دریائے جہلم میں اضافی پانی چھوڑنے کا بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، پاکستان کی پانی کی فراہمی پر کوئی خطرہ نہیں

10:29 AM, 28 Apr, 2025

اسلام آباد : بھارت نے دریائے جہلم میں اضافی پانی چھوڑ کر سیلابی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی، تاکہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو سچ ثابت کیا جا سکے، لیکن یہ محض بھارت کی عوام کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش تھی۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے مظفرآباد کے علاقے ڈومیل سے 22 ہزار کیوسک کا ریلہ چھوڑا، تاکہ سیلاب کا تاثر پیدا کیا جا سکے، تاہم یہ کوئی حقیقی خطرہ نہیں تھا۔

پاکستان کے پانی کے انتظام کی نگرانی اب وزارت آبی وسائل اور واپڈا کر رہے ہیں، اور بھارت کے پاس مغربی دریاؤں پر پانی کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ بھارت کے پاس صرف 0.624 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ پاکستان کے منگلا ریزروائر میں 7.35 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے واضح ہے کہ پاکستان کی پانی کی فراہمی پر کوئی بڑا یا مستقل خطرہ نہیں ہے۔

ماہرین نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر پانی کی سلامتی کے حوالے سے کوئی خطرہ درپیش نہیں، مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ وزارت آبی وسائل اور واپڈا اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو بروقت معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

مزیدخبریں