پاکستان: امن کا سفیر

02:34 PM, 27 Sep, 2026

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کو اگر صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ کے باہمی تصادم تک محدود کرکے دیکھا جائے تو بحران کی اصل وسعت نگاہ سے اوجھل رہ جاتی ہے۔ یہ خطہ تاریخ، مذہب، سلامتی، توانائی، بحری تجارت، داخلی سیاست، علاقائی رقابتوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کا ایسا پیچیدہ امتزاج ہے جس میں ایک محاذ کی کشیدگی دوسرے محاذ کو متاثر کرتی ہے۔ فلسطین، لبنان، شام، عراق، یمن، ایران کے علاقائی روابط، سعودی عرب کی سلامتی، بحیرہ احمر کی جہازرانی اور آبنائے ہرمز کی توانائی سے وابستگی، سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ چنانچہ یہاں داغا جانے والا ایک میزائل صرف عسکری ہدف کو نہیں چھوتا؛ اس کی بازگشت تیل کی قیمت، بحری بیمے، تجارتی راستوں اور عالمی معیشت تک پہنچ سکتی ہے۔
ایران کے علاقائی کردار کو سمجھنے کے لیے بھی جذباتی نعروں کے بجائے تاریخی اور سیاسی سیاق کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ 1979ئ کے انقلاب کے بعد تہران نے فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کو اپنی خارجہ حکمتِ عملی میں نمایاں مقام دیا اور لبنان، عراق، شام اور یمن میں مختلف سیاسی و عسکری عناصر سے روابط استوار کیے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ خطے کے ہر بحران کی واحد وجہ ایران ہے۔ لبنان کے اپنے داخلی عوامل تھے، عراق کا بحران 2003ئ کے بعد بیرونی مداخلت اور داخلی انتشار کے امتزاج سے گہرا ہوا، شام میں داخلی سیاسی تصادم نے صورتِ حال کو بگاڑا اور یمن میں داخلی تقسیم، اقتدار کی کشمکش اور بیرونی مداخلتیں باہم پیوست ہوگئیں۔ پیچیدہ بحرانوں کو ایک ہی سبب تک محدود کرنا تجزیے کو سہل تو بنا دیتا ہے، حقیقت کو نہیں۔
یمن کا حوثی محاذ اس پیچیدگی کی نمایاں مثال ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کے نزدیک حملوں نے یمن کے داخلی تنازع کو عالمی جہازرانی اور توانائی کے تحفظ سے جوڑ دیا ہے۔ ستمبر 2026ئ میں ریاض پر میزائل اور ڈرون حملوں کے حوثی دعووں اور سعودی حکام کی جانب سے بعض حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق نے اس خطرے کو مزید نمایاں کیا۔ یوں یمن کا بحران اب صرف یمنی سرزمین تک محدود نہیں بلکہ سعودی سلامتی، بحیرہ احمر کی تجارت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے بھی متعلق ہوچکا ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت غیرمعمولی سفارتی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں، دوسری جانب ایران اس کا ہمسایہ ہے؛ چین اس کا اہم تزویراتی و معاشی شراکت دار ہے اور ترکیہ کے ساتھ سیاسی و دفاعی روابط بھی مضبوط ہیں۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں؛ اس کے اثرات توانائی، تجارت، ترسیلاتِ زر، سرحدی سلامتی اور معاشی استحکام تک پہنچ سکتے ہیں۔
7 اگست 2026ئ کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں، اور اس کے تحت ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی بازدار صلاحیت اور دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا قرار دیا گیا ہے۔
یہاں دفاعی قوت اور جنگ پسندانہ خارجہ پالیسی کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ مضبوط دفاع لازماً جنگ کی خواہش کی علامت نہیں؛ بعض اوقات دفاعی قوت کا بنیادی مقصد ہی جنگ کو روکنا ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی شراکت داری کو برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کے راستے بھی کھلے رکھے۔ جولائی 2026ئ  میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پر تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا اور ایرانی و سعودی وزرائے خارجہ سمیت متعلقہ قیادت سے رابطے جاری رکھے۔
