جلال آباد : افغانستان میں طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں اور ملا ہیبت اللہ کے فیصلوں کے خلاف عوامی غم و غصہ ایک نئی لہر کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ جلال آباد کے علاقے غنڈ میں طالبان کے ملٹری کیمپ کے باہر سے منظرِ عام پر آنے والی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ایک افغان شہری کو طالبان کی معاشی ناکامیوں کے خلاف دہائی دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
افغان شہری نے طالبان کی موجودہ رجیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ شہری کا موقف تھا کہ طالبان کی آمرانہ طرزِ حکومت نے ملک کو معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ویڈیو کا سب سے اہم پہلو افغان شہری کا پاکستانی عسکری قیادت کے لیے والہانہ محبت اور احترام کا اظہار تھا۔ شہری نے طالبان کے عسکری مرکز کے باہر کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا پاکستانی عسکری قیادت نے عالمی امن کے قیام اور خطے کی بہتری کے لیے جو بہترین کردار ادا کیا ہے، وہ ہم سب کے لیے قابلِ فخر اور قابلِ ستائش ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، طالبان کے اپنے عسکری اڈے کے سامنے ایک عام شہری کا اس طرح پاکستان کی حمایت میں بولنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ افغان عوام اب امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے بیانیے کو سراہ رہے ہیں۔ یہ واقعہ طالبان رجیم کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
غان شہری طالبان کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف پھٹ پڑے؛ جلال آباد میں پاکستانی عسکری قیادت کے حق میں ویڈیو وائرل
01:15 PM, 28 Apr, 2026