بھارت میں ایک اور استعفیٰ

02:01 PM, 27 Sep, 2026

بھارت میں الیکشن کمیشن کی سپیشل انٹینسیو ریویزن یعنی ایس آئی آر نامی نئی ووٹر لسٹوں کا رولا چل رہا ہے۔ مگر اس میں دلچسپی کی وجہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی ہے جو پاکستان اور بھارت کے انتخابات میں جم کر ہوتی ہے۔ بلاشبہ الیکشن کمیشن آئینی طور پر ایک آزاد ادارہ ہے مگر بھارت میں اس پر سنگین الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جانب دار ہونے پر استعفیٰ بھی طلب کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں الیکشن کمیشن نے گزشتہ سال دوہزار پچیس میں  نئی ووٹر لسٹیں مرتب کی ہیں جن پر حالیہ ریاستی انتخابات کے بعد سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ایس آئی آر نامی یہ نئی ووٹر لسٹیں جاری ہونے کے بعد بھارت کی چار ریاستوں آسام، پسچم بنگال، کیرالہ، ٹمل ناڈو سمیت خصوصی انتظامی علاقے پڈوچیری میں انتخابات ہوئے ہیں۔ تاہم ان انتخابات کے نتائج گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں مختلف آئے ہیں۔ جسکی وجہ سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے ان نئی ووٹر لسٹوں کو منظم دھاندلی کا طریقہ بتا کر شور شرابہ مچا رکھا ہے۔
اتنی سیاست ہو رہی تھی تو بھلا نئے سیاسی کردار کاکروچ جنتا پارٹی والے کیسے پیچھے رہتے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے کرتے دھرتائوں نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر حکومتی سیاسی جماعت بی جے پی کا آلہ کار بتا کر استعفیٰ مانگ لیا ہے۔ اس بار استعفے کی مانگ کے ساتھ اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے جو جلد ختم ہو جائے گی۔ مگر اس پریس کانفرنس میں کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھی جیت دپتے نے گیانیش کمار کے دور میں ہونے والے جن ریاستی انتخابات کا حوالہ دیا ان میں گیانیش کمار الیکشن کمیشن کے چیف مقرر ہی نہیں ہوئے تھے۔
پاک و ہند میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ پر الزامات لگتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ انتخابات سے پہلے انتخابات کے وقت اور انتخابات کے بعد بھی لگتے ہیں۔ جن کے لئے  مختلف نام پری پول رگنگ، پول رگنگ اور پوسٹ پول رگنگ مختص ہیں۔ اسکے باوجود انتخابات میں براہ راست الیکشن کمیشن کی دھاندلی کو ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔
ڈیرھ ارب آبادی والے ملک بھارت میں عام انتخابات ایک روز میں نہیں ہوتے۔ وہاں مختلف ریاستوں میں مرحلہ وار لوک سبھا یعنی قومی اسمبلی کے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔ ایک سال کے عرصے میں ریاستی انتخابات میں نئی ووٹر لسٹوں کے تحت انتخابات کرائے گئے جن میں کئی شہروں اور ریاستوں میں شہریوں کے نام الیکشن کمیشن کی نئی مرتب کردہ ووٹر لسٹوں میں موجود نہیں تھے۔ ایسے ایک یا دو نہیں بلکہ ہزاروں افراد اور گھرانے سامنے آئے جس پر کبھی الیکشن کمیشن نے انہیں غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا ثابت کر کے سرکاری ووٹر لسٹوں سے نکالا تھا تو کہیں الیکشن کمیشن نے یہ کہا کہ یہ افراد دیگر ریاستوں میں منتقل ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یہ نام اس ریاست کی ووٹر لسٹ سے خارج کئے ہیں۔ کئی زندہ لوگوں کو ووٹر لسٹوں میں مار دیا گیا۔ کئی فوجی اور نیوی کے اعلیٰ افسران بھی الیکشن کمیشن کے زونل دفاتر یہ کہنے پہنچے کہ ہمیں کیوں نکالا ہم تو فوجی بھی ہیں اور ہمارا تو فوجی ریکارڈ بھی موجود ہے۔
دوسرا الزام جو بھارت میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں کانگریس، سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی اور ترینمول کانگریس لگا رہی ہیں وہ یہ ہے نئی ووٹر لسٹوں سے اپوزیشن کے ووٹرز کے نام نکالے گئے ہیں۔ ایسا اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہر ریاست کے انتخابات میں واضح اکثریت سے جتایا جا سکے۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں یک زبان ہو کر نئی ووٹر لسٹوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار کا استعفی طلب کر رہی ہے۔ جبکہ سابق الیکشن کمیشن کے سربراہ نے موجودہ چیف گیانیش کمار کی گرفتاری کی مانگ کر دی ہے۔ یہ انتہائی خطرناک صورت ہو سکتی ہے جسکی وضاحت اور تحقیقات ہونی چاہیے۔ کیونکہ بعض ریاستوں میں ایک عرصے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نہیں تھی مگر اس بار ان انتخابی لسٹوں کو نافذ العمل کرنے کے بعد نتائج بی جے پی کے حق میں آئے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے ایک مفصل تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ایس آئی آر میں ووٹرز رجسٹریشن، ناموں کو حذف کرنے، انتخابی فہرست کے ڈیٹا بیس اور اس پورے عمل سے متعلق مسائل پر گزشتہ 10 ماہ کے عرصے میں کم از کم 14 اعتراضات درج کرائے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق اس عمل کے دوران 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 13 کروڑ سے زیادہ نام جاری کردہ اور تیار ہونے والی ووٹر لسٹوں سے نکالے گئے ہیں۔ اتنی بڑی سطح پر ووٹر لسٹوں میں تبدیلی نے بھارت میں ایک بڑے سیاسی بحران کو جنم دے دیا ہے جسے سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اور یہ متنازع ووٹر لسٹیں بھارت میں مزید سیاسی اور انتخابی مسائل کھڑے کر سکتی ہیں۔

مزیدخبریں