مودی! تم نے کس قوم کو للکارا ہے

09:18 AM, 28 Apr, 2025

ہم پاکستانیوں میں لاکھ خامیاں ہوں گی لیکن ایک بات طے ہے کہ جب اور جہاں بھی پاکستان اور بھارت کے مابین کسی قسم کے مقابلے کی بات ہو گی خواہ یہ مقابلہ کھیل کے میدان میں ہو یا جنگ کے میدان میں سندھ سے خیبر پختونخوا تک اور پنجاب سے بلوچستان تک اپنے ازلی حریف بھارت کے مقابلے میں سبھی پاکستانی اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ ہمیں آپس میں جوڑنے اور متحد رکھنے میں بھارت کی پاکستان دشمن پالیسیاں ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تو یہ بے جا نہیں ہو گا۔ پاکستان کے خلاف بھارتی اشتعال انگیز اقدامات کے مقابلے میں الحمد للہ اس وقت آپس کے چھوٹے موٹے تمام تر اختلافات بھلا کر ساری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے ایک ہے۔ حال ہی میں معروف سنگر ممتاز علی کی آواز میں افواجِ پاکستان کے بہادر جوانوں کے لیے میرا لکھا ہوا نغمہ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے عنوان سے سوشل میڈیا پر ریلیز ہوا ہے۔ عوام میں اس نغمے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹک ٹاک پر اب تک اس نغمے پر 53000 ہزار سے زیادہ وڈیوز اپ لوڈ ہو چکی ہیں۔ آج کل بھارتی میڈیا میں بھارت سرکار کے پہلگام واقعہ کی آڑ میں پاکستان کو ’’رُلا رُلا کر مارنے‘‘ کی گیدڑ بھبکیاں سن کر ہم سب پاکستانیوں کو کسی قسم کا ڈر خوف تو کیا اُلٹا ہنسی آتی ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کیونکہ ہماری فوج کے ہاتھوں بھارتی سورما ابھی نندن کی درگت اور اس کی چائے سے خاطر تواضع تو پوری دنیا میں مشہور اور ابھی کل کی بات ہے۔ بھارتی نیوز چینل کو سنیں تو لگتا ہے بھارتی دھمکیوں کے نتیجے میں پاکستان کے اندر ڈر خوف کی وجہ سے کاروبارِ زندگی معطل ہو کے رہ گیا ہے۔ بھارت کے ’’سنی دیولوں‘‘ کی دہشت سے سہمے ہوئے پاکستانی بچے بوڑھے اور مرد و خواتین کہیں کونوں کھدروں میں چھپ گئے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے بھارت کی ان دھمکیوں اور اشتعال انگیز اقدامات کو حکومتی اور فوجی سطح پر تو جیسے دیکھنا چاہیے ویسے دیکھا جا رہا مگر جہاں تک پاکستانی عوام کی بات ہے تو سوشل میڈیا پر ان کا ردعمل دیکھ کر لگتا ہے کہ عوام نے مودی سرکار کی پاکستانیوں کو ’’رُلا رُلاکر مارنے‘‘ کی دھمکیوں کے جواب میں جنگ سے پہلے ہی بھارت کو ’’ہنسا ہنسا کر مارنے‘‘ کا پروگرام بنا لیا ہے۔ بھارت کو ’’ہنسا ہنسا کر مارنے‘‘ کے کارِ خیر میں ویسے تو سارا پاکستان ہی بڑھ چڑھ کر شریک ہے لیکن خاص طور پر 65ء کی جنگ کی طرح زندہ دلانِ لاہور جو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ صورتحال کو بھی کسی پکنک پارٹی کی طرح انجوائے کر رہے ہیں اس بار بھی بڑے جوش و جذبے کے ساتھ سوشل میڈیا کے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ہنسی ہنسی میں دشمن کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔ بھارت کو خاص طور پر اپنے ’’بھگوانوں‘‘ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ آج حضرت مولانا خادم حسین رضوی مرحوم بقیدِ حیات نہیں ہیں ورنہ اس وقت صورت حال قطعی مختلف ہوتی۔ کسی شک و شبے کے بغیر اب تک ’’غوری‘‘ مودی سرکار کی ساری پُھوک نکال چکا ہوتا۔ مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ مولانا خادم حسین رضوی اگر ہمارے درمیان نہیں رہے تو اب ہمارا کوئی والی وارث نہیں ہے الحمدللہ اب بھی ہمارے پاس سیاستدانوں اور صحافیوں میں آپا فردوس عاشق اعوان، مراد سعید اور چودھری غلام حسین جیسے خطرناک ہتھیار موجود ہیں جو مودی سرکار سمیت پورے بھارت کو منٹوں میں تہس نہس کر سکتے ہیں۔ مگر ابھی شاید بھارت کے ساتھ اس زنانہ یا مردانہ وار جنگ کی نوبت نہیں آئی ابھی ہمارے عوام سوشل میڈیا پر بھارت کے ساتھ ’’مَشکریاں‘‘ کر کے صرف مستانہ وار جنگ کا مزا لے رہے ہیں۔ جس میں ہمارے بہادروں نے بھارت کی اچھی خاصی ’’توبہ توبہ‘‘ کرا دی ہے۔ بھارت سرکار سے پاکستانی سورمائوں کی اس چھیڑ چھاڑ سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے۔ اگر آپ اب تک اس سے ناآشنا ہیں تو آپ بھی ان کھٹے میٹھے جملوں سے محظوظ ہونے کے ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق اس کار خیر میں حصہ بھی لے سکتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر جملے پنجابی میں ہیں اور ان کا اصل مزا بھی پنجابی زبان اور پنجابی لہجے میں ہے لیکن جو لوگ پنجابی زبان نہیں سمجھتے ان کی سہولت کے لیے میں ان سب جملوں کو یہاں اردو زبان میں نقل کر رہا ہوں۔ پنجابی زبان بولنے اور سمجھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ ان جملوں کا مزا لاہوری لہجے کے ساتھ اپنی زبان میں ہی لیں اس لیے کہ جو مزا اصل میں ہے وہ ہرگز کسی ترجمے میں نہیں آ سکتا۔ اب آپ یہ جملے ملاحظہ کریں جو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے شیئر کیے ہیں: ’’یقین کریں جنگ سر پر آ گئی ہے اور میں نے ابھی تک سوٹ نہیں سلایا، اتنی گرمی میں لوگ ولیمہ نہیں رکھتے بھارت نے جنگ رکھ لی ہے، جو پچاس ایکڑ زمین میرے دادا جی بھارت چھوڑ آئے تھے اب اسے واپس لینے کا وقت آ گیا ہے، افسوس ہماری شادی کی عمر قریب آنے لگی ہے تو بھارت نے جنگ کا پھڈا ڈال دیا ہے، جنگ کرنی ہو تو 9 بجے سے پہلے کر لینا سوا 9 بجے گیس چلی جاتی ہے، دکھ اس بات کا ہے زندگی کو اب جندگی بولنا پڑے گا، بھارت پانی کھول دو مجھے فریج میں پانی کی بوتلیں بھر کر رکھنی ہیں، ان شاء اللہ چیف منسٹر اتر پردیش عثمان بزدار، انڈیا والو ڈرو اس وقت سے جب تاج محل کی دیواروں پر لکھا ہو گا ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘۔ اب تو میڈم نور جہاں بھی نہیں ہیں آئمہ بیگ کے ترانے سننا پڑیں گے‘‘۔ یہ مجاہد یقینی طور پر سنی لیون کا کوئی پرستار معلوم ہوتا ہے جس نے بھارتی اداکارہ کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ جلد ہی ہم ساتھ ہونگے۔ وجے پٹیل نامی انڈین ’’کاکے شپاہی‘‘ نے جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے پاکستانیوں کو کہا کہ آج رات مت سونا جس پر ایک پاکستانی نے جواب دیا ہے کہ ’’کل ورکنگ ڈے ہے ہفتے کا دن رکھ لو‘‘۔ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاک بھارت جنگ دبئی میں کرانے کا فیصلہ، امریکا نے انڈیا کو دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان کو کچھ ہوا تو قرضہ آپ دیں گے‘‘۔ اپنی خطرناک دھمکیوں کے جواب میں سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا یہ ردعمل دیکھ کر مودی اور اس کے حواری کچھ بھی اُلٹا سیدھا کرنے سے پہلے یقینا ایک بار تو یہ سوچیں گے کہ انہوں نے کس قوم سے پنگا لے لیا ہے۔

مزیدخبریں