اس سفارتی توازن کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب بحران عالمی توانائی کے نظام کو متاثر کرے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025ئ میں اوسطاً تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات اس آبنائے سے گزریں، جو عالمی بحری تیل تجارت کا تقریباً 25 فیصد تھا۔ اسی راستے سے بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس بھی گزرتی ہے، جبکہ متبادل راستوں کی گنجائش محدود ہے۔
لہٰذا ہرمز یا باب المندب میں طویل عدمِ تحفظ کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا۔ جہازرانی کے اخراجات، بیمہ، تیل کی قیمتیں، صنعتی پیداوار اور درآمدی بل متاثر ہوسکتے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے 2026ئ کے بحران میں ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں شدید رکاوٹ کو عالمی تیل منڈی کی تاریخ کا غیرمعمولی رسدی اختلال قرار دیا ہے۔
موجودہ دور کا ایک اور اہم محاذ اطلاعاتی جنگ ہے۔ مصنوعی ذہانت نے جعلی تصاویر، مصنوعی آوازوں اور من گھڑت ویڈیوز کو زیادہ قابلِ یقین بنا دیا ہے۔ کسی بحران میں غلط اطلاع اگر فیصلہ ساز اداروں تک پہنچ جائے تو وہ غلط عسکری یا سفارتی ردِعمل پیدا کرسکتی ہے۔ اس لیے جدید قومی سلامتی میں سائبر تحفظ، اطلاعاتی تصدیق، قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ نگرانی بھی دفاعی صلاحیت کا حصہ ہیں۔
31 اگست 2026ئ کو استنبول میں مکہ معاہدے کے تحت مشترکہ تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے کشیدگی میں کمی، تحمل اور بحرانوں کے پْرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا۔ تینوں ممالک نے تعاون کو ادارہ جاتی بنانے اور سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس کی ابتدائی سربراہی تین برس کے لیے پاکستان سے مقرر کی جائے گی۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے محض دفاعی تعاون نہیں بلکہ سفارتی امکان بھی رکھتی ہے۔ اسلام آباد کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی مختلف علاقائی شراکت داریوں کو متصادم صف بندیوں کے بجائے رابطے کے ذرائع میں تبدیل کرے۔ ایران کے ساتھ ہمسائیگی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، چین کے ساتھ تزویراتی شراکت اور ترکیہ کے ساتھ سیاسی قربت، اگر باہمی کشمکش کے بجائے مکالمے کے راستے کھولنے میں استعمال ہوں تو پاکستان کی سفارتی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔
تاہم سفارتی کردار اور ہر تنازع کا ثالث بننے کے دعوے میں فرق ہے۔ پاکستان کو کسی بھی بحران میں اپنی حدود، قومی مفادات اور عملی صلاحیتوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ مؤثر سفارت کاری ہمیشہ کسی بڑے معاہدے کی شکل میں سامنے نہیں آتی؛ کبھی اس کی کامیابی صرف اتنی ہوتی ہے کہ متحارب فریقوں کے درمیان رابطے کا دروازہ کھلا رہے۔
بالآخر پاکستان کے لیے سوال یہ نہیں کہ دنیا کی ہر جنگ میں اسے کس طرف کھڑا ہونا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی طاقت، جغرافیائی حیثیت اور سفارتی رسائی کو کس مقصد کے لیے بروئے کار لاتا ہے۔ اگر دفاع جارحیت کو روکنے کی بازدار قوت بنے، سفارت کاری مکالمے کے امکانات زندہ رکھے اور علاقائی شراکت داری جنگ کے پھیلاؤ کے بجائے اس کی تحدید میں معاون ہو تو پاکستان اپنی جغرافیائی مجبوری کو سفارتی اثاثے میں بدل سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو مزید تصادم کے ایندھن سے زیادہ ایسے ذمہ دار رابطوں کی ضرورت ہے جو طاقت کو جنگ بڑھانے کے بجائے جنگ روکنے کی استعداد میں تبدیل کرسکیں۔پاکستان کے لیے یہی اس کے امن مشن کی اصل معنویت ہے۔ 

مزیدخبریں