عوامی استحصال،کیا صرف آئی پی پیز ہی ذمہ دار ہیں؟

08:39 AM, 29 Apr, 2026

پاکستان میں خطے کا مہنگا اور بحران زدہ بجلی کا نظام کسی تکنیکی خرابی یا وقتی غلطی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ڈائریکشن، مفادات کے گٹھ جوڑ اور مسلسل ریاستی ناکامی کی کہانی ہے۔ جس کی قیمت ہرمہینے بجلی کے بل کی صورت میں عوام ادا کر رہے ہیں۔ حقیقت کو سیدھا دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آئی پی پیز خود مسئلہ نہیں تھے، انہیں مسئلہ بنایا گیا۔ 1994، بے نظیر بھٹو کے دور میں جب یہ ماڈل لایا گیا تو مقصد بجلی پیدا کرنا تھا، مگر جو معاہدے کیے گئے وہ بجلی کے نہیں، یقینی منافع کے معاہدے تھے۔ ڈالر میں واپسی، مکمل ادائیگی کی ضمانت اور سب سے ظالم شق کپیسٹی پیمنٹ یعنی بجلی نہ بھی بنے تو بھی پیسے ملیں گے۔ یہ سرمایہ کاری نہیں، بلکہ ریاستی سرپرستی میں خطرہ ختم کر کے منافع یقینی بنانے کا بندوبست تھا۔
اسی نظام کے تحت چند بڑے آئی پی پیز سامنے آئے جنہوں نے وقت کے ساتھ اس ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا۔ حبکو اور کیپکو جیسے ابتدائی منصوبے جنہوں نے 1990 کی دہائی میں آئی پی پیز کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں نشاط پاور، لال پیر پاور، فوجی کبیر والا پاور، سیف پاور اور سیفائر الیکٹرک جیسے مقامی گروپس اس نظام کا حصہ بنے۔ پھر سی پیک کے دور میں چینی کمپنیوں کے بڑے منصوبے سامنے آئے، جن میں پورٹ قاسم پاور، ساہیوال کول پاور پلانٹ، چائنا پاور حب اور اینگرو تھر کول پاور شامل ہیں۔ یہی وہ بڑے کھلاڑی ہیں جو آج پاکستان کے پاور سیکٹر میں غالب حیثیت رکھتے ہیں اور کپیسٹی پیمنٹس کا بڑا حصہ انہی کو جاتا ہے۔ یہ گروپس بالواسطہ اور بلا واسطہ پالیسی ساز اور طاقتور اداروں میں اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ اسی لئے 1994 سے اب تک بننے والی تمام سیاسی، فوجی و ہائبرڈ حکومتیں اور اپوزیشن اس ایک نقطے پر متفق نظر آتی ہیں۔
آج اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اب تک محتاط اندازے کے مطابق 50 سے 60 ارب ڈالر صرف کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کر چکا ہے اور سالانہ بوجھ دو کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاہدے کس نے کیے، کس نے منظور کیے، اور کس نے ان پر سوال اٹھانے کی زحمت نہیں کی؟ کیا کبھی یہ تحقیق بھی ہو گی کہ اس کثیر سرمائے سے کون کون مستفید ہوا؟۔ یہاں آ کر معاملہ صرف پالیسی کی غلطی نہیں رہتا، بلکہ پالیسی گٹھ جوڑ بن جاتا ہے۔ بڑے کاروباری گروپس، فیصلہ ساز بیوروکریسی اور سیاسی قیادت سب ایک ایسے دائرے کا حصہ ہیں جہاں فائدہ چند افراد کواور بوجھ کروڑوں انسانوں پر منتقل کیا گیا۔ ان معاہدوں میں کرپشن کے امکانات کو محض افواہ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جب رسک صفر اور منافع یقینی ہو تو سوالات خود جنم لیتے ہیں۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جہاں مہنگے اور فوری منافع والے منصوبے ترجیح بنے، وہاں سستے اور پائیدار حل مسلسل نظر انداز کیے گئے۔ ہائیڈل پاور منصوبے، مقامی وسائل اور قابل تجدید توانائی، یہ سب یا تو تاخیر کا شکار رہے یا دانستہ طور پر پس منظر میں رکھے گئے۔ کیوں؟ کیونکہ ان میں فوری اور یقینی منافع کا وہ ماڈل موجود نہیں تھا جو آئی پی پیز میں تھا۔ ریاستی منصوبوں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔ نندی پور پاور پلانٹ ایک مثال ہے کہ اربوں روپے خرچ کر کے بھی کس طرح ایک منصوبہ تاخیر، بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ساہیوال کول پاور پلانٹ جسے ترقی کا نشان بنا کر پیش کیا گیا آج مہنگی بجلی کی ایک علامت بن چکا ہے۔ یہ منصوبے اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف نجی شعبہ نہیں، بلکہ ریاستی فیصلہ سازی کی ناکامی بھی ہے۔
دوسری جانب نیپرا، واپڈا اور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں یہ وہ ستون ہیں جن پر پورا بجلی کا نظام کھڑا ہے۔ مگر یہی ستون سب سے زیادہ کمزور ہیں۔ لائن لاسز، بجلی چوری، ناقص ریکوری اور انتظامی نااہلی یہ سب کھلے راز ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ان نقصانات کا بوجھ کبھی ان اداروں پر نہیں ڈالا جاتا، ہمیشہ صارف پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ صارفین کا تحفظ کرنے والے وفاقی و صوبائی اداروں اورنجی تنظیموں نے اس پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ نیپرا ٹیرف بڑھاتی ہے، ڈسکوز نقصان کرتی ہیں، حکومت سبسڈی کم کرتی ہے اور آخر میں بل عوام کو بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ بجلی کا نظام نہیں بلکہ ایک منظم مالی منتقلی ہے عوام کی جیبوں سے طاقتور حلقوں کی تجوریوں کی طرف۔
عوام نے اس استحصال سے نکلنے کے لیے سولر انرجی کا راستہ اختیار کیا، تو وہاں بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ نیٹ میٹرنگ پر پابندیاں، ٹیکسز میں اضافہ اور پالیسی میں بار بار تبدیلیاں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست مسئلہ حل کرنے کے بجائے کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ سستی بجلی دینا ترجیح نہیں، بلکہ مہنگے نظام کو زندہ رکھنا ترجیح بن چکی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس پورے بحران میں کوئی ایک حکومت بری الذمہ نہیں۔ 1990 کی دہائی میں بنیاد رکھی گئی، 2000 کی دہائی میں اسے وسعت دی گئی، اور حالیہ برسوں میں اسے مزید مضبوط کیا گیا۔ ہر دور میں ایک ہی سوچ غالب رہی۔ فوری حل، طویل المدتی منافع، بوجھ کی پروا کیے بغیر جو کہ عوام نے بھگتنا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی مجبور ہے؟ جواب واضح ہے کہ ''نہیں''۔ ریاست کمزور نہیں، بلکہ ترجیحات کا انتخاب کرتی ہے۔ جب چاہے ٹیکس قوانین بدل دیتی ہے، جب چاہے سبسڈی ختم کر دیتی ہے، جب چاہے نئے معاہدے کر لیتی ہے۔ پھر آئی پی پیز کے معاملے میں یہ بے بسی کیوں؟۔ یہ بے بسی نہیں،ارادے کی کمی ہے یا شاید مفادات کا تسلسل۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا بجلی کا بحران تکنیکی نہیں، بلکہ سیاسی اور معاشی ہے۔ جب تک پالیسی سازی شفاف نہیں ہوگی، ادارے جوابدہ نہیں ہوں گے اورعوام کو سچ نہیں بتایا جائے گا، تب تک کوئی اصلاح دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج کا بجلی کا نظام عوام کے لیے نہیں، بلکہ ایک مخصوص ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے چل رہا ہے۔ جب تک یہ ڈھانچہ نہیں بدلے گا، روشنی پیدا ہونے کے باوجود اندھیرنگری چوپٹ راج قائم رہے گا۔

مزیدخبریں