وہ فیملی کوایک سائیڈپربٹھاکر کافی دیر سے ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے،ان کی بے چینی اور بے قراری کو ہم نے کئی بار نوٹ کیالیکن پھر ہم آپس کی گپ شپ اور اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے۔یہ ہمارے آبائی ضلع بٹگرام کے ویگن اڈے کا ایک منظر تھا۔ہم چاردوست اڈے کے فرنٹ پر قائم ایک ہوٹل میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ وہی نوجوان دوڑتے ہوئے اچانک ہماری طرف آئے اور پشتو میں پوچھنے لگے۔ راولپنڈی اسلام آبادکی گاڑی کہاں سے ملے گی۔؟ہم نے سامنے پنڈی والے سٹینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاوہاں سے مل جائے گی۔ نوجوان نے بے بسی سے نفی میں سر ہلایا اور بولا۔وہاں سے گاڑی نہیں جاتی۔وہ کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے کنٹینر لگا کر تمام راستے بند کردیئے ہیں۔ ہماری ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے اورہمیں ہرحال میں راولپنڈی جانا ہے۔ بظاہرتووہ نوجوان ہمارے آگے کھڑا تھامگر یوں لگ رہا تھاکہ جیسے وہ ہمارے آگے نہیں کسی بند راستے کے سامنے کھڑا ہو۔اس کی آنکھوں میں خوف تھا،لہجے میں التجا اور چہرے پر وہ بے بسی تھی جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ نہ پی ٹی آئی کا کارکن تھااورنہ حکومت کاکوئی مخالف۔ اس کے پاس صرف ایک ضرورت تھی اور اس ضرورت کے تحت انہیں ہرحال میں راولپنڈی پہنچنا تھامگرآگے راستے میں پوری سیاست کھڑی تھی۔ایک طرف سیاسی احتجاج ولانگ مارچ کا اعلان تھااوردوسری طرف حکومت کے کنٹینر تھے۔ ایک طرف سیاسی مطالبات تھے،دوسری طرف ریاستی انتظامات۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایساشخص کھڑا تھاجس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھامگرپھربھی اسی سیاست نے اس کی زندگی کا سب سے اہم راستہ بند کردیا تھا۔یہ واقعہ صرف ایک شخص کانہیں اس طرح کے حالات سے آج ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کوگزرناپڑرہاہے۔غریب عوام کی مجبوری،بے بسی اورلاچاری سے دل کھول کرکھیلنے کایہ کھیل کوئی نیانہیں۔اس بدقسمت ملک میں جب بھی کوئی سیاسی جماعت احتجاج کا اعلان کرتی ہے تو چند گھنٹوں یا دنوں کے لئے پورا ملک ایک عجیب سی کیفیت میں داخل ہوجاتا ہے۔حکومت سکیورٹی انتظامات بڑھاتی ہے،کنٹینر منگوائے جاتے ہیں،راستے بند کئے جاتے ہیں، موبائل سروس کی بندش کی خبریں آتی ہیں، پولیس کی نفری بڑھائی جاتی ہے اور شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ سیاسی کارکنوں کے لئے تویہ مزاحمت اورانجوائمنٹ کا وقت ہوتا ہے لیکن عام آدمی کے لئے یہ زندگی کا ایک اور مشکل دن بن کرسامنے آتا ہے۔ ہماری سیاست میں عوام سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے مگر عملی سیاست میں سب سے کم اہم کردار بھی اکثر عوام ہی کا ہوتا ہے۔حکومت کے خلاف احتجاج ہو تو بھی عوام اورحکومت کا دفاع ہو توبھی عوام مگر جب فیصلہ کرنے کا وقت آئے کہ احتجاج کہاں ہوگا، راستے کتنی دیر بند رہیں گے، کاروبار کتنا متاثر ہوگا، مریض کیسے ہسپتال پہنچیں گے،مزدور کی دیہاڑی کا کیا ہوگا، مسافر کہاں جائیں گے۔؟ توپھر یہی عوام اچانک کہیں پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔تحریک انصاف اپنے سیاسی مؤقف کے لئے احتجاج کرنا چاہتی ہے ایک نہیں ہزاراورلاکھ بار کرے۔ احتجاج جمہوری سیاست کا حصہ ہے۔ اپنے قائد کی رہائی یا اپنے مطالبات کے لئے آواز اٹھانا بھی سیاسی حق ہے لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے کہ عام شہری کی زندگی اجیرن نہ ہو۔دوسری طرف حکومت کابھی فرض ہے کہ امن و امان قائم رکھے۔ کسی احتجاج کو تشدد میں تبدیل ہونے سے روکے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے مگر ریاستی اختیار استعمال کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہر سیاسی احتجاج کے جواب میں پورے شہر اور پورے راستے کو بند کردیا جائے کیونکہ کنٹینر صرف احتجاج کرنے والوں کا راستہ نہیں روکتے۔ وہ ایمبولینس، مزدور، طالب علم، مسافر اور تاجر کا راستہ بھی روکتے ہیں۔ یہی کنٹینرکبھی کبھی ایسے شخص کا راستہ بھی روک لیتے ہیں جو آخری بار اپنے کسی پیارے کا چہرہ دیکھنے کے لئے ہسپتال پہنچنا چاہتا ہو۔ملک صرف سیاسی کارکنوں کا نہیں ہوتا۔ملک ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ان لوگوں کا بھی جو صبح دفتر جاتے ہیں اور شام کو گھر واپس آتے ہیں۔یہ ملک ان کابھی ہے جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیںاور اس ملک کے مالک وہ لوگ بھی ہیں جو صرف امن اور سکون سے اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ سیاست دانوں کو شائدیہ بات پھرسے یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کی زندگی ان کے سیاسی کیلنڈر کے مطابق نہیں چلتی۔اس کے گھر میں بچہ بیمار ہو تو اسے جلسے کی تاریخ نہیں دیکھنی ہوتی۔اسے نوکری پر پہنچنا ہو تو اسے احتجاج کا شیڈول معلوم نہیں ہوتا۔اسے ہسپتال جانا ہو تو اسے یہ نہیں معلوم کہ آج حکومت نے کس سڑک پر کنٹینر کھڑا کیا ہے۔وہ صرف آگے بڑھنے اورمنزل تک پہنچنے کے لئے راستہ چاہتا ہے اور یہی اس کاوہ بنیادی حق ہے جو ہماری سیاسی کشمکش بار بار اس سے چھین رہاہے۔پی ٹی آئی کے کارکن شائد یہ سمجھتے ہیں کہ کپتان کے نام پر نعرے لگانا اور سڑکوں پر نکلنا ایک بڑی سیاسی خدمت ہے اورحکومت کوشائد یہ لگے کہ کنٹینروں کے ذریعے راستے بند کرکے احتجاج کو روک لینا ریاستی کامیابی ہے مگر حقیقت میں احتجاج کایہ کھیل اس ملک کے غریب عوام کے لئے وہ کالا اژدھاہے جوانتہائی خاموشی کے ساتھ ان کونگل رہا ہے۔ دنیا چاندپرپہنچ گئی مگرہم ابھی تک احتجاج،لانگ مارچ اور کنٹینر کی سیاست سے باہرنہیں نکل سکے۔ سچ تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کی لڑائی میں آج بھی سب سے زیادہ رگڑا عام آدمی ہی کھا رہا ہے۔ایک طرف کارکن ہر دوسرے دن کپتان کے نام پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں تودوسری طرف حکومت وفاقی دارالحکومت سمیت دوسرے شہروں میں کنٹینر لگا کررہی سہی کسرنکال دیتی ہے۔حکومت اوراپوزیشن کی مرضی یہ آپس میں چاہے جوبھی کھیل کھیلیں لیکن خداراغریب عوام کواپنے اس کھیل کاایندھن نہ بنائیں۔
احتجاجی سیاست۔۔عوام کاکیاقصور۔؟
09:27 AM, 27 Sep, 2026