مشرقِ وسطیٰ: امن یا جنگ ؟

08:40 AM, 29 Apr, 2026

مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور عالمی طاقتوں کا کردار آج سب سے زیرِ بحث بین الاقوامی موضوع ہے۔پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کےلئے اہم سفارتی مرکزکی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ایک دن کے وقفہ سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی دو بار اسلام آباد آمد اور سیاسی و عسکری اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے اور پاکستان پوری طرح ان معاملات میں شامل ہے ۔ پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی بلکہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر قیامِ امن کے لیے کلیدی اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے اپریل کے اوائل میں ایران امریکہ کے درمیان جاری 40 روزہ جنگ میں نہ صرف وقفہ آیا بلکہ مذاکرات کے دور کا آغاز بھی ہوا۔ امن مذاکرات کےلئے دونوں متحارب ممالک کے اعلیٰ حکام کی اسلام آباد آمد نے پاکستان کی اہمیت دنیا بھر پر واضح کر دی اور اس کے عالمی وقار میں مزید اضافہ کیا۔ اس سے قبل مارچ کے آخر میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں اکٹھے ہوئے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مشترکہ حکمتِ عملی طے کرنا تھا۔سعودی عرب نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ۔ پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں کی پاسداری کر رہا ہے تودوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ثالثی کر رہا ہے تاکہ خطے میں جنگ کے معاشی اور سکیورٹی اثرات سے بچا جا سکے۔ اس سفارت کاری کا ایک بڑا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی راستوں کی بحالی کو یقینی بنانا ہے جو عالمی معیشت اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے لیے اہم ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کے اس نئے اور متحرک سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ”عالمی امن کا مرکز“قرار دیا ۔ پاکستان بیک وقت امریکہ، چین، روس اور ایران جیسے اہم فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خود کو ایک غیر جانبدار مصالحت کار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا حالیہ سفارتی اثر و رسوخ نہ صرف اس کی سفارت کاری بلکہ اس کی بہترین فوجی ساکھ اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے بھی ہے جس نے اسے مشرقِ وسطیٰ کے مسائل میں ایک مرکزی فریق بنا دیا ہے۔
 موجودہ عالمی منظرنامہ میں اگر کوئی ریاست اس جنگ کو بند اور کشیدگی کو کم کرنے، متحارب قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کی کوشش کرے تو یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ انسانیت کی اعلیٰ ترین درجہ کی خدمت بھی ہے۔ قیامِ امن کیلئے پاکستان کے کردار کو عالمی طور پر سراہا جا رہا ہے تاہم پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ پر بھارت تلملاہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ بھارتیوں کے لئے یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے کہ دنیا کے 195 ملکوں میں سے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور یہی حقیقت بھارت کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بیک چینل رابطوں میں پاکستان کو ایک ”قابلِ اعتماد پُل“ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بیانیہ کے برعکس ہے جسے بھارت گزشتہ ایک دہائی سے فروغ دیتا رہایعنی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا اور غیر متعلق ثابت کرنا۔تاہم ششی تھرور جیسے چند باشعور بھارتی رہنما اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کا خیر مقدم کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر بھارتی بیانیہ تعصب اور انکار کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ بھارت کے سیاسی و سفارتی حلقوں میں جو بے چینی، حسد اور اضطراب دیکھنے کو مل رہا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پر پاکستان دشمنی کا بھوت سوار ہے۔ یہ تعصب محض سفارتی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ بھارت کی موجودہ قیادت ایک ایسے بیانیہ پر کھڑی ہے جس میں پاکستان کو ہر صورت منفی دکھانا ضروری ہے چاہے حقیقت اس کے برعکس ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان ایک مثبت، تعمیری اور عالمی سطح پر سراہا جانے والا کردار ادا کرتا ہے تو بھارت کے لیے اسے تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ تعریف کے بجائے تنقید اور تعاون کے بجائے مخالفت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ بھارت کا بڑا مسئلہ ہے کہ وہ پاکستان فوبیا کا شکار ہے۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا کچھ عرصہ قبل دیا گیا بیان جس میں انہوں نے پاکستان کے خلاف انتہائی غیر مہذب زبان استعمال کی،درحقیقت اسی تعصب کے دائروں میں بند ذہنیت کا عکاس ہے۔ ایک مہذب دنیا میں سفارت کار الفاظ کو پُل بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، دیواریں کھڑی کرنے کے لیے نہیں۔ مگر بھارت کے وزیر خارجہ نے جو زبان استعمال کی وہ نہ صرف سفارتی آداب کی خلاف ورزی تھی بلکہ اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ بھارت حجم میں جتنا بڑا ہے ریاستی روش ، اخلاقیات، سفارتی آداب اور سیاسی قد میں اتنا ہی چھوٹا او ر کم ظرف ہے۔ ایک بڑا ملک ہونے کا مطلب صرف آبادی یا رقبہ نہیں ہوتا بلکہ کردار، بصیرت اور برداشت بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں اور یہی عناصر اس وقت بھارت میں ناپید دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت کے اندر کانگریسی رہنماو¿ں، تجزیہ کاروں اور حکومتی ناقدین نے بھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام اور مذاق قرار دیا ہے۔ راہول گاندھی، پون کھیرا اور جے رام رمیش جیسے رہنماو¿ں نے کھل کر سوال اٹھایا ہے کہ جب پاکستان عالمی امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے تو بھارت کہاں کھڑا ہے؟ یہ سوال دراصل صرف اپوزیشن کا نہیں بلکہ پورے بھارتی معاشرے کی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے بعد اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بڑے فخر سے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔ نریندر مودی اور ان کا گودی میڈیا برسوں تک یہی بیانیہ دہراتا رہا کہ پاکستان عالمی سطح پر غیر متعلق ہو چکا ہے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہیں جبکہ نئی دہلی سفارتی منظرنامے سے تقریباً غائب ہے۔بھارتی تجزیہ کار حالیہ پیشرفت کو سفارت کاری کی ناکامی قرار دے رہے ہیں لیکن یہ کسی نئی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے ۔اپنی تحریر اس دعا کے ساتھ ختم کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی امن کوششوں کو کامیاب کرے اور وطن عزیز کا عالمی وقار مزید بلند ہو۔

مزیدخبریں