کولکتہ: بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی "تطہیر" (SIR) کے نام پر 90 لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام نکال دیے گئے ہیں، جس سے ریاست میں ایک بڑا سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، دسمبر 2025 سے اب تک مختلف مراحل میں مجموعی طور پر تقریباً 90.66 لاکھ نام حذف کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں ریاست کے کل ووٹرز کی تعداد میں 12 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ کسی بھی بھارتی ریاست میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 27 فیصد ہے، لیکن فہرستوں سے نکالے گئے افراد میں ان کا تناسب 34 فیصد ہے، جو کہ ان کی آبادی کے لحاظ سے کہیں زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فہرستوں سے نام نکالنے کی شرح خواتین میں مردوں کے مقابلے میں 7.1 فیصد زیادہ رہی ہے۔ حکمران جماعت ترنمول کانگریس (TMC) نے اس عمل کو "سیاسی نسل کشی" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن نے دانستہ طور پر ان علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں اقلیتیں اور مہاجرین آباد ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کا کہنا ہے کہ یہ مشق بوگس اور جعلی ووٹوں کے خاتمے کے لیے ضروری تھی۔
تقریباً 27 لاکھ افراد نے اپنے نام نکالے جانے کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، تاہم انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے ان ووٹرز کے مستقبل پر بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کی بے دخلی سے انتخابی نتائج کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