پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود آج عالمی سطح پر ا±ن ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں خوراک کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان خوراک کی قلت میں دنیا کے دس بدترین ملکوں میں شامل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی گلوبل رپورٹ برائے فوڈ سکیورٹی 2026 کے مطابق پاکستان ان دس ملکوں میں شامل ہے جن کو خوراک کی قلت کا تشویش ناک حد تک سامنا ہے ان ممالک میں افغانستان ، بنگلہ دیش ،کانگو ، میانمار نائیجیریا ، سوڈان ، شام اور یمن شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ پاکستانی شہری خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں افراد کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں رہی۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی کمزوری بلکہ پالیسی سازی کی خامیوں، کرپشن اور موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جو گندم، چاول اور دیگر اجناس پیدا کرتا ہے، وہ خوراک کے بحران کا شکار کیوں ہے؟۔
سب سے پہلی اور بنیادی وجہ مہنگائی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں آٹے، چینی، دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ ملک میں خوراک کی پیداوار مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، لیکن عام آدمی کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یوں مسئلہ قلت کا نہیں بلکہ رسائی کا بن چکا ہے۔ ایک مزدور یا متوسط طبقے کا فرد اپنی آمدن کا بڑا حصہ صرف خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہے، جس سے اس کی زندگی کے دیگر بنیادی اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔
دوسری اہم وجہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات ہیں۔ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلابوں نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو تباہ کیا، فصلیں برباد ہوئیں اور مویشی ہلاک ہوئے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خوراک کی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ کسان بھی مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔ جب کسان کمزور ہوگا تو پیداوار میں کمی لازمی ہے، اور یہی کمی بعد میں مہنگائی اور بحران کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
تیسری بڑی وجہ حکومتی بدانتظامی اور پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ گندم کی خریداری، ذخیرہ اور تقسیم کا نظام طویل عرصے سے مسائل کا شکار ہے۔ پاسکو اور صوبائی فوڈ ڈیپارٹمنٹس کا بنیادی کام اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے، مگر عملی طور پر اس نظام میں شفافیت کا فقدان نظر آتا ہے۔محکمہ خوراک سمیت سرکاری اداروں میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے باعث پورا نظام کے دگرگوں ہو چکا ہے۔ اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ سرکاری گندم فلور ملز کو سستے داموں فراہم کی جاتی ہے، مگر عوام تک آٹا مہنگے داموں پہنچتا ہے۔
وفاقی حکومت نے حالیہ عرصے میں گندم کی خریداری بڑھانے، درآمدات کو کنٹرول کرنے اور ذخائر بہتر بنانے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ اسی طرح پنجاب حکومت نے سستے آٹے کی سکیمیں متعارف کرائیں، خاص طور پر رمضان کے دوران سبسڈی دی گئی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ تاہم، یہ اقدامات زیادہ تر وقتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ نظام کی اصلاح ہے، جو ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔
گندم کے شعبے میں کرپشن ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ گزشتہ برسوں میں سامنے آنے والے سکینڈلز، خصوصاً گندم کی غیر ضروری درآمد، نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ نے بھی صورتحال کو خراب کیا۔ فلور ملز مافیا پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھاتے ہیں اور منافع کماتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر عام شہری کے لیے روٹی کا حصول مشکل بنا دیتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے روٹی اور نان کی قیمت مقرر ہونے کے باوجود پنجاب بھر بالخصوص لاہور میں تندوروں پر روٹی 20 روپے اور نان 25 روپے کا مل رہا ہے اوراگر کہیں سرکاری نرخ پر یہ اشیاءمل بھی رہی ہیں تو انکا وزن سرکاری کی جانب سے مقرر کیے گئے وزن سے کم ہیں یقینا ”یہ پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسران و اہلکارں کی مدد اور چشم پوشی کے بغیر ممکن نہیں۔ پنجاب اسمبلی میں بعض اراکین نے فلور ملز اور مخصوص کمپنیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ پاکستان میں اکثر معاشی مسائل سیاسی بیانات کی نذر ہو جاتے ہیں، جس سے اصل مسئلے کی جڑ تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر ہم یہ سوال کریں کہ کیا پاکستان اس بحران سے نکل سکتا ہے، تو جواب نفی میں نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس زرعی وسائل موجود ہیں، زمین زرخیز ہے اور کسان محنتی ہیں۔ مگر اس کے لیے چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے زرعی پالیسی کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ کسان کو بروقت اور مناسب قیمت ملنی چاہیے تاکہ وہ گندم جیسی بنیادی فصلوں کی کاشت جاری رکھ سکے۔ دوسری طرف ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔
مزید برآں، پانی کے مسائل کو حل کیے بغیر زرعی ترقی ممکن نہیں۔ پاکستان کو جدید آبپاشی نظام، بہتر بیج اور ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خاتمے کے لیے شفاف نظام متعارف کرانا ہو گا، جہاں گندم کی خریداری سے لے کر تقسیم تک ہر مرحلہ مانیٹر ہو۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں خوراک کا بحران صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گورننس کا بحران بھی ہے۔ جب تک پالیسیوں میں تسلسل، اداروں میں شفافیت اور احتساب کا نظام مضبوط نہیں ہوگا، اس وقت تک وقتی ریلیف تو مل سکتا ہے مگر مستقل حل نہیں نکلے گا۔ عوام کو سستی اور معیاری خوراک فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری سے غفلت نہ صرف معاشی عدم استحکام بلکہ سماجی بے چینی کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو درست کرے، کرپشن کا خاتمہ کرے اور ایک ایسا نظام قائم کرے جہاں ہر شہری کو بنیادی خوراک باعزت طریقے سے میسر ہو۔ اگر یہ اقدامات سنجیدگی سے کیے جائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان اس بحران سے نکل کر ایک مستحکم اور خود کفیل زرعی معیشت بن سکتا ہے۔
پاکستان میں خوراک کا بحران
08:39 AM, 29 Apr, 2026