ایٹمی جنگ کا خطرہ، نہر ی منصوبہ بندی

09:17 AM, 28 Apr, 2025

مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں فائرنگ بہانہ، پاکستان نشانہ، پاک بھارت حالات کشیدہ، جوانی میں چائے بیچنے والا نریندر مودی بڑھاپا خراب کرنے کی غلطی کر بیٹھا، ’’جنگ کھیڈ نہیں ہوندی زنانیاں دی‘‘ (جنگ لینگ پوجا کرنے والی عورتوں کی نہیں اللہ کے غازیوں اور مجاہدوں کا کھیل ہے) پاک فوج دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد بھارتی وزیر اعظم مودی کی گیڈر بھبکیوں کا جواب دینے کے لیے تیار، بری، بحری اور فضائی شاہین الرٹ پاکستان بھارت کی ذیلی ریاست یا کمزور پڑوسی ملک نہیں ایٹمی طاقت ہے جس نے بھارت کی طرح ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ ہمارے میزائل غوری، النصر اور شاہین اشارہ پاتے ہی بھارت کے 27 شہروں میں تباہی مچا دیں گے۔ یہ شہر ہمارے نشانے پر ہیں۔ مودی نے جونہی پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کے بعد دھمکیوں کی پٹاری کھولی اسے پاکستان کی طرف سے ہوش اڑا دینے والے جوابی اقدامات سننے کو ملے، بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل یا منسوخ نہیں کر سکتا۔ ورلڈ بینک ضامن ہے دونوں فریق رجوع کریں گے تو نظر ثانی ہو گی۔ دریائوں کا پانی کسی نل یا مودی کی جیب سے نہیں آتا قدرتی راستے روکنے کے لیے بھارت کو دس سال لگ جائیں گے اربوں خرچ کر کے ڈیم بنائے گا جو پاکستانی میزائلوں کے نشانے پر ہوں گے۔ بھارت کے سارے دریا چین سے نکلتے ہیں بھارت نے کوئی حرکت کی تو چین پانی بند کر کے بھارت کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دے گا۔ پاکستان نے ایٹم بم چڑیاں مارنے کے لیے نہیں بنائے دہلی، ممبئی، کلکتہ سمیت سارے شہر نشانے پر ہیں۔ پاکستان نے شملہ معاہدہ توڑنے کی بھی دھمکی دے دی۔ ختم ہوا تو کنٹرول لائن پر لگی باڑ ختم ہو جائے گی بھارت روز در اندازی کا شور مچائے گا۔ پاکستان نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جس سے انڈین ایئر لائنز کو 13 ارب ماہانہ کا نقصان ہو گا۔ فضائی روٹ بدلنے سے دو گھنٹے کا اضافہ ہو گا۔ مسافر دیگر ایئر لائنز کو ترجیح دیں گے۔ انڈین ایئر لائنز اسی قسم کی فضائی حدود کی پابندی لگنے سے پہلے بھی دیوالیہ ہو چکی ہے۔ فضائی حدود کی بندش کے علاوہ تجارت بند، ویزے بند، واہگہ سیکٹر بند، بھارتی شہریوں کو یکم مئی تک پاکستان سے چلے جانے کا حکم، بھارت نے سفارتی عملہ کم کر دیا دفاعی اتاشی واپس بلا لیا۔ پاکستان نے بھی یہی کچھ کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ قومی اسمبلی، سینیٹ میں بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے متفقہ طور پر قرار دادیں منظور، مودی نے پاکستان کے تین صوبوں میں شورش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فالس فلیگ آپریشن کی حماقت کی لیکن اسے پلوامہ، راجوڑی، ممبئی کے ہوٹل اور ٹرین آتشزدگی جیسی کارروائیوں سے نقصان کے سوا کچھ نہ ملا۔ بھارتی عوام نے اس وقت بھی پاگل پن قرار دیا۔ جبکہ پہلگام فائرنگ کو مودی کی حماقت قرار دیا جا رہا ہے ایک کشمیری صحافی کے مطابق پہلگام آتے ہوئے دس فوجی چوکیوں پر تلاشی ہوتی ہے۔ کشمیری مجاہدین ان سے بچ کر کیسے نکل گئے کیا ان چوکیوں پر نابینا فوجی بیٹھے تھے (اس صحافی کو گرفتارکر لیا گیا) ساری کارروائی سوچا سمجھا منصوبہ تھا جو امریکی نائب صدر کے دورے کے موقع پر بنایا گیا۔ بھارتی میڈیا میں بھی ازلی احمق بیٹھے ہیں، 3 بجے سیاحوں پر فائرنگ ہوئی 3 بج کر 5 منٹ پر بھارتی ٹی وی پر بیٹھے احمقوں نے الزام پاکستان پر لگا دیا۔ کوئی ثبوت نہ گواہ، 7 لاکھ بھارتی فوج حملہ آوروں کا سراغ نہ لگا سکی پاکستان کے شیر دل جوانوں سے خوفزدہ ہیں۔ لیپا کی وادی میں جمعہ اور ہفتہ کی رات پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کی اللہ کے شیروں نے اللہ اکبر کے نعروں سے جوابی فائرنگ کر کے توپیں خاموش کرا دیں۔ 7 لاشیں اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی۔ مودی اور اس کے فوجی مرد میدان نہیں سازشی دہشت گرد ہیں۔ اس لیے وہ ایٹمی جنگ کی بجائے سفارتی جنگ لڑنے کو ترجیح دیں گے۔ جانتے ہیں کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جھکنے کے لیے نہیں جھکانے کے لیے پاکستان ہمیشہ زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے۔ 25 کروڑ عوام سب اختلافات بھلا کر اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں۔ اب کسی ابھی نندن نے ادھر آنے کی حماقت کی تو ہم دشمن دیں کو چائے ضرور پلائیں گے لیکن اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ وہ واپس جا کر ایوارڈ وصول کر سکے۔ بھارت کے طول و ارض میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سٹاک ایکسچینج کریش ہو گیا۔ بڑے تاجر اور صنعت کار دبئی فرار کی تیاری کر رہے ہیں۔ بھارت امریکا قربت دھری رہ گئی۔ 5 ملکوں چین، روس، ترکی، سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
بھارت کے ممتاز اور منفرد لہجہ کے شاعر راحت اندوری مرحوم نے کہا تھا ’’سرحدوں پر بہت تنائو ہے کیا، کچھ پتا تو کرو چنائو ہے کیا، خوف بکھرا ہے دونوں سمتوں میں، تیسری سمت کا دبائو ہے کیا؟‘‘
پی ٹی آئی کس طرف ہے، پارٹی کی مقامی قیادت نے بھارتی حملے کی صورت میں مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کیا۔ سینیٹ میں شبلی فراز نے بھی قرار داد کے حق میں پُرجوش تقریر کی تاہم دبے لفظوں میں کہا کہ خان کو رہا کر دیں وہی قوم کو یکجا کر سکتے ہیں۔ مقامی قیادت کے برعکس امریکہ برطانیہ میں بیٹھے بقول شخصے مفرور مسخروں کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی فوج کی حمایت کریں گے۔ محب وطن عوام کا مطالبہ ہے کہ عادل راجہ اور شہباز گل جیسے غداروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے کیونکہ ان جیسے لوگوں کے ڈی این اے مشکوک ہیں۔
نہروں کی تمیر کا کیا بنا، معاملہ ختم نہیں ہوا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات میں طے پایا کہ 2 مئی کو مشترکہ مفادات کونسل میں اس پر غور کیا جائے گا اور باہمی مشاورت سے اس منصوبہ کو جاری رکھنے کا ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اطمینان رکھیں پیپلز پارٹی الگ ہو گی نہ سسٹم کو نقصان پہنچے گا پاکستان معاشی ترقی کے جس ٹریک پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جلسوں، جلوس اور دھرنوں سے اسے خدانخواستہ ڈی ریل نہیں کیا جا سکے گا۔

مزیدخبریں