشانات ابھرنا شروع ہو گئے ہیں، بہرحال بات ہو رہی تھی سوشل میڈیا کے منفی و شیطانی کردار کی۔ ہمارے ہاں اس کے شیطانی اعمال میں ایک عمل ”شخصیات کی کردارکشی“ اور انہیں ”بے وقعت“ بنانا یا پیش کرنا بھی ہے۔ اسی سوشل میڈیا کے ہاتھوں کئی شخصیات، اعلیٰ شخصیات گمنامی کے گھاٹ اتاری جا چکی ہیں۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک وقوعہ احمد بٹ نامی ایک یوٹیوبر نے سہیل احمد العروف عزیزی کے خلاف سٹیج کرنے کی کوشش کی ہے۔ احمد بٹ ملکہ ترنم نورجہاں کے نواسے اور ان کی بیٹی ظل ھما کے فرزند ارجمند ہیں۔ ماں کی طرف سے سید ہیں۔ ظل ھما نورجہاں اور شوکت حسین رضوی کی بیٹی ہیں جبکہ احمد بٹ، عقیل بٹ اور ظل ھما کے بیٹے ہیں۔ ان کی حیثیت نورجہاں کے نواسے سے زیادہ نہیں ہیں، اس لئے وہ بونگیاں مار کر اپنا قد کاٹھ بڑھانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک بونگی انہوں نے سہیل احمد عزیزی کے حوالے سے ماری کہ عزیزی مشہور کامیڈین اداکار ہیں لیکن انہوں نے کوئی ایسی اکیڈمی نہیں بنائی جہاں نئی نسل کو اداکاری کی تربیت دی جا سکے، گویا عزیزی بڑے فنکار ہونے کے باوجود اپنا بڑا پن ثابت نہیں کر پائے ہیں۔ اس بات سے احمد بٹ نے ”Controversy“ پیدا کر کے اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے قومی لیجنڈ فنکار جناب خالد عباس ڈار نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک گفتگو میں بتایا کہ نورجہاں ایک عظیم الشان فنکارہ تھیں جن کے فن کا سفر 10 سال کی عمر میں ہی شروع ہو گیا تھا، جب انہوں نے کلکتہ کے تھیٹر میں گانا شروع کیا۔ یہ سفر 10سال تک جاری رہا اور بے بی نورجہاں نے اپنے آپ کو منوایا پھر نورجہاں ایک لڑکی کے روپ میں سامنے ائیں۔ ایک دہائی تک ان کے فن کا یہ سفر جاری رہا پھر نورجہاں نے ایک پختہ کار فنکارہ کے طور پر اپنے آپ کو میڈم نورجہاں کے طور پر منوایا۔ اس کے بعد نورجہاں ملکہ ترنم ہو گئیں اور کوئی دوسرا ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکا۔ وہ آخری سانس لینے تک ملکہ ترنم کے اعزاز علیہ اور مقام جلیلہ پر فائز رہیں لیکن کیا وہ اپنی بیٹی ظل ھما کو گانا سکھا سکیں۔ ظل ھما ایک خوبصورت خاتون تھیں لیکن گائیکی میں ان کا کوئی مرتبہ و مقام نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ماں کے نغمے گا گا کر اپنی پوزیشن بطور گلوکارہ مستحکم کرنے کی کاوشیں کیں لیکن ناکام رہیں۔ خالد عباس ڈار نے وی لاگ میں مزید بتایا کہ ملکہ ترنم نے کوئی میوزک اکیڈمی قائم نہیں کی تو کیا ان کا مقام اور مرتبہ کم ہو گیا، نہیں۔ اسی طرح سہیل احمد عصر حاضر کا لیجنڈری فنکار ہے۔ اپنے فن کی معراج پر بھی ہے۔ بطور فنکار کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ وہ اپنی طرز کا واحد فنکار ہے جو اپنی حیثیت بطور فنکار تو منوا ہی چکا ہے بلکہ اس نے فنکاروں میں اپنی اخلاقی پوزیشن بھی مستحکم کر رکھی ہے۔ انڈسٹری میں اسے 1122 کے طور پر جانا اور مانا جاتا ہے کیونکہ جب کسی فنکار کو کسی قسم کی معاونت و مدد کی ضرورت ہوتی ہے سہیل احمد عزیزی وہاں موجود ہوتا ہے۔ وہ اپنی آمدنی کا ایک خطیر حصہ فنکاروں کی مدد پر خرچ کرتا ہے اور یہ سب کچھ منظم طریقے سے مسلسل ہو رہا ہے۔ سہیل احمد عزیزی نے جب آفتاب اقبال کے پروگرام خبرناک میں اپنے فن کا اظہار کرنا شروع کیا تو کئی لوگ اس وقت پوچھتے تھے کہ سہیل احمد کے ساتھ یہ لڑکا کون بیٹھا ہے۔ سہیل احمد 10 سال سے حسب حال کر رہا ہے، اس کی فنکارانہ عظمت واضح ہے۔ خالد عباس ڈار نے وی لاگ میں عظیم فنکار کے خاندانی پس منظر کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ سہیل ایک پڑھے لکھے اور معروف گھرانے کا فرد ہے۔ یہ کوئی چلتا پھرتا، دھکے کھاتا اس مقام تک نہیں پہنچا ہے، پڑھا لکھا ہے۔ فقیر محمد جو بابائے پنجابی کے لقب سے مشہور و معروف ہیں۔ سہیل کے نانا تھے۔ معروف ٹیلی ویژن اور سٹیج فنکار خالد معین بٹ کے دادا تھے۔ خالد معین بٹ فنکار کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کے نظریاتی جیالے اور کامریڈ کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ڈار صاحب نے بتایا کہ فردوس جمال جب کینسر جیسے موذی مرض کا شکار تھے تو سہیل احمد نے ذاتی کاوشوں سے اسے شہباز شریف سے ایک کروڑ روپے کی امداد لے کر دی۔ فنکار برادری اور شوبز انڈسٹری میں سہیل احمد عزیزی کو عزت اور وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ فن کی عظمت کے مقام پر ہی فائز نہیں ہے بلکہ فنکارانہ اور انسانیت کی عظمت کے مقام پر بھی فائز ہے۔ احمد بٹ اور ایسے دیگر بالشتیے عظیم فنکار کی عظمت کو داغدار نہیں کر سکتے ہیں، ہاں انہیں گھٹیا Controversy 
کے ذریعے اپنے ویوز میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہی سوشل میڈیا کا کمال ہے اور یہی سوشل میڈیا کے بانیان اور منتظمین کا مقصد ہے کہ کوئی بڑا انسان بچ نہ پائے۔ کوئی اعلیٰ انسان، رول ماڈل نہ بن سکے۔ بالشتیے یوٹیوبر یہودیوں کے اس شیطانی منصبے کی تکمیل میں ایک ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حیثیت ایجنٹ اور وہ بھی یہودی ایجنٹ سے زیادہ نہیں ہے۔ عزیزی جیسے کام کرنے والے، کام کرتے رہیں گے، اپنے فن کی آبیاری کرتے رہیں گے۔ عوام ان کے فن کی پرستش بھی کرتے رہیں گے۔ کیچڑ اچھالنے والے بھی اپنی اوقات دکھاتے رہیں گے۔ خیر و شر کا یہ کھیل ازل سے جاری ہے اورابد تک جاری رہے گا۔ سوشل میڈیا نے اسے تیز اور قاطع بنا دیا ہے۔ اس کی اثر پذیری میں اضافہ کر دیا ہے۔ دنیا میں اس حوالے سے قانون سازی ہوتی ہے کہ بالشتیے اپنا گھناﺅنا کردار ادا نہ کر سکیں۔ ہمارے ہاں قانون سازی ہو رہی ہے لیکن مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے، عوام کے لئے نہیں، شریف شہریوں کے لئے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے منفی اثرات نمایاں اور گھناﺅنے ہیں۔

مزیدخبریں